صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
حدیث نمبر: 8185
" يوشك أن يأتي زمان يغربل فيه الناس غربلة، وتبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا فكانوا هكذا - وشبك بين أصابعه - قالوا: كيف بنا يا رسول الله؟ قال: تأخذون ما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على أمر خاصتكم وتذرون أمر عامتكم"ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے جس میں لوگوں کو خوب چھانٹا جائے گا اور صرف نکمے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے عہد اور امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی اور وہ آپس میں اس طرح اختلاف کریں گے - اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو (بھلائی) تم پہچانتے ہو اسے اختیار کرو اور جو (برائی) تم نہ پہچانو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملات کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دو۔“