کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
"ينشونشو يقرءون القرآن لا يجأوز تراقيهم كلما خرج قرن قطع كلما خرج قرن قطع حتى يخرج في أعراضهم الدجال "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک ایسی نسل پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، جب بھی ان کی ایک جماعت نکلے گی اسے کاٹ دیا جائے گا، جب بھی ایک جماعت نکلے گی اسے کاٹ دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہی کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نکلے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. الصحيحة ٢٤٥٥.
«ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لڑکے کے پیشاب پر (پانی) چھڑکا جائے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن علي. المشكاة ٥٠١، صحيح أبي داود ٣٩٩.
«*» - [يهرم ابن آدم ويبقى معه اثنتان: الحرص والأمل]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ دو چیزیں باقی رہتی ہیں: حرص اور امید۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أنس. الصحيحة ١٩٠٦: حم، ع.
«يهرم ابن آدم ويشب فيه اثنتان: الحرص على المال والحرص على العمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اس میں دو چیزیں جوان (تروتازہ) رہتی ہیں: مال کی حرص اور عمر (لمبی زندگی) کی حرص۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت هـ] عن أنس. الصحيحة ١٩٠٦: حم، ع.
«يهلك الناس هذا الحي من قريش قالوا: فما تأمرنا؟ قال: لو أن الناس اعتزلوهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کاش لوگ ان سے الگ ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«يهل أهل المدينة من ذي الحليفة ويهل أهل الشام من الجحفة ويهل أهل نجد من قرن ويهل أهل اليمن من يلملم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام والے جحفہ سے احرام باندھیں، نجد والے قرن سے احرام باندھیں اور یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن ابن عمر. الإرواء ٩٩٩، صحيح أبي داود.
«يود أهل العافية يوم القيامة حين يعطى أهل البلاء الثواب لوأن جلودهم كانت قرضت في الدنيا بالمقاريض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن جب آزمائش والوں کو ثواب دیا جائے گا تو تندرست لوگ تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی جاتیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن جابر. المشكاة ١٥٧٠، الترغيب ٤/١٤٦.
«يوشك أحدكم أن يصلي الفجر أربعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھنے لگے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عبد الله بن بحينة. م ٢/١٥٤.
" يوشك الفرات أن يحسر عن جبل من ذهب، فإذا سمع به الناس ساروا إليه فيقول من عنده: والله لئن تركنا الناس يأخذون منه ليذهبن به كله فيقتتلون عليه حتى يقتل من كل مائة تسعة وتسعون "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ فرات (نامی نہر) سونے کے پہاڑ سے پردہ اٹھا دے، پس جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے، تو جو اس کے پاس ہو گا وہ کہے گا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے لوگوں کو اس میں سے لینے دیا تو وہ سارا لے جائیں گے، پس وہ اس پر آپس میں لڑیں گے یہاں تک کہ ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي. م ٨/١٧٥.
«يوشك الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ فرات سونے کے خزانے سے پردہ اٹھا دے، پس جو اس کے پاس موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠١٦.
«يوشك المسلمون أن يحاصروا إلى المدينة حتى يكون أبعد مسالحهم سلاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ مسلمانوں کو مدینہ کی طرف محصور کر دیا جائے یہاں تک کہ ان کی سب سے دور چوکی ’سلاح‘ ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8181
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن ابن عمر. المشكاة ٥٤٢٧.
«يوشك الناس يتساءلون حتى يقول قائلهم: هذا الله خلق الخلق فمن خلق الله؟ فإذا قالوا ذلك فقولوا: {اللَّهُ أَحَدٌ. اللَّهُ الصَّمَدُ. لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ. وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ} ثم ليتفل عن يساره ثلاثا وليستعذ من الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے کرتے یہاں تک کہہ اٹھیں: یہ اللہ ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب وہ ایسا کہیں تو تم یہ پڑھو: اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٨.
«يوشك أن تداعى عليكم الأمم من كل أفق كما تداعى الأكلة إلى قصعتها قيل: يا رسول الله! فمن قلة يومئذ؟ قال: لا ولكنكم غثاء كغثاء السيل يجعل الوهن في قلوبكم وينزع الرعب من قلوب عدوكم لحبكم الدنيا وكراهيتكم الموت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ (دشمن) امتیں تم پر ہر طرف سے یوں ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے اپنے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا اس دن ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس دن تم بہت زیادہ ہو گے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح (بے وقعت) ہو گے، اللہ تمہارے دلوں میں کمزوری (وہن) ڈال دے گا اور تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا، اس وجہ سے کہ تم دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کرتے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن ثوبان. الصحيحة ٩٥٦.
«يوشك إن طالت بك مدة أن ترى قوما في أيديهم مثل أذناب البقر يغدون في غضب الله ويروحون في سخط الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تو ایسے لوگوں کو دیکھے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں جیسی چیزیں ہوں گی، وہ صبح اللہ کے غضب میں نکلیں گے اور شام اللہ کی ناراضگی میں کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٨٩٣: حم، ك، البزار.
" يوشك أن يأتي زمان يغربل فيه الناس غربلة، وتبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا فكانوا هكذا - وشبك بين أصابعه - قالوا: كيف بنا يا رسول الله؟ قال: تأخذون ما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على أمر خاصتكم وتذرون أمر عامتكم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے جس میں لوگوں کو خوب چھانٹا جائے گا اور صرف نکمے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے عہد اور امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی اور وہ آپس میں اس طرح اختلاف کریں گے - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو (بھلائی) تم پہچانتے ہو اسے اختیار کرو اور جو (برائی) تم نہ پہچانو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملات کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8185
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن ابن عمر. الصحيحة ٢٠٥.
«يوشك أن يقعد الرجل متكئا على أريكته يحدث بحديث من حديثي فيقول: بيننا وبينكم كتاب الله فما وجدنا فيه من حلال استحللناه وما وجدنا فيه من حرام حرمناه ألا وإن ما حرم رسول الله مثل ما حرم الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ ایک آدمی اپنی مسند پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے تو وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کے لیے) صرف اللہ کی کتاب ہے، جو چیز ہمیں اس میں حلال ملے گی اسے حلال سمجھیں گے اور جو حرام ملے گی اسے حرام سمجھیں گے۔ خبردار! جو چیز رسول اللہ ﷺ نے حرام قرار دی ہے وہ ایسی ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن المقدام. المشكاة ١٦٣.
«يوشك أن يكون خير مال المسلم غنما يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں، جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں میں پھرتا رہے، فتنوں سے بچ کر اپنے دین کو (محفوظ رکھنے کے لیے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ د ن هـ] عن أبي سعيد. المشكاة ٥٣٨٦.
«يوشك يا معاذ إن طالت بك حياة أن ترى ما هاهنا قد ملئ جنانا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے معاذ! قریب ہے کہ اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تو دیکھے گا کہ یہاں (یہ جگہ) باغات سے بھر چکی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ١٥٣٠، الصحيحة ١٢١٠: مالك، ابن خزيمة.
«يوضع الصراط بين ظهراني جهنم عليه حسك كحسك السعدان ثم يستجيز الناس فناج مسلم ومخدوش به ثم ناج ومحتبس به ومنكوس فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پل صراط جہنم کے درمیان رکھا جائے گا، اس پر سعدان (کانٹے دار پودے) جیسے کانٹے ہوں گے، پھر لوگ اس پر سے گزریں گے، تو کوئی صحیح سالم بچ جانے والا ہو گا، کوئی زخمی ہو کر بچنے والا ہو گا، پھر کوئی بچ جانے والا اور کوئی (کانٹوں میں) اٹک جانے والا ہو گا اور کوئی اس میں الٹا گر جانے والا ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب ك] عن أبي سعيد. م ١/١١٥ - ١١٧.
«يوم الجمعة ثنتا عشرة ساعة منها ساعة لا يوجد عبد مسلم يسأل الله فيها شيئا إلا آتاه الله إياه فالتمسوها آخر ساعة بعد العصر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کے دن بارہ گھڑیاں ہوتی ہیں، ان میں سے ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اس میں اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ اسے ضرور عطا کرتا ہے، پس اسے عصر کے بعد آخری گھڑی میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك] عن جابر. صحيح أبي داود ٩٦٦، صحيح الترغيب ٧٠٥.
«يوم الحج الأكبر يوم النحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حجِ اکبر کا دن قربانی (دسویں ذی الحجہ) کا دن ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8191
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن علي. الإرواء ١١٠١.
«يوم الفطر ويوم النحر وأيام التشريق عيدنا أهل الإسلام وهي أيام أكل وشرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عید الفطر کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہلِ اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٣ ك] عن عقبة بن عامر.
«يوم القيامة على المؤمنين كقدر ما بين الظهر والعصر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کا دن مومنوں پر ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کے برابر (ہلکا) ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٤٥٦: الديلمي. فصل في المحلى بـ [ال] من هذا الحرف.
«اليتيمة تستأمر في نفسها فإن صمتت فهو إذنها وإن أبت فلا جواز عليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یتیم لڑکی سے اس کے (نکاح کے) بارے میں مشورہ لیا جائے، پس اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کرے تو اس پر (نکاح) جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الإرواء ١٨٢٨، ١٨٣٤.
«اليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور (خرچ کرنے میں) پہلے ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن عمر. تخريج مشكلة الفقر ٤٤.
«اليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول وخير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ومن يستغن يغنه الله ومن يستعفف يعفه الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور پہلے ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمے ہے، اور بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں دیا جائے، اور جو بے نیازی چاہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، اور جو (سوال سے بچنے کی) عفت چاہے اللہ اسے عفت عطا کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8196
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن حكيم بن حزام. الإرواء ٨٣٤.
«اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا هي: المنفقة واليد السفلى هي: السائلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٦٠.
«اليمين على ما يصدقك به صاحبك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قسم اس بات پر (معتبر) ہے جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8198
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. م ٥/٨٧١.
«اليمين على نية المستحلف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قسم قسم لینے والے کی نیت کے مطابق ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠١٥.
"اليوم الموعود يوم القيامة والشاهد يوم الجمعة والمشهود يوم عرفة ويوم الجمعة ذخره الله لنا وصلاة الوسطى صلاة العصر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وعدہ کیا ہوا دن قیامت کا دن ہے، شاہد (گواہ) جمعہ کا دن ہے، اور مشہود (جس میں حاضری دی جائے) عرفہ کا دن ہے، اور جمعہ کا دن اللہ نے ہمارے لیے خاص کر رکھا ہے، اور درمیانی نماز عصر کی نماز ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي مالك الأشعري. الصحيحة ١٥٠٢: ابن جرير.
«اليوم الموعود يوم القيامة واليوم المشهود يوم عرفة والشاهد يوم الجمعة وما طلعت الشمس ولا غربت على يوم أفضل منه فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم يدعو الله بخير إلا استجاب الله له ولا يستعيذ من شر إلا أعاذه الله منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وعدہ کیا ہوا دن قیامت کا دن ہے، اور مشہود دن عرفہ کا دن ہے، اور شاہد جمعہ کا دن ہے، اور سورج نہ کسی دن پر طلوع ہوا اور نہ غروب ہوا جو اس سے افضل ہو، اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ اسے پا لے اور اللہ سے کسی بھلائی کی دعا مانگے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے، اور جو کسی برائی سے پناہ مانگے تو اللہ اسے ضرور اس سے پناہ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هق] عن أبي هريرة. المشكاة ١٣٦٢، الصحيحة ١٥٠٢.
«اليهود مغضوب عليهم والنصارى ضلال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہود مغضوب علیہم (جن پر غضب کیا گیا) ہیں اور نصاریٰ ضالین (گمراہ) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عدي بن حاتم. شرح الطحاوية ٨١١. >> اذهب