حدیث نمبر: 9430
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا قَامَ عَبْدُ اللهِ نَجْلِسُ بَعْدَهُ، فَنُثَبِّتُ النَّاسَ فِي الْقِرَاءَةِ، فَإِذَا قُمْنَا صَلَّيْنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمَّلُوا يَرَوْنَكُمْ فَيَحْسَبُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي بُيُوتِكُمْ» قَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا أَيْضًا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ
ترجمہ

مسروق بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ (نماز سے فارغ ہو کر) کھڑے ہو جاتے تو ہم ان کے بعد بیٹھ جاتے اور لوگوں کو قرآت پر پختہ کرتے، پھر جب ہم کھڑے ہوتے تو (دو رکعتیں) پڑھ لیتے۔ یہ بات ان کو پہنچی تو ہم ان کے پاس گئے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ ڈالتے ہو جو ان پر نہیں ڈالا گیا؟ وہ تمہیں دیکھ کر یہ گمان کریں گے کہ یہ سنت ہے، اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو اپنے گھروں میں کرو۔“
سلیمان (اعمش) کہتے ہیں: ہمیں عمرو بن مرہ نے بھی ابوعبیدہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9430
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 290، حدیث 9462