حدیث نمبر: 10274
وَعَنْ يَاسِرٍ قَالَ : كَانَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : ¤ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَنْ يَقِفَ هُوَ وَقَوْمُهُ جُهَيْنَةُ بْنُ زَيْدٍ يَوْمَ هَوَازِنَ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ جُهَيْنَةَ ، كُونُوا بِأَعْقَابِ بَنِي سُلَيْمٍ فَإِنْ جَاشُوا فَضَعُوا السِّلَاحَ بِأَقْفِيَتِهِمْ وَشِعَارِهِمْ " . ¤ فَجَاشَتْ يَوْمَئِذٍ قَبِيلَةٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو عَصِيَّةَ ; لِأَنَّهُمْ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَتَلَتْهُمْ جُهَيْنَةُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُهَيْنَةَ ، فَتَقَدَّمَتْ إِلَى هَوَازِنَ وَصَرَفَ سُلَيْمًا عَنْ مَوْقِفِهِمْ ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ يَوْمَئِذٍ وَكَثُرَ الْقَتْلُ فِيهِمْ ، وَقَتَلَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ يَوْمَئِذٍ ابْنَ ذِي الْبُرْدَيْنِ الْهِلَالِيَّ ، وَكَانَ لِجُهَيْنَةَ فِيهِمْ بَلَاءٌ حَسَنٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

یاسر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اور ان کی قوم جہینہ بن زید کے لوگ جنگ ہوازن کے دن ٹھہر جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جہینہ قبیلے کے لوگو تم بنوسلیم کے عقب میں رہنا اگر وہ سرکش ہوئے ، تو تم ہتھیار ان کی گدی پر رکھنا ، تو اس دن ان میں سے ایک قبیلہ سرکش ہو گیا ، جس کا نام بنو عصیہ تھا کیونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تو جہینہ قبیلے کے لوگوں نے ان کے ساتھ لڑائی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ کو حکم دیا ، تو وہ بڑھ کر ہوازن کی طرف گئے ، اور انہوں نے سلیم قبیلے کو ان کی جگہ سے پھیر دیا اس دن اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اس دن بہت قتل و غارت گری ہوئی تھی ، سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے اس دن ابن ذی بردین ہلالی کو قتل کیا اور جہینہ قبیلے کے لئے اس میں بڑی عمدہ آزمائش تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف