❮
❯
حدیث نمبر: 21590
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِصْطَخْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبَّادٍ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ يَوْمَ الْفِطْرِ الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضَ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: «تُلْبِسُهَا أُخْتُهَا جِلْبَابَهَا»
ترجمہ

حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر کے دن جوان کنواری لڑکیوں، پردہ نشین عورتوں اور حیض والی عورتوں کو نکالیں۔ البتہ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہتیں مگر بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی بہن اپنی چادر اسے پہنا دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21590
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 57، حدیث 127