حدیث نمبر: 9441
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبَّ هَذِهِ الدَّارِ يَحْلِفُ فَيَبْلُغُ بِالْيَمِينِ: «مَا مِنْ مُصَلَّى الْمَرْأَةِ خَيْرٌ لَهَا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عَمْرَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ فَهِيَ فِي مَنْقَلَيْهَا» ، قُلْتُ: مَا مَنْقَلَيْهَا؟ قَالَ: «امْرَأَةٌ عَجُوزٌ قَدْ تَقَارَبَ خَطْوُهَا»ترجمہ
ابوعمرو الشیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے اس گھر کے مالک (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) کو قسم کھاتے اور قسم میں مبالغہ کرتے سنا: ”عورت کی نماز کی کوئی جگہ اس کے گھر سے بہتر نہیں سوائے حج یا عمرہ (کے سفر) میں، سوائے اس عورت کے جو شادی سے مایوس ہو چکی ہو، وہ اپنے موزوں میں (نکل سکتی ہے)۔“ میں نے پوچھا: منقلیہا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ بوڑھی عورت جس کے قدم چھوٹے ہو گئے ہوں۔“