حدیث نمبر: 10269
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : زَيْدٌ ، وَهُوَ آخِذٌ بِعِنَانِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّهْبَاءِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْحَكَ ادْعُ النَّاسَ " . فَنَادَى زَيْدٌ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ . فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " ادْعُ الْأَنْصَارَ " . فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ . فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ خُصَّ الْأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ " . فَنَادَى : يَا مَعْشَرَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ . فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ خُصَّ الْمُهَاجِرِينَ ; فَإِنَّ لِي فِي أَعْنَاقِهِمْ بَيْعَةً " . ¤ قَالَ : فَحَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْهُمْ أَلْفٌ قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَشَوْا قُدُمًا حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے آپ کے ساتھ صرف ایک شخص باقی رہ گیا جس کا نام زید تھا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر شہبا کی لگام پکڑی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو تم لوگوں کو بلاؤ تو زید نے بلند آواز میں پکارا اے لوگو یہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی شخص نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انصار کو بلاؤ اس نے کہا: اے انصار کے گروہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی شخص نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم بطور خاص اوس اور خزرج کو بلاؤ تو اس نے پکار کے کہا: اے اوس اور خزرج کے گروہ یہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بطور خاص مہاجرین کو بلاؤ کیونکہ ان کی گردنوں میں میری بیعت ہے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ پھر وہ لوگ اس طرح آئے کہ انہوں نے میانیں ایک طرف رکھ دیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور پھر انہوں نے پیش قدمی شروع کی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1828)»