حدیث نمبر: 10286
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ : مَالِكُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سَعْدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ يَرْبُوعِ بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ دَهْمَانَ بْنِ نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ هَوَازِنَ . ¤ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ : وَكَانَ عَوْفٌ رَئِيسًا مِقْدَامًا كَانَ أَوَّلُ ذِكْرِهِ وَمَا شُهِرَ مِنْ بَلَائِهِ يَوْمَ الْفِجَارِ مَعَ قَوْمِهِ كَثُرَ صَنِيعُهُ يَوْمَئِذٍ ، وَهُوَ عَلَى هَوَازِنَ حِينَ لَقِيَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَاقَ مَعَ النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ ، فَخَالَفَهُ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ فَلَجَّ وَأَبَى ، فَصَارُوا إِلَى أَمْرِهِ فَلَمْ يَحْمَدُوا رَأْيَهُ ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسَهُمْ ، فَلَمَّا رَأَى هَزِيمَةَ أَصْحَابِهِ قَصَدَ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ شَدِيدَ الْإِقْدَامِ ، لِيُصِيبَهُ زَعْمٌ ، فَوَافَاهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ ، فَقَاتَلَهُ وَحَمَلَ فَرَسَهُ مِحَاجًا فَلَمْ يُقْدِمْ ، ثُمَّ أَرَادَهُ وَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُقْدِمْ ، فَقَالَ . ¤ أَقْدِمْ مَحَاجُ إِنَّهُ يَوْمٌ نُكُرْ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ يَحْمِي وَيَكِرْ وَيَطْعَنُ الطَّعْنَةَ تَفْرِي وَتُهِرْ ¤ لَهَا مِنَ الْبَطْنِ نَجِيعٌ مُنْهَمِرْ وَثَعْلَبُ الْعَامِلَ فِيهَا مُنْكَسِرْ ¤ إِذَا اجْرَأَلَّتْ زُمَرٌ بَعْدَ زُمَرْ ¤ ثُمَّ شَهِدَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ الْقَادِسِيَّةَ فَقَالَ : ¤ أَقْدِمْ مَحَاجِ إِنَّهَا الْأَسَاوِرَهْ وَلَا يَهُولَنَّكَ رَجُلٌ نَادِرَهْ ¤ ثُمَّ انْهَزَمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَصَارَ إِلَى الطَّائِفِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَتَانِي لَأَمَّنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً " . فَجَاءَ فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ ، وَوَجَّهَهُ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الطَّائِفِ . ¤ وَكَتَبَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَسْتَمِدُّهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : تَسْتَمِدُّنِي وَأَنْتَ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ ، وَمَعَكَ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : حَنْظَلَةُ الْكَاتِبُ . ¤ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ : فَحَدَّثَنِي بَعْضُ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي يَتَأَلَّفُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ آخُذَ عَلَى الْإِسْلَامِ أَجْرًا ، فَأَنَا أَرُدُّهَا قَالَ : إِنَّهُ لَمْ يُعْطِكَهَا إِلَّا وَهُوَ يَرَى أَنَّهَا لَكَ حَقٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ خَيَّاطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْجُمَحِيِّ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں : مالک بن عوف بن سعد بن ربیعہ بن یربوع بن واثلہ بن دہمان بن نصر بن معاویہ بن بکر بن ہوازن ابن سلام کہتے ہیں عوف نامی صاحب ایک رئیس اور پیشوا تھے ان کا ذکر اور ان کی شہرت کا آغاز یوم فجار سے ہوا تھا جب وہ اپنی قوم کے ساتھ تھے اس موقع پر انہوں نے بڑا کام کیا تھا ، اور وہ اس وقت ہوازن کے امیر تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے ساتھ مقابلہ کیا تھا وہ اپنے ساتھ اپنے اموال اور بال بچے بھی لے کے آئے تھے درید بن صمہ نے ان کی مخالفت کی وہ اندر چلے گئے ، اور انکار کیا ، تو سارا معاملہ اس کی طرف آ گیا انہوں نے اس کی رائے کی تعریف نہیں کی وہ ان دنوں ان کا رئیس تھا جب اس نے اپنے ساتھیوں کی ہزیمت دیکھی تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کیا وہ تیزی سے پیش قدمی کرنے والا شخص تھا تاکہ آپ کو نقصان پہنچائے ، تو سیدنا مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں آئے ، اور انہوں نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس کے گھوڑے پر محاج کو سوار کیا لیکن وہ آگے نہیں بڑھا پھر انہوں نے اس کا ارادہ کیا اور بلند آواز میں اسے پکارا تو وہ آگے نہیں بڑھا تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ” اے محاج آگے بڑھو ، یہ نا قابل برداشت دن ہے ، میرے جیسا تم جیسے پر حمایت کرتا ہے اور پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے ، اور ایسا وار کرتا ہے ، جو دہشت زدہ اور اضطراب کا شکار کر دیتی ہے ، اس سے پیٹ سے تیزی سے خون بہنے لگتا ہے ، اور اس میں کام کرنے والے کے نیزے کا سرا ٹوٹ جاتا ہے ، جب ایک کے بعد دوسرے گروہ بلند ہوتے ہیں “ اس کے بعد جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے وہاں انہوں نے یہ اشعار کہے تھے ” اے محاج ! آگے بڑھو ! یہ ان کے شہسوار ہیں اور ان کا نادر ( یعنی مختلف ) ہونا تمہیں ہولناکی کا شکار نہ کرے “ ۔ پھر وہ حنین سے پسپا ہو گئے ، اور طائف چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ میرے پاس آ گیا تو میں اسے امان بھی دوں گا اور اسے ایک سو ( اونٹ ) بھی دوں گا پھر وہ صاحب آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل طائف کے ساتھ جنگ کے لئے بھیجا ۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں ان سے مدد مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا تھا کہ تم مجھ سے مدد مانگ رہے ہو حالانکہ تمہارے پاس دس ہزار افراد موجود ہیں تمہارے پاس مالک بن عوف ہے حنظلہ بن ربیعہ ہے یہ وہی صاحب ہیں ، جنہیں حنظلہ کاتب کہا: جاتا ہے ۔ ابن سلام بیان کرتے ہیں : ان کی قوم کے کسی فرد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس لئے ( مال ) عطا کیا تھا تاکہ اسلام کے حوالے سے میری تالیف قلب کریں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اسلام قبول کرنے کا معاوضہ وصول کروں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسے واپس کروں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمہیں صرف اس لئے دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ یہ تمہارا حق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے خلیفہ بن خیاط کے حوالے سے محمد بن سلام جمحی سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10286
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/19)»