حدیث نمبر: 10288
وَعَنِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ حُنَيْنٍ - أَنَا أَشُكُّ - بِسَهْمٍ فِي ثُنْدُوَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزَعِ السَّهْمَ ، قَالَ : " يَا رَافِعُ ، إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ ، وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزَعِ السَّهْمَ وَدَعِ الْقُطْبَةَ ، قَالَ : فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَامْرَأَةُ رَافِعٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو غزوہ احد کے موقع پر یا جنگ حنین کے موقع پر پہلو میں ایک تیر لگ گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تیر نکال دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے رافع اگر تم چاہو ، تو تم تیر اور اس کا پھل دونوں نکلوا لو اگر تم چاہو ، تو میں تیر نکال دیتا ہوں ، اور پھل اندر رہنے دیتا ہوں ، اور قیامت کے دن میں تمہارے حق میں یہ گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تیر نکال دیں ، اور پھل اندر رہنے دیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر نکال دیا ، اور پھل رہنے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4242) اخرجه احمد فى المسند (378/6)»