المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا الطَّبَرِيُّ الْفَقِيهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَعَنَ اللهُ الْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَوَحِّشَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ» ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ الْمُسْتَوْرِدِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ الْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَوَشِّمَاتِ، فَقَالَ: أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي كِتَابِ اللهِ، قَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُهُ فِيهِ، قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ إِنَّهُ لَفِي كِتَابِ اللهِ: {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ أَهْلَكَ يَصْنَعُونَهُ، قَالَ: «فَادْخُلِي فَانْظُرِي فَإِنْ كَانُوا يَفْعَلُونَ لَا يَبِيتُونَ عِنْدِي لَيْلَةً» ، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ وَهِي تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، مَا رَأَيْتُ شَيْئًاابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے دانت کشادہ کرانے والیوں، بال اکھاڑنے والیوں اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت بدلنے کے لیے اپنی شکل بگاڑنے والیوں (گودنے والیوں) پر لعنت فرمائی ہے۔“ تو بنو اسد کی ایک عورت جسے ام المستورد کہا جاتا تھا ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے ابوعبدالرحمن! مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے دانت کشادہ کرانے والیوں، بال اکھاڑنے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ انہوں نے کہا: کیا میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی اور جو اللہ کی کتاب میں (بھی) ہے؟ اس نے کہا: میں نے تو دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے مگر یہ بات اس میں نہیں پائی۔ انہوں نے کہا: اگر تم نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے تو یہ بات اللہ کی کتاب میں ضرور ہے: ”جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ [سورۃ الحشر: 7]۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر والے بھی یہ کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”تو اندر جا کر دیکھو، اگر وہ ایسا کرتی ہوں تو وہ ایک رات بھی میرے پاس نہیں رہیں گی۔“ چنانچہ وہ اندر گئی اور دیکھا، پھر باہر آ کر کہنے لگی: میں نے کچھ نہیں دیکھا، میں نے کچھ نہیں دیکھا۔