حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «كَانَ عَزِيزًا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنْ يَتَكَلَّمَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا بِذِكْرِ اللهِ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات گراں گزرتی تھی کہ فجر کے بعد اللہ کے ذکر کے سوا کوئی بات کی جائے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: «لَمْ تَكُنْ سَاعَةٌ مِنَ السَّاعَاتِ أَشَدُّ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنْ يَسْمَعَ فِيهَا مُتَكَلِّمًا مِنْ لَدُنِ انْشِقَاقِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج نکلنے تک کسی گھڑی میں کسی کو بات کرتے سننا سب سے زیادہ گراں گزرتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ بَعْدَ الْفَجْرِ، فَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ: «إِنَّمَا جِئْتُمْ لِلصَّلَاةِ فَإِمَّا أَنْ تُصَلُّوا، وَإِمَّا أَنْ تَسْكُتُوا»
ترجمہ
عطاء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو فجر کے بعد باتیں کر رہے تھے، تو انہوں نے انہیں بات کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم تو نماز کے لیے آئے ہو، یا تو نماز پڑھو یا خاموش رہو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ مَسْعُودٍ بِرَجُلَيْنِ يَتَكَلَّمَانِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: «يَا هَذَانِ، إِمَّا أَنْ تُصَلِّيَا، وَإِمَّا أَنْ تَسْكُتَا»
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو طلوع فجر کے بعد باتیں کر رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”اے دونوں! یا تو نماز پڑھو یا خاموش ہو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَكْرَهُ الْكَلَامَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کی دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بات کرنا ناپسند کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: «كَانَتْ صَلَاةُ عَبْدِ اللهِ مِنَ النَّهَارِ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَلَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ، وَلَا بَعْدَهَا»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کی دن کی نماز (نفل) یہ تھی: ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں، اور وہ عصر سے پہلے اور نہ اس کے بعد نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: " كَانَ تَطَوُّعُ عَبْدِ اللهِ الَّذِي لَا يَدَعُ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَاثْنَتَانِ بَعْدَهَا، وَاثْنَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَاثْنَتَانِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَاثْنَتَانِ قَبْلَ الصُّبْحِ "
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جو نفل نماز کبھی نہیں چھوڑتے تھے وہ یہ تھی: ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور صبح سے پہلے دو رکعتیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: «كَانَ تَطَوُّعُ عَبْدِ اللهِ الَّذِي لَا يَنْقُصُ مِنْهُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نفل نماز جس میں کبھی کمی نہ کرتے تھے وہ یہ تھی: ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: «كَانَتْ صَلَاةُ عَبْدِ اللهِ الَّذِي لَا يَتْرُكُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَاثْنَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جو نماز کبھی نہ چھوڑتے تھے وہ یہ تھی: ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُدَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبْطَنُ النَّاسِ، بِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَرَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ سُورَتَيْنِ مِنَ الْمِئِينَ، فَإِذَا تَجَاوَبَ الْمُؤَذِّنُونَ شَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
ابواسحاق عبداللہ بن بدیل بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سب سے قریبی ساتھی (اہل خانہ) نے بیان کیا کہ وہ کہا کرتے تھے: ”جب سورج ڈھل جاتا تو وہ کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھتے، جن میں سو سو آیات والی سورتوں میں سے دو سورتیں پڑھتے، پھر جب مؤذن ایک دوسرے کو جواب دیتے (اذان دیتے) تو اپنے کپڑے کس لیتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمُرَّةَ، وَمَسْرُوقٍ قَالُوا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَيْسَ شَيْءٌ يَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ مِنَ صَلَاةِ النَّهَارِ إِلَّا أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَفَضْلُهُنَّ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ»
ترجمہ
اسود، مرہ اور مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دن کی نماز میں سے کوئی نماز رات کی نماز کے برابر نہیں، سوائے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں کے، اور دن کی دوسری نمازوں پر ان کی فضیلت ایسی ہے جیسے باجماعت نماز کی فضیلت اکیلے کی نماز پر۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، «لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز چاشت نہیں پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُهُ فِيهَا إِلَّا وَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ» ، يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ
ترجمہ
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: ”کوئی گھڑی ایسی نہ تھی کہ میں ان کے پاس آؤں اور انہیں مغرب اور عشاء کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے نہ پاؤں“ - یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کے بارے میں فرماتے ہیں)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فِيهَا إِلَّا وَجَدْتُهُ فِيهَا يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ فَقُلْتُ: سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُكَ فِيهَا قَطُّ إِلَّا وَجَدَّتُكَ تُصَلِّي، فَقَالَ: «إِنَّهَا سَاعَةُ غَفْلَةٍ»
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں جس بھی وقت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آتا، انہیں مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہی پاتا، تو میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میں جب بھی آپ کے پاس آتا ہوں آپ کو (اسی وقت) نماز پڑھتے ہی پاتا ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ غفلت کی گھڑی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «نَعَمْ سَاعَةُ الْغَفْلَةِ» ، يَعْنِي الصَّلَاةَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ
ترجمہ
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، یہ غفلت کی گھڑی ہے“ - یعنی مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «النُّعَاسُ عِنْدَ الْقِتَالِ أَمَنَةٌ مِنَ اللهِ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لڑائی کے وقت اونگھ آنا اللہ کی طرف سے امن ہے، اور نماز میں اونگھ آنا شیطان کی طرف سے ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «النُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَالنُّعَاسُ فِي الْقِتَالِ أَمَنَةٌ مِنَ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نماز میں اونگھ آنا شیطان کی طرف سے ہے، اور لڑائی میں اونگھ آنا اللہ کی طرف سے امن ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «التَّثَاؤُبُ، وَالْعُطَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نماز میں جمائی لینا اور چھینک آنا شیطان کی طرف سے ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَا تُقْصَرُ الصَّلَاةُ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ جِهَادٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نماز صرف حج یا جہاد میں قصر کی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا خُصَيْفٌ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَنْقُصُنَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي مَبَادِيكُمْ، وَلَا أَجْشَارِكُمْ، وَلَا تَسِيرُوا فِي قُرَى السَّوَادِ فِي حَوَائِجِكُمْ فَتَقُولُوا: إِنَّا سَفْرٌ، إِنَّمَا الْمُسَافِرُ مِنَ الْأُفُقِ إِلَى الْأُفُقِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اپنی چراگاہوں اور مویشیوں کی جگہوں میں اپنی نماز میں کمی نہ کرو (یعنی قصر نہ کرو)، اور نہ ہی اپنی ضرورتوں کے لیے سواد (عراق) کی بستیوں میں جا کر یہ کہو کہ ہم مسافر ہیں، مسافر تو وہ ہے جو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جائے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَغْتَرُّوا بِتِجَارَاتِكُمْ، وَأَجْشَارِكُمْ، وَتُسَافِرُوا إِلَى قُرَى السَّوَادِ، وَتَقُولُوا: إِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ، إِنَّمَا الْمُسَافِرُ مِنْ أُفُقٍ إِلَى أُفُقٍ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اپنی تجارتوں اور چراگاہوں (میں مشغولیت) کے دھوکے میں نہ رہو کہ سواد کی بستیوں کا سفر کرو اور کہو ہم مسافر لوگ ہیں، مسافر تو وہ ہے جو ایک کنارے سے دوسرے کنارے جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَا تَغْتَرُّوا بِسَوَادِكُمْ، فَإِنَّمَا مَجْشَرُ أَحَدِكُمْ، وَأَهْلُهُ شَيْءٌ وَاحِدٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُخْتَارًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اپنی زمینوں (کے قرب) کے دھوکے میں نہ رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کی چراگاہ اور اس کے گھر والے (دونوں ایک ہی حکم میں شمار ہو کر) ایک ہی چیز ہیں، الا یہ کہ وہ (وہاں رہنا) خود چاہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا أَعَادَ الصَّلَاةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھے وہ نماز دوبارہ پڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنْ رَجُلٍ يَضَعُ جَنْبَهُ عِنْدَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى؟ قَالَ: «مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَتَمَرَّغُ، كَتَمَرُّغِ الْحِمَارِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو چاشت کی دو رکعتوں کے بعد اپنا پہلو (زمین پر) رکھتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو کیا ہوا ہے کہ وہ گدھے کے لوٹنے کی طرح (زمین پر) لوٹتا ہے؟“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا نَقْعُدُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ قِيَامِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ نُثَبِّتُ النَّاسَ عَلَى الْقِرَاءَةِ، فَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نَرْجِعَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمِّلُهُمُ اللهُ، يَرَوْنَكُمْ تُصَلُّونَ فَيُرَوْنَ ذَلِكَ وَاجِبًا عَلَيْهِمْ، إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي الْبُيُوتِ»
ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے (نماز سے فارغ ہو کر) کھڑے ہونے کے بعد مسجد میں بیٹھے رہتے اور لوگوں کو قرأت پر پختہ کرتے، پھر جب ہم واپس جانے کا ارادہ کرتے تو دو رکعتیں پڑھ لیتے۔ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ ڈالتے ہو جو اللہ نے ان پر نہیں ڈالا؟ وہ تمہیں نماز پڑھتے دیکھ کر اسے اپنے اوپر واجب سمجھنے لگیں گے، اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو گھروں میں کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا قَامَ عَبْدُ اللهِ نَجْلِسُ بَعْدَهُ، فَنُثَبِّتُ النَّاسَ فِي الْقِرَاءَةِ، فَإِذَا قُمْنَا صَلَّيْنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمَّلُوا يَرَوْنَكُمْ فَيَحْسَبُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي بُيُوتِكُمْ» قَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا أَيْضًا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ
ترجمہ
مسروق بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ (نماز سے فارغ ہو کر) کھڑے ہو جاتے تو ہم ان کے بعد بیٹھ جاتے اور لوگوں کو قرآت پر پختہ کرتے، پھر جب ہم کھڑے ہوتے تو (دو رکعتیں) پڑھ لیتے۔ یہ بات ان کو پہنچی تو ہم ان کے پاس گئے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ ڈالتے ہو جو ان پر نہیں ڈالا گیا؟ وہ تمہیں دیکھ کر یہ گمان کریں گے کہ یہ سنت ہے، اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو اپنے گھروں میں کرو۔“
سلیمان (اعمش) کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن مرہ نے بھی ابوعبیدہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی۔
سلیمان (اعمش) کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن مرہ نے بھی ابوعبیدہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا رَأَى الشَّيْطَانُ ابْنَ آدَمَ سَاجِدًا صَاحَ، وَقَالَ: يَا وَيْلَهُ، وَيْلٌ لِلشَّيْطَانِ، أَمَرَ اللهُ ابْنَ آدَمَ أَنْ يَسْجُدَ وَلَهُ الْجَنَّةُ فَأَطَاعَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أسْجُدَ فَعَصَيْتُ وَلِيَ النَّارُ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب شیطان ابن آدم کو سجدہ کرتے دیکھتا ہے تو چیخ اٹھتا ہے اور کہتا ہے: ہائے افسوس، شیطان کے لیے ہلاکت ہے! اللہ نے ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس کے لیے جنت ہے اور اس نے اطاعت کی، اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو میں نے نافرمانی کی اور میرے لیے جہنم ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، " أَنَّ رَجُلًا بَيْنَا هُوَ يَسْقِي زَرْعًا لَهُ إِذْ رَأَى غَيَابَةً تَرَّهْيَا فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا: أَنِ اسْقِ أَرْضَ فُلَانٍ، فَاتَّبِعَ الصَّوْتَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي سُمِّيَتْ، فَسَأَلَ صَاحِبَهَا مَا عَمَلُكَ فِيهَا؟ قَالَ: إِنِّي أُعِيدُ فِيهَا ثُلُثًا، وَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثٍ، وَأَحْبِسُ لِأَهْلِي ثُلُثًا "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی کھیتی کو پانی دے رہا تھا کہ اس نے (بادل کا) ایک سایہ دار ٹکڑا دیکھا، جس میں سے اسے آواز سنائی دی: فلاں کی زمین کو سیراب کرو۔ وہ اس آواز کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ اس زمین پر پہنچ گیا جس کا نام لیا گیا تھا۔ اس نے اس کے مالک سے پوچھا: تم اس میں کیا کرتے ہو (کہ تمہیں یہ ملا)؟ اس نے کہا: میں اس میں سے ایک تہائی (پیداوار) دوبارہ (کھیتی میں) لگاتا ہوں، ایک تہائی صدقہ کرتا ہوں اور ایک تہائی اپنے گھر والوں کے لیے رکھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَبْعَثُهُ إِلَى أَرْضِهِ أَنْ يَفْعَلَ فِيهَا ذَلِكَ
ترجمہ
مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں اپنی زمین کی طرف بھیجا کرتے تھے کہ وہاں یہی (تقسیم) کریں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ،، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ» فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ مَا أَجِدُهُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَارِئَةً لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، أَمَا قَرَأْتِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ «نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَتْ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ بَعْضَ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاذْهَبِي فَانْظُرِي» ، فَدَخَلَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا» ، قَالَ الدَّبَرِيُّ: قُلْنَا لِأَبِي بَكْرٍ: مَا النَّامِصَةُ؟ قَالَ: «الَّتِي تَنْتِفُ شَعْرَهَا»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے گودنے والیوں، گدوانے والیوں، اور حسن کے لیے دانت کشادہ کروا کر اللہ کی بنائی ہوئی صورت بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ یہ بات بنو اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں پر لعنت کی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی، اور جو اللہ کی کتاب میں (بھی مذکور) ہے؟ اس نے کہا: میں تو (پورا قرآن) دونوں تختیوں کے درمیان پڑھتی ہوں، مجھے یہ (بات) نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا: اگر تم پڑھنے والی ہو تو یقیناً تمہیں یہ مل گیا ہوگا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ [سورۃ الحشر: 7]؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو بےشک رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر والے بھی اس میں سے کچھ کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو“، تو وہ اندر گئی مگر اپنی مطلوبہ چیز میں سے کچھ نہ پایا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ایسا ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ نہ رہتیں۔“
دبری کہتے ہیں: ہم نے ابوبکر (بن عیاش) سے پوچھا: نامصہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ عورت جو اپنے بال اکھاڑتی ہے۔“
دبری کہتے ہیں: ہم نے ابوبکر (بن عیاش) سے پوچھا: نامصہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ عورت جو اپنے بال اکھاڑتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لُعِنَ الْمُتَنَمِّصَاتُ، وَالْمُتَفَلِّجَاتُ، وَالْمُتَوَشِّمَاتُ» ، أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: أَظُنُّهُ فِي أَهْلِكَ، قَالَ: «اذْهَبِي فَانْظُرِي» ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِيهِنَّ شَيْئًا وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ: «بَلَى قَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بال اکھاڑنے والیوں، دانت کشادہ کرانے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے، تو کیا میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی؟“ تو بنو اسد کی ایک عورت نے ان سے کہا: میرا خیال ہے یہ (کام) آپ کے گھر والوں میں بھی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گئی پھر آ کر کہنے لگی: میں نے ان میں کچھ نہیں دیکھا، اور یہ بات مجھے قرآن میں بھی نہیں ملی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیوں نہیں، یہ بات تو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيِّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ، أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟، قَالَ: «لَا» ، قَالَتْ: شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللهِ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللهِ، قَالَتْ: فَوَاللهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: أَمَا تَجِدِينَ فِيهِ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: بَلَى قَالَتْ: وَاللهِ إِنِّي أَرَى الَّتِي فِي بَيْتِكَ تَفْعَلُهُ، قَالَ: «مَا حَفِظْتُ وَصِيَّةَ أَخِي شُعَيْبٍ إِذًا» ، قَالَ: «فَأَقْسَمَتُ عَلَيْكِ لَمَا دَخَلْتِ إِلَيْهَا فَنَظَرْتِ إِلَى شَعْرِهَا» ، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ إِلَى امْرَأَةٍ قَرْعَاءَ، وَلَمْ تَرَ فِي شَعْرِهَا شَيْئًا، فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ: مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: «مَا حَفِظْتُ وَصِيَّةَ شُعَيْبٍ إِذًا»
ترجمہ
عزرہ، حسن عرنی، یحییٰ بن جزار کے واسطے سے مسروق بن اجدع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں کم بال والی عورت ہوں، کیا مجھے اپنے بالوں میں (مصنوعی بال) جوڑنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ انہوں نے کہا: بلکہ میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور اللہ کی کتاب میں بھی پائی ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں نے قرآن کی دونوں جلدوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے مگر یہ بات نہیں پائی۔ انہوں نے کہا: کیا تم اس میں یہ نہیں پاتیں: ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ [سورۃ الحشر: 7]؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو دیکھتی ہوں کہ جو (عورت) آپ کے گھر میں ہے وہ یہ کام کرتی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”تو پھر مجھے اپنے بھائی شعیب علیہ السلام کی نصیحت یاد نہیں رہی۔“ پھر (راوی کہتے ہیں کہ) انہوں نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ اور اس کے بالوں کو دیکھو۔“ چنانچہ وہ اندر گئی اور ایک گنجی عورت کو دیکھا، اس کے بالوں میں کچھ نہ پایا، تو وہ باہر آ کر کہنے لگی: مجھے کچھ نہیں ملا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: ”تو پھر مجھے شعیب کی نصیحت یاد نہیں رہی۔“
حَدَّثَنَا الطَّبَرِيُّ الْفَقِيهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَعَنَ اللهُ الْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَوَحِّشَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ» ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ الْمُسْتَوْرِدِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ الْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَوَشِّمَاتِ، فَقَالَ: أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي كِتَابِ اللهِ، قَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُهُ فِيهِ، قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ إِنَّهُ لَفِي كِتَابِ اللهِ: {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ أَهْلَكَ يَصْنَعُونَهُ، قَالَ: «فَادْخُلِي فَانْظُرِي فَإِنْ كَانُوا يَفْعَلُونَ لَا يَبِيتُونَ عِنْدِي لَيْلَةً» ، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ وَهِي تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے دانت کشادہ کرانے والیوں، بال اکھاڑنے والیوں اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت بدلنے کے لیے اپنی شکل بگاڑنے والیوں (گودنے والیوں) پر لعنت فرمائی ہے۔“ تو بنو اسد کی ایک عورت جسے ام المستورد کہا جاتا تھا ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے ابوعبدالرحمن! مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے دانت کشادہ کرانے والیوں، بال اکھاڑنے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ انہوں نے کہا: کیا میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی اور جو اللہ کی کتاب میں (بھی) ہے؟ اس نے کہا: میں نے تو دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے مگر یہ بات اس میں نہیں پائی۔ انہوں نے کہا: اگر تم نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے تو یہ بات اللہ کی کتاب میں ضرور ہے: ”جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ [سورۃ الحشر: 7]۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر والے بھی یہ کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”تو اندر جا کر دیکھو، اگر وہ ایسا کرتی ہوں تو وہ ایک رات بھی میرے پاس نہیں رہیں گی۔“ چنانچہ وہ اندر گئی اور دیکھا، پھر باہر آ کر کہنے لگی: میں نے کچھ نہیں دیکھا، میں نے کچھ نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَزْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا الْعَالِيَةِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْفَالِجَةُ، وَالْمُتَنَمِصَةُ» قَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بال جوڑنے والی، گودنے والی، دانت کشادہ کرنے والی اور بال اکھاڑنے والی پر لعنت کی گئی ہے“ - یہ بات رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَا صَلَّتِ امْرَأَةُ صَلَاةً قَطُّ خَيْرًا لَهَا مِنْ صَلَاةٍ تُصَلِّيهَا فِي بَيْتِهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، أَوْ مَسْجِدَ الرَّسُولِ إِلَّا عَجُوزًا فِي مَنْقَلَيْهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کسی عورت نے اپنے گھر میں پڑھی جانے والی نماز سے بہتر کوئی نماز کبھی نہیں پڑھی، سوائے مسجد حرام یا مسجد رسول ﷺ (میں پڑھی جانے والی نماز کے)، سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو اپنے (پرانے) جوتوں میں (نکل کر جائے)۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ فِي مَكَانٍ خَيْرٌ لَهَا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، أَوْ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا امْرَأَةً تَخْرُجُ فِي مَنْقَلَيْهَا» يَعْنِي خُفَّيْهَا
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”عورت نے اپنے گھر سے بہتر کسی جگہ نماز نہیں پڑھی، سوائے مسجد حرام یا مسجد نبوی ﷺ کے، سوائے اس عورت کے جو اپنے موزوں میں (نکل کر) جائے“ - یعنی اپنے جوتوں میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبَّ هَذِهِ الدَّارِ يَحْلِفُ فَيَبْلُغُ بِالْيَمِينِ: «مَا مِنْ مُصَلَّى الْمَرْأَةِ خَيْرٌ لَهَا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عَمْرَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ فَهِيَ فِي مَنْقَلَيْهَا» ، قُلْتُ: مَا مَنْقَلَيْهَا؟ قَالَ: «امْرَأَةٌ عَجُوزٌ قَدْ تَقَارَبَ خَطْوُهَا»
ترجمہ
ابوعمرو الشیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے اس گھر کے مالک (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) کو قسم کھاتے اور قسم میں مبالغہ کرتے سنا: ”عورت کی نماز کی کوئی جگہ اس کے گھر سے بہتر نہیں سوائے حج یا عمرہ (کے سفر) میں، سوائے اس عورت کے جو شادی سے مایوس ہو چکی ہو، وہ اپنے موزوں میں (نکل سکتی ہے)۔“ میں نے پوچھا: منقلیہا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ بوڑھی عورت جس کے قدم چھوٹے ہو گئے ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: حَلَفَ عَبْدُ اللهِ فَبَالَغَ فِي الْيَمِينِ: «مَا مِنْ مُصَلًّى لِامْرَأَةٍ خَيْرٌ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عَمْرَةٍ إِلَّا امْرَأَةً قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ فَهِيَ فِي مَنْقَلَيْهَا»
ترجمہ
ابوعمرو الشیبانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی اور اس میں مبالغہ کیا: ”عورت کی نماز کی کوئی جگہ اس کے گھر سے بہتر نہیں سوائے حج یا عمرہ کے، سوائے اس عورت کے جو شادی سے مایوس ہو چکی ہو، وہ اپنے موزوں میں (نکل سکتی ہے)۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّهُ: رَأَى ابْنَ مَسْعُودٍ، يُخْرِجُ النِّسَاءَ مِنَ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَقُولُ: «اخْرُجْنَ إِلَى بُيُوتِكُنَّ خَيْرٌ لَكُنَّ»
ترجمہ
ابوعمرو الشیبانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے نکالتے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: ”نکل جاؤ، اپنے گھروں میں جانا تمہارے لیے بہتر ہے۔“
…