حدیث نمبر: 9429
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا نَقْعُدُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ قِيَامِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ نُثَبِّتُ النَّاسَ عَلَى الْقِرَاءَةِ، فَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نَرْجِعَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمِّلُهُمُ اللهُ، يَرَوْنَكُمْ تُصَلُّونَ فَيُرَوْنَ ذَلِكَ وَاجِبًا عَلَيْهِمْ، إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي الْبُيُوتِ»
ترجمہ

…(راوی) بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے (نماز سے فارغ ہو کر) کھڑے ہونے کے بعد مسجد میں بیٹھے رہتے اور لوگوں کو قرآت پر پختہ کرتے، پھر جب ہم واپس جانے کا ارادہ کرتے تو دو رکعتیں پڑھ لیتے۔ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ ڈالتے ہو جو اللہ نے ان پر نہیں ڈالا؟ وہ تمہیں نماز پڑھتے دیکھ کر اسے اپنے اوپر واجب سمجھنے لگیں گے، اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو گھروں میں کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9429
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 290، حدیث 9461