حدیث نمبر: 9434
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ،، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ» فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ مَا أَجِدُهُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَارِئَةً لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، أَمَا قَرَأْتِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ «نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَتْ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ بَعْضَ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاذْهَبِي فَانْظُرِي» ، فَدَخَلَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا» ، قَالَ الدَّبَرِيُّ: قُلْنَا لِأَبِي بَكْرٍ: مَا النَّامِصَةُ؟ قَالَ: «الَّتِي تَنْتِفُ شَعْرَهَا»
ترجمہ

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے گودنے والیوں، گدوانے والیوں، اور حسن کے لیے دانت کشادہ کروا کر اللہ کی بنائی ہوئی صورت بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ یہ بات بنو اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں پر لعنت کی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی، اور جو اللہ کی کتاب میں (بھی مذکور) ہے؟ اس نے کہا: میں تو (پورا قرآن) دونوں تختیوں کے درمیان پڑھتی ہوں، مجھے یہ (بات) نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا: اگر تم پڑھنے والی ہو تو یقیناً تمہیں یہ مل گیا ہوگا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ [سورۃ الحشر: 7]؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو بےشک رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر والے بھی اس میں سے کچھ کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو“، تو وہ اندر گئی مگر اپنی مطلوبہ چیز میں سے کچھ نہ پایا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ایسا ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ نہ رہتیں۔“
دبری کہتے ہیں: ہم نے ابوبکر (بن عیاش) سے پوچھا: نامصہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ عورت جو اپنے بال اکھاڑتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9434
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 291، حدیث 9466