حدیث نمبر: 9435
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لُعِنَ الْمُتَنَمِّصَاتُ، وَالْمُتَفَلِّجَاتُ، وَالْمُتَوَشِّمَاتُ» ، أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: أَظُنُّهُ فِي أَهْلِكَ، قَالَ: «اذْهَبِي فَانْظُرِي» ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِيهِنَّ شَيْئًا وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ: «بَلَى قَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بال اکھاڑنے والیوں، دانت کشادہ کرانے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے، تو کیا میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی؟“ تو بنو اسد کی ایک عورت نے ان سے کہا: میرا خیال ہے یہ (کام) آپ کے گھر والوں میں بھی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گئی پھر آ کر کہنے لگی: میں نے ان میں کچھ نہیں دیکھا، اور یہ بات مجھے قرآن میں بھی نہیں ملی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیوں نہیں، یہ بات تو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9435
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 291، حدیث 9467