المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيِّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ، أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟، قَالَ: «لَا» ، قَالَتْ: شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللهِ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللهِ، قَالَتْ: فَوَاللهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: أَمَا تَجِدِينَ فِيهِ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: بَلَى قَالَتْ: وَاللهِ إِنِّي أَرَى الَّتِي فِي بَيْتِكَ تَفْعَلُهُ، قَالَ: «مَا حَفِظْتُ وَصِيَّةَ أَخِي شُعَيْبٍ إِذًا» ، قَالَ: «فَأَقْسَمَتُ عَلَيْكِ لَمَا دَخَلْتِ إِلَيْهَا فَنَظَرْتِ إِلَى شَعْرِهَا» ، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ إِلَى امْرَأَةٍ قَرْعَاءَ، وَلَمْ تَرَ فِي شَعْرِهَا شَيْئًا، فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ: مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: «مَا حَفِظْتُ وَصِيَّةَ شُعَيْبٍ إِذًا»…(راوی) عزرہ، حسن عرنی، یحییٰ بن جزار کے واسطے سے مسروق بن اجدع بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں کم بال والی عورت ہوں، کیا مجھے اپنے بالوں میں (مصنوعی بال) جوڑنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ انہوں نے کہا: بلکہ میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور اللہ کی کتاب میں بھی پائی ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں نے قرآن کی دونوں جلدوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے مگر یہ بات نہیں پائی۔ انہوں نے کہا: کیا تم اس میں یہ نہیں پاتیں: ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“ [سورۃ الحشر: 7]؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو دیکھتی ہوں کہ جو (عورت) آپ کے گھر میں ہے وہ یہ کام کرتی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”تو پھر مجھے اپنے بھائی شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت یاد نہیں رہی۔“
(راوی کہتے ہیں کہ) انہوں نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ اور اس کے بالوں کو دیکھو۔“ چنانچہ وہ اندر گئی اور ایک گنجی عورت کو دیکھا، اس کے بالوں میں کچھ نہ پایا، تو وہ باہر آ کر کہنے لگی: مجھے کچھ نہیں ملا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: ”تو پھر مجھے شعیب کی نصیحت یاد نہیں رہی۔“