حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةُ الْبَصْرَةَ، فَقَالَتْ: بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَرَنَا أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضَ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا ہمارے پاس بصرہ تشریف لائیں، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، یعنی نبی کریم ﷺ پر: ”آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں جوان کنواری لڑکیوں، پردہ نشین عورتوں اور حیض والی عورتوں کو نکالیں، البتہ حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہتیں مگر بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْ نُخْرِجَهُنَّ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ، قَالَتْ: فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: فَقُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لَا يَكُونُ لَهَا الْجِلْبَابُ؟ قَالَ: «تُلْبِسُهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا» . قَالَ هِشَامٌ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَذْكُرُهُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ حَفْصَةَ أَحْفَظُ.
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تسلسل ہے: … پردہ نشین عورتیں اور حیض والی عورتیں (نکلتیں)، حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہتیں مگر بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتیں۔ ہم نے عرض کیا: اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنی چادر میں سے اسے پہنا دے۔“
ہشام کہتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین کو یہ حدیث ام عطیہ سے بیان کرتے سنا، لیکن مجھے حفصہ کی روایت زیادہ یاد ہے۔
ہشام کہتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین کو یہ حدیث ام عطیہ سے بیان کرتے سنا، لیکن مجھے حفصہ کی روایت زیادہ یاد ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ «
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِصْطَخْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبَّادٍ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ يَوْمَ الْفِطْرِ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضَ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: «تُلْبِسُهَا أُخْتُهَا جِلْبَابَهَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تسلسل ہے: … پردہ نشین عورتیں اور حیض والی عورتیں (نکلتیں)، حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہتیں مگر بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنی چادر اسے پہنا دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُحَيَّاةُ، وَالْبِكْرُ قَالَتْ، وَالْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں عیدین میں نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، خواہ پردہ نشین ہو یا کنواری، اور حیض والی عورتیں بھی نکلتیں اور لوگوں کے پیچھے رہ کر لوگوں کے ساتھ تکبیر کہتیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ عَطِيَّةَ هَلِ سَمِعْتِ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي الْمَرْأَةِ لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ هَلْ تَشَهْدُ الْعِيدَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِأَبِي، وَكَانَتْ إِذَا حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: بِأَبِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ مُصَلًّى الْمُسْلِمِينَ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جوان کنواری لڑکیوں اور پردہ نشین عورتوں کو نکالو تاکہ وہ عید اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، اور حیض والی عورتیں عید گاہ سے الگ رہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِنَحْوِهِ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ، حَتَّى تَخْرُجَ الْجَوَارِي وَالْعَوَاتِقُ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِأُمِّ عَطِيَّةَ: وَالْحُيَّضُ؟ قَالَتْ: وَالْحُيَّضُ يَخْرُجْنُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى، وَيَذْكُرْنَ اللهَ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین کے دن نکلیں، یہاں تک کہ نوجوان لڑکیاں اور جوان کنواری لڑکیاں بھی نکلیں۔ حفصہ کہتی ہیں: ایک عورت نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اور حیض والی عورتیں؟ انہوں نے فرمایا: حیض والی عورتیں بھی نکلتیں، مگر نماز کی جگہ سے الگ رہتیں اور اللہ کا ذکر کرتیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «أَخَذَ عَلَيْنَا فِي الْبَيْعَةِ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ، فَمَا وَفَّى مِنْهُنَّ غَيْرُ خَمْسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ الْعَلَاءِ وَبِنْتُ أَبِي سَبْرَةَ وَأُمُّ مُعَاذٍ بِنْتُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: بیعت کے وقت ہم سے یہ عہد لیا گیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی، تو ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اسے پورا نہیں کیا: ام سلیم، ام العلاء، بنت ابی سبرہ، ام معاذ بنت ابی سبرہ اور ایک اور عورت۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا، وَنَهَانَا عَنِ النَّوْحِ، فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ مِنَّا يَدَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةَ أَسْعَدَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ قَالَتْ: فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا أُمَّ سُلَيْمٍ وَأُمَّ الْعَلَاءِ وَبِنْتَ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةَ مُعَاذٍ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، تو آپ ﷺ نے ہمیں پڑھ کر سنایا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، اور آپ ﷺ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔ ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ روک لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں عورت نے نوحے میں میری مدد کی تھی اور میں چاہتی ہوں کہ میں اس کا بدلہ چکاؤں۔ آپ ﷺ نے اسے کچھ نہیں فرمایا، تو وہ چلی گئی، پھر واپس آئی۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو ہم میں سے کسی عورت نے اس عہد کو پورا نہیں کیا سوائے ام سلیم، ام العلاء، بنت ابی سبرہ اور معاذ کی بیوی کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: كَانَ فِيمَا «أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بیعت کے وقت ہم سے جو عہد لیا اس میں یہ بھی تھا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا أَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ أَنْ لَا نَنُوحَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدَتْنِي، فَلَنْ أُبَايِعَكَ حَتَّى أَسْعِدَهُنَّ، قَالَتْ فَأَسْعَدْتُهُنَّ، ثُمَّ بَايَعَتْهُ قَالَتْ: فَلَمْ تَفِ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرِي وَأُمُّ سُلَيْمٍ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، تو آپ ﷺ نے ہمیں جن نیک کاموں کا حکم دیا ان میں یہ بھی تھا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں گھرانے نے نوحے میں میری مدد کی تھی، میں آپ سے اس وقت تک بیعت نہیں کروں گی جب تک میں ان کی مدد نہ کر دوں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: چنانچہ میں نے ان کی مدد کی، پھر آپ ﷺ سے بیعت کی۔ میرے اور ام سلیم کے سوا ہم میں سے کسی عورت نے اس عہد کو پورا نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: فِي " قَوْلِهِ: {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: ١٢] ، قَالَتْ: مِنْهُ النَّوْحُ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَايَعْنَاهُ أَنْ لَا نَعْصِينَهُ فِي مَعْرُوفٍ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور وہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں“ [سورۃ الممتحنہ: 12] کے بارے میں کہتی ہیں: اس میں نوحہ کی ممانعت بھی شامل ہے۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا جب ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی کہ ہم نیک کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی: یا رسول اللہ! سوائے فلاں گھرانے کے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، لَا نَتَطَيَّبُ، وَلَا نَكْتَحِلُ، وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، قَالَتْ: وَقَدْ رَخَّصَ لَهُنَّ حِينَ يَغْتَسِلْنَ فِي الطُّهْرِ فِي الْقُسْطِ وَالْأَظْفَارِ "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کیا جاتا تھا، اور یہ کہ ہم خوشبو نہ لگائیں، سرمہ نہ ڈالیں، اور رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنیں سوائے عصب (دھاری دار) کپڑے کے۔ انہوں نے کہا: البتہ عورتوں کو طہر کے وقت غسل کرتے ہوئے قسط اور اظفار (خوشبودار جڑی بوٹیوں) کی اجازت دی گئی تھی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَا ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، لَا تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَطَيَّبُ» وَقَالَ هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، وہ شوہر کے سوا کسی میت پر سوگ نہ منائے، نہ سرمہ لگائے، نہ خضاب کرے، نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے سوائے عصب کے کپڑے کے، اور نہ خوشبو لگائے۔
ہشام نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
ہشام نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا الْمَرْأَةُ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَطَيَّبُ، إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا، تَطَيَّبُ بِقُسْطٍ وَأَظْفَارٍ» ،
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، سوائے شوہر کے کہ وہ اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن سوگ منائے، اور وہ رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے عصب کے کپڑے کے، نہ سرمہ لگائے، نہ خوشبو لگائے، سوائے اپنی پاکی کے آخر میں کہ قسط اور اظفار (ہلکی خوشبو) استعمال کر لے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر پر“، پھر راوی نے (پہلی روایت کی طرح) اسی طرح آگے بیان کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا، فَإِنَّهَا تُحِدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبًا مَغْسُولًا وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا، إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا بَعْدَهُ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کے سوا کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، البتہ شوہر پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے، اور وہ رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے دھلے ہوئے کپڑے کے، نہ سرمہ لگائے، نہ خضاب کرے، نہ خوشبو کو ہاتھ لگائے، سوائے اس کے کہ اپنے حیض کے بعد پاکی کے وقت قسط یا اظفار (ہلکی خوشبو) استعمال کر لے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر اس میں سختی نہیں کی گئی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا جاتا تھا، لیکن ہم پر اس میں سختی نہیں کی گئی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا» ،
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر اس میں سختی نہیں کی گئی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”آپ ﷺ نے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، لیکن ہم پر اس میں سختی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْنَا نُسَيْبَةُ وَهِيَ أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثَتْ بِهَا إِلَيْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: «إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلِّهَا»
ترجمہ
… پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ نسیبہ — یعنی ام عطیہ رضی اللہ عنہا — نے ہمیں اسی بکری میں سے کچھ بھیجا ہے جو صدقہ میں سے ان کے پاس بھیجی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (صدقہ) اپنے محل تک پہنچ چکا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ: عِنْدَكِ شَيْءٌ تُطْعِمِينِي؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثَتْ بِهَا إِلَيَّ نُسَيْبَةُ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: هَاتِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلِّهَا "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کھلانے کے لیے کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس بکری میں سے جو نسیبہ نے مجھے صدقہ میں سے بھیجی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لے آؤ، وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بُعِثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَبَعَثَتْ إِلَيَّ عَائِشَةُ بِشَيْءٍ مِنْهَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْهَا، فَقَالَ: «إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلِّهَا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے لیے میرے پاس صدقہ کی ایک بکری بھیجی گئی، تو میں نے اس میں سے کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیج دیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ نسیبہ نے ہمیں اسی بکری میں سے بھیجا ہے جو میں نے اسے بھیجی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَقَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الْغُسْلِ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں: ”ہم غسل کے بعد مٹیالے اور زرد رنگ کے اثر کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہم پاکی کے بعد مٹیالے اور زرد رنگ کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہم مٹیالے اور زرد رنگ کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ، وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَائْذَنَّنِي قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، قَالَتْ: ضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَ قُرُونٍ نَاصِيَتَهَا، وَقَرْنَهَا ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ خَلْفَهَا "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ إِنْ رَأَيْتُنَّ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَائْذَنَّنِي فَآذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، قَالَتْ: فَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَ قُرُونٍ مُقَدِّمَتِهَا، وَقَرْنَيْهَا وَأَلْقَيْنَاهَا مِنِ خَلْفِهَا "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”انہیں بیری کے پتوں سے غسل دو، اور طاق مرتبہ غسل دو، تین یا پانچ یا اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ، اور آخری مرتبہ میں کافور ملا دو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو بتا دیا، تو آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہماری طرف ڈال دیا اور فرمایا: ”اسے ان کے کفن کے نیچے (بدن پر) لپیٹ دو۔“ وہ کہتی ہیں: ہم نے ان کے سر کے بال تین لٹوں میں گوندھے، پیشانی کے بال اور دونوں طرف کی لٹیں، پھر انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَرَّقْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَ قُرُونٍ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”ہم نے نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دیا اور ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کیے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ: " أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ قُرُونٍ، قُلْتُ: نَقَضَتْهُ فَغَسَلَتْهُ، فَجَعَلَتْهُ ثَلَاثَ قُرُونٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ "
ترجمہ
حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: ہم سے سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کے سر کے بال تین لٹوں میں کر دیے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا: کیا انہوں نے اسے کھول کر دھویا، پھر تین لٹیں بنائیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي غُسْلِ ابْنَتَهِ: وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا "
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو غسل دینے کے بارے میں فرمایا: ”دائیں طرف سے اور وضو کے اعضاء سے (غسل کی) ابتدا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ وَهِيَ حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نُغَسِّلُهَا: «ابْدَأُوا بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ»
ترجمہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب ہم نے نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دیا تو غسل دیتے وقت آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”دائیں اعضاء اور وضو کی جگہوں سے شروع کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَلَّادٍ الْقَطَّانُ النَّصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ عِيسَى بِنْتُ هَاشِمٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، قَالَتْ لَنَا أُمُّ عَطِيَّةَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَمْنَعَ الْمَاعُونَ، قُلْتُ: وَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَتْ: مَا يَتَعَاطَاهُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ "
ترجمہ
حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں کہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ماعون سے انکار نہ کریں۔“ میں نے پوچھا: ماعون کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ چیزیں جو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے لیتے دیتے ہیں۔
…