مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوہ حنین کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَوَلَّى [ عَنْهُ ] النَّاسُ ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ . ¤ فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا ، وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ ، وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا ، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ ، فَقُلْتُ [ لَهُ ] : ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : " نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ " . فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ، [ ثُمَّ ] قَالَ : " أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ؟ " قُلْتُ : هُمْ أُولَاءِ ، قَالَ : " اهْتِفْ بِهِمْ " فَهَتَفَ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا راوی کہتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر مڑ گئے آپ کے ساتھ اسی افراد رہ گئے جن کا تعلق مہاجرین اور انصار سے تھا ہم اسی قدم کے لگ بھگ پیچھے ہٹے تھے لیکن ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی یہ وہ لوگ ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے کی طرف بڑھ رہے تھے آپ اپنے خچر کو لے کے آگے بڑھ رہے تھے ، تو اسی دوران اس کی زین ہٹ گئی میں نے آپ سے کہا: آپ اٹھیں اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے مٹھی بھر مٹی دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان لوگوں کے منہ پر پھینکی تو وہ ان کی آنکھوں میں بھر گئی پھر آپ نے دریافت کیا : مہاجرین اور انصار کہاں ہیں میں نے عرض کی : وہ یہاں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انہیں پکارو میں نے انہیں پکارا تو وہ لوگ آ گئے ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں وہ شہاب کی طرح تھے اور پھر مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔