حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ تِسْعًا، أَرْبَعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ، وَفِي الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ فَإِذَا فَرَغَ كَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ رَكَعَ»
ترجمہ
علقمہ اور اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں عیدوں میں نو تکبیریں کہتے تھے: قرأت سے پہلے چار تکبیریں، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرتے، اور دوسری رکعت میں قرأت کرتے، جب فارغ ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر رکوع کرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، وَمَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: «كَانَ يُكَبِّرُ بِتِسْعٍ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ، يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَاحِدَةً فَيَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا يَرْكَعُ بِوَاحِدَةٍ»
ترجمہ
اسود، علقمہ اور مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ عیدالاضحی اور عیدالفطر میں نو تکبیریں کہتے تھے: کھڑے ہو کر چار تکبیریں کہتے، پھر قرأت کرتے، پھر ایک تکبیر کہہ کر اس کے ساتھ رکوع کرتے، پھر کھڑے ہو کر قرأت کرتے، اور چار تکبیریں کہہ کر ان میں سے ایک کے ساتھ رکوع کرتے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: «كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى خَمْسًا بِتَكْبِيرَةِ الرَّكْعَةِ، وَبِتَكْبِيرَةِ الِاسْتِفْتَاحِ، وَفِي الْأُخْرَى أَرْبَعًا بِتَكْبِيرَةِ الرَّكْعَةِ»
ترجمہ
علقمہ بن قیس اور اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور رکوع کی تکبیر ملا کر پانچ تکبیریں کہتے تھے، اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر ملا کر چار تکبیریں کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، حِينَ دَعَا بِهِمْ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ دَعَى أَبَا مُوسَى، وَحُذَيْفَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ، فَسَأَلَهُمْ عَنِ التَّكْبِيرِ يَوْمَ الْعِيدِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَلِ الْأَشْعَرِيَّ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: سَلْ عَبْدَ اللهِ فَإِنَّهُ أَعْلَمُنَا وَأَقْدَمُنَا، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «تَفْتَحُ بِأَرْبَعٍ، وَتَخْتِمُ بِأَرْبَعٍ، وَتُكَبِّرُ وَاحِدَةً، ثُمَّ تُضِيفُ إِلَيْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ تُكَبِّرُ فَتَرْكَعُ، فَإِذَا رَفَعْتَ مِنَ السَّجْدَةِ قَرَأْتَ، ثُمَّ كَبَّرْتَ أَرْبَعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ»
ترجمہ
عبداللہ بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جب سعید بن العاص نے فجر کے وقت، صبح کی نماز پڑھنے سے پہلے، سیدنا ابوموسیٰ، سیدنا حذیفہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو بلایا اور عید کے دن کی تکبیروں کے بارے میں پوچھا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اشعری (سیدنا ابوموسیٰ) سے پوچھو۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) سے پوچھو کیونکہ وہ ہم میں سب سے زیادہ علم والے اور سب سے پہلے (اسلام لانے والے) ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”چار تکبیروں سے شروع کرو اور چار تکبیروں پر ختم کرو: ایک تکبیر کہو، پھر اس کے ساتھ مزید تین ملاؤ، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرو۔ پھر جب تم سجدے سے اٹھو تو قرأت کرو، پھر چار تکبیریں کہو، پھر رکوع کرو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ أَرْبَعًا كَالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ»
ترجمہ
ابوعطیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دونوں عیدوں میں تکبیر چار ہے، جیسے میت کی نماز کی تکبیریں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ عَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ قَدْرُ كَلِمَةٍ»
ترجمہ
علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک کلمے (کہنے) کے بقدر وقفہ ہونا چاہیے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، كَانَا " يَنْهَيَانِ النَّاسَ - أَوْ قَالَ: يُجْلِسَانِ - مَنْ يَرَيَاهُ يُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ "
ترجمہ
ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما عید کے دن امام کے نکلنے سے پہلے نماز پڑھتے ہوئے جسے بھی دیکھتے اسے منع کر دیتے - یا فرمایا: بٹھا دیتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ كَانَا يَنْهَيَانِ النَّاسَ يَوْمَ الْعِيدِ عَنِ الصَّلَاةِ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ»
ترجمہ
محمد (ابن سیرین) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما عید کے دن امام کے نکلنے سے پہلے نماز پڑھنے سے لوگوں کو منع کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: أُنْبِئْتُ «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ كَانَا يَقُومَانِ فِي النَّحْرِ، وَالْفِطْرِ فَيَنْهَيَانِ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدٌ قَبْلَ الْإِمَامِ»
ترجمہ
محمد (ابن سیرین) بیان کرتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما عیدالاضحی اور عیدالفطر میں کھڑے ہو کر کسی کو بھی امام سے پہلے نماز پڑھنے سے منع کر دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، أَنُبِّئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا «قَامَ قَائِمًا فَنَهَى النَّاسَ عَنِ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ»
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک نے یا دونوں نے کھڑے ہو کر عید کے دن امام کے نکلنے سے پہلے نماز پڑھنے سے لوگوں کو منع کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَيُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ عید کی نماز سے پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَقَتَادَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ: «كَانَ يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ ثَمَانٍ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا»
ترجمہ
ابن سیرین اور قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ عید کی نماز کے بعد چار یا آٹھ رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس سے پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِيدَيْنِ أَرْبَعًا»
ترجمہ
شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں عیدوں کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: «كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِيدَيْنِ أَرْبَعًا»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دونوں عیدوں کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «مَنْ فَاتَهُ الْعِيدُ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس کی عید کی نماز رہ جائے وہ چار رکعتیں پڑھ لے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «مَنْ فَاتَهُ الْعِيدُ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس کی عید کی نماز رہ جائے وہ چار رکعتیں پڑھ لے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَرَّةَ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: «كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ»
ترجمہ
اسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یوم عرفہ کی نماز فجر سے لے کر قربانی کے دن (دسویں ذوالحجہ) کی نماز عصر تک تکبیریں کہا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ قَالَ: «مُدٌّ مِنْ قَمْحٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صدقہ فطر کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک مُد گندم، یا ایک صاع کھجور یا جو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «اغْتَسَلَتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ يَوْمَ عَرَفَةَ تَحْتَ الْأَرَاكِ»
ترجمہ
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ یوم عرفہ کو پیلو کے درخت کے نیچے غسل کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ: «التَّكْبِيرُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَى بَعْدِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”ایام تشریق کی تکبیر یوم عرفہ کی نماز صبح کے بعد سے قربانی کے دن کی نماز عصر کے بعد تک ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: «كَانَ يُكَبِّرُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَيَقْطَعُ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، يُكَبِّرُ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ» ، قَالَ: " وَكَانَ يُكَبِّرُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ "
ترجمہ
ابواسحاق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ وہ یوم عرفہ کی نماز صبح میں تکبیر شروع کرتے اور قربانی کے دن کی نماز عصر پر ختم کرتے، عصر پڑھنے پر (آخری) تکبیر کہتے۔ راوی کہتے ہیں: اور وہ یہ تکبیر کہتے تھے: ”اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور اللہ اکبر اللہ اکبر، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: {إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ} [الجمعة: ٩] قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوْ قَرَأْتُهَا فَاسْعَوْا لَسَعَيْتُ حَتَّى يَسْقُطَ رِدَائِي، وَكَانَ يَقْرَؤُهَا فَامْضُوا»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سورۃ الجمعہ کی آیت) ﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ﴾ [سورۃ الجمعہ: 9] پڑھی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں اسے ﴿فَاسْعَوْا﴾ (دوڑ کر جاؤ) پڑھتا تو اتنی تیزی سے جاتا کہ میری چادر گر جاتی، جبکہ وہ اسے ﴿فَامْضُوا﴾ (چل پڑو) پڑھا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: " فِي حَرْفِ ابْنِ مَسْعُودٍ: فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ، وَهِي كَقَوْلِهِ: {إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى} [الليل: ٤] "
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں: ”سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: ﴿فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ﴾، اور یہ اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے: ”بےشک تمہاری کوششیں مختلف قسم کی ہیں“ [سورۃ اللیل: 4]۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: سَأَلَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ - وَنَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ - عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تُجَمِّعْ، فَسَأَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَدَقَ أُبَيٌّ»
ترجمہ
ابراہیم رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے - جبکہ نبی اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے - اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے (جواب دینے سے) اعراض کیا اور انہیں جواب نہ دیا، پھر جب اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: تم نے جمعہ کی نماز (پوری طرح) ادا نہیں کی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے (اس بارے میں) پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابی نے سچ کہا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: اسْتَقْرَأَ رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ عَبْدُ اللهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ نَصِيبُكَ مِنَ الْجُمُعَةِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (جمعہ کے خطبے کے دوران) کچھ پڑھنے کو کہا جبکہ امام خطبہ دے رہا تھا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے جواب نہ دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”جو تم نے پوچھا وہی تمہارے جمعے کا حصہ (اجر) تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " كَفَى لَغْوًا أَنْ تَقُولَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ، إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فِي الْجُمُعَةِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جب امام (خطبے کے لیے) نکل آئے تو اپنے ساتھی سے صرف یہ کہنا کہ خاموش ہو جاؤ، بھی لغو (بےکار بات) کے لیے کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ أَنَا وَزِرٌّ، فَأَمَّنِي وَفَاتَتْنَا الْجُمُعَةُ» ، فَسَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: «فَعَلَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بِعَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ» قَالَ سُفْيَانُ: «وَرُبَّمَا فَعَلْتُهُ أَنَا وَالْأَعْمَشُ»
ترجمہ
حسن بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اور زر نے (اکٹھے) نماز پڑھی، تو انہوں نے میری امامت کی اور ہماری جمعہ کی نماز رہ گئی تھی۔ میں نے ابراہیم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے علقمہ اور اسود کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: ”اور بسا اوقات میں اور اعمش بھی ایسا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلَيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرَى، وَمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کی ایک رکعت پا لے وہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے، اور جس کی دونوں رکعتیں فوت ہو جائیں وہ چار رکعتیں پڑھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الْجُمُعَةَ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرَّكْعَةَ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو شخص (امام کے ساتھ) ایک رکعت پا لے اس نے جمعہ پا لیا، اور جو ایک رکعت بھی نہ پائے وہ چار رکعتیں پڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ: أَذَكَرْتَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَقَدْ أَدْرَكَ الْجُمُعَةَ، وَمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
ابواسحاق سبیعی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ نے ابواحوص سے یہ روایت ذکر کی تھی کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص دونوں رکعتیں یا ان میں سے ایک پا لے اس نے جمعہ پا لیا، اور جس کی دونوں رکعتیں فوت ہو جائیں وہ چار رکعتیں پڑھے“؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ الْخُطْبَةَ فَالْجُمُعَةُ رَكْعَتَانِ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْهَا فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرَّكْعَةَ فَلَا يَعْتَمِدُ بِالسَّجْدَةِ حَتَّى يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو خطبہ پا لے اس کے لیے جمعہ دو رکعت ہے، اور جو نہ پائے وہ چار رکعتیں پڑھے، اور جو رکوع نہ پائے وہ (صرف) سجدہ کرنے پر اعتماد نہ کرے یہاں تک کہ رکوع پا لے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَةُ الْأُخْرَى فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا» قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ قَتَادَةُ: يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَقِيلَ لِقَتَادَةَ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَاءَ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «اجْلِسُوا أَدْرَكْتُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ» ، قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّمَا يَقُولُ: «أَدْرَكْتُمُ الْأَجْرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس کی دوسری رکعت فوت ہو جائے وہ چار رکعتیں پڑھے۔“ معمر کہتے ہیں: قتادہ نے کہا: وہ چار رکعتیں پڑھے۔ پھر قتادہ سے کہا گیا: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ (ایک بار جمعہ کی نماز کے لیے) آئے جبکہ لوگ نماز کے آخری حصے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، ان شاء اللہ تم نے پا لیا۔“ قتادہ کہتے ہیں: وہ اس سے صرف یہ کہہ رہے تھے: ”تم نے اجر پا لیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُعَلِّمُنَا أَنْ نُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْجُمُعَةِ» حَتَّى سَمِعْنَا قَوْلَ عَلِيٍّ: «صَلُّوا سِتًّا» ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «فَنَحْنُ نُصَلِّي سِتًّا» ، قَالَ عَطَاءٌ: «أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
ابوعبدالرحمن (سلمی) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھنا سکھاتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان سنا: ”چھ رکعتیں پڑھو۔“ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: ”تو ہم چھ رکعتیں پڑھتے ہیں۔“ عطاء کہتے ہیں: ”ابوعبدالرحمن دو رکعتیں پھر چار رکعتیں پڑھتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا» حَتَّى جَاءَ عَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ «فَأَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جمعہ سے پہلے چار اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کے بعد دو رکعتیں، پھر چار رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا» حَتَّى جَاءَ عَلِيٌّ «فَأَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَرْبَعًا»
ترجمہ
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جمعہ سے پہلے چار اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ اس کے بعد دو رکعتیں، پھر چار رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: «أَمَرَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا» قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ عَلِيٌّ قَالَ: «اجْعَلُوهَا سِتًّا»
ترجمہ
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا کہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے فرمایا: ”انہیں چھ کر لو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ صَلَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَمَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ»
ترجمہ
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن امام کے سلام پھیرنے کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَبَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ» قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: «وَكَانَ عَلِيٌّ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ سِتَّ رَكَعَاتٍ»
ترجمہ
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ابواسحاق کہتے ہیں: ”اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا»
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ»
ترجمہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے، پھر واپس جا کر قیلولہ کرتے۔
…