حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ بِالرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: " لَا وَاللهِ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ أَمْرًا ذَعَرَنِي وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، وَلَقَدْ ذَعَرَنِي وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُمْ: سَبِّحُوا كَذَا وَكَذَا، احْمَدُوا كَذَا وَكَذَا "، قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُمْ، فَقَالَ: «مَا أَسْرَعَ مَا ضَلَلْتُمْ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَاءُ وَأَزْوَاجُهُ شَوَابٌّ، وَثِيَابُهُ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُغَيَّرْ، أَحْصُوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا أَضْمَنُ عَلَى اللهِ أَنْ يُحْصِيَ حَسَنَاتِكُمْ»
ترجمہ
… اس بات نے مجھے ڈرا دیا، حالانکہ بظاہر یہ اچھی بات لگتی ہے: کچھ لوگ مسجد میں بیٹھے ہیں اور ایک شخص انہیں کہہ رہا ہے: اتنی اتنی بار تسبیح پڑھو، اتنی اتنی بار حمد کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے، تو فرمایا: ”تم کتنی جلدی گمراہ ہو گئے، حالانکہ محمد ﷺ کے صحابہ ابھی زندہ ہیں، آپ ﷺ کی ازواج ابھی جوان ہیں، اور آپ ﷺ کے کپڑے اور برتن تک نہیں بدلے۔ تم اپنے گناہ شمار کر لو، میں اللہ کے ذمے لیتا ہوں کہ وہ تمہاری نیکیاں شمار کرے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيَّ عَبْدُ اللهِ وَأَنَا أَقُصُّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو لَقَدْ ابْتَدَعْتُمْ بِدْعَةَ ضَلَالَةٍ، أَوَ إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ تَفَرَّقُوا عَنِّي حَتَّى رَأَيْتُ مَكَانِي مَا فِيهِ أَحَدٌ "
ترجمہ
عمرو بن زرارہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میرے پاس آ کر رکے، اس وقت میں مسجد میں وعظ کہہ رہا تھا، تو فرمایا: اے عمرو! تم نے ایک گمراہ کن بدعت ایجاد کر لی ہے، یا کیا تم محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ لوگ میرے پاس سے منتشر ہو گئے یہاں تک کہ میں نے اپنی جگہ کو خالی دیکھا کہ اس میں کوئی نہ بچا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَغَرَّ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ زُرَارَةَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ يُذَكِّرُهُمْ، فَأَتَاهُمْ عَبْدُ اللهِ فَقَالَ: «أَنْتُمْ أَهْدَى أَمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنَّكُمْ مُتَمَسِّكُونَ بِطَرَفِ ضَلَالَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ عمرو بن زرارہ اپنے کچھ ساتھیوں کو نصیحت کر رہا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو یا محمد ﷺ کے صحابہ؟ تم گمراہی کے کنارے سے چمٹے ہوئے ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: ذَكَرُوا لَهُ رَجُلًا يَقُصُّ، فَجَاءَ فِي الْقَوْمِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللهِ كَذَا وَكَذَا» ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ قَامَ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْمَعُوا؟» فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالَ: «إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابِهِ، إِنَّكُمْ لَمُتَمَسِّكُونَ بِطَرَفِ ضَلَالَةٍ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک واعظ کا ذکر کیا، تو وہ لوگوں کے درمیان آئے، میں نے اسے کہتے سنا: اتنی اتنی بار سبحان اللہ کہو۔ جب انہوں نے یہ سنا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کیا تم نہیں سنتے؟“ جب لوگوں نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”کیا تم محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟ تم گمراہی کے کنارے سے چمٹے ہوئے ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِذَا وَقَعَ النَّاسُ فِي الشَّرِّ فَقُلْ لَا أُسْوَةَ لِي بِالشَّرِّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب لوگ برائی میں مبتلا ہو جائیں تو تم کہو: میرے لیے برائی میں کوئی نمونہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا وَقَعَ النَّاسُ فِي الْفِتْنَةِ فَيَقُولُونَ: اخْرُجْ لَكَ بِالنَّاسِ أُسْوَةٌ، فَقُلْ: لَا أُسْوَةَ لِي بِالشَّرِّ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب لوگ فتنے میں مبتلا ہوں اور کہیں: نکل آؤ، تمہارے لیے دوسروں کی طرح چلنے میں نمونہ کافی ہے، تو تم کہو: میرے لیے برائی میں کوئی نمونہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اللهِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ فِيهِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، تو تم میں سے جو اس میں سے کچھ سیکھ سکے وہ سیکھے، کیونکہ وہ گھر جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو، خیر کے لحاظ سے سب سے چھوٹا گھر ہے، اور جس گھر میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو وہ اس ویران گھر کی طرح ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہ ہو، اور شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں وہ سورۃ البقرہ سنتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اپنے گھروں میں سورۃ البقرہ پڑھا کرو، کیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ، وَسَنَامُ الْقُرْآنِ الْبَقَرَةُ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا، وَلُبَابُ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لِتَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ لَلْجَوْفُ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ كِتَابُ اللهِ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے، اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے، اور ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے، اور قرآن کا مغز مفصل سورتیں ہیں، اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے، اور سب سے چھوٹا گھر وہ سینہ ہے جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ: «إِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ كِتَابُ اللهِ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ كِتَابُ اللهِ لَخَرَابٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”سب سے چھوٹا گھر وہ ہے جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو، اور جس گھر میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو وہ اسی طرح ویران ہے جیسے وہ گھر ویران ہوتا ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللهِ، فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَهُوَ النُّورُ الْبَيِّنُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمَ، وَلَا يَزُوغُ فَيُسْتَعْتَبَ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلُقُ عَنْ رَدٍّ، اتْلُوهُ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُرُكُمْ بِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، لَمْ أَقُلْ لَكُمْ: الْم حَرْفٌ وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بے شک یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، تو اس کی دعوت سے جتنا سیکھ سکو سیکھو۔ بے شک یہ قرآن اللہ کی وہ رسی ہے جسے تھامنے کا اس نے حکم دیا ہے، اور یہ واضح نور اور نفع بخش شفا ہے، جو اسے تھامے اس کے لیے حفاظت ہے اور جو اس سے چمٹ جائے اس کے لیے نجات ہے۔ نہ یہ ٹیڑھا ہوتا ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے، اور نہ یہ بھٹکتا ہے کہ اس سے معافی مانگی جائے، اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے، اور یہ بار بار دہرانے سے پرانا نہیں ہوتا۔ اسے پڑھو، کیونکہ اللہ عزوجل تمہیں اس کے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا فرماتا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلَهُ بِكُلِّ حَرْفِ آيَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَلَا أَقُولُ: الْم عَشْرٌ وَلَكِنْ أَلِفٌ وَلَامٌ وَمِيمٌ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو قرآن پڑھے اسے آیت کے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں، اور میں یہ نہیں کہتا کہ الم دس نیکیوں کے برابر ہے، بلکہ الف، لام اور میم الگ الگ تیس نیکیاں ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ فَإِنَّكُمْ تُؤْجَرُونَ بِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهُ حَسَنَةٌ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: الْم حَسَنَةٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ وَلَامٌ وَمِيمٌ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِها} [الأنعام: ١٦٠] "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قرآن سیکھو اور اسے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس کے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی کا اجر ملتا ہے۔ سن لو، میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک نیکی ہے، بلکہ الف، لام اور میم الگ الگ تیس نیکیاں ہیں، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جو نیکی لے کر آئے اسے اس کے دس گنا ملیں گے“ [سورۃ الانعام: 160]۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ تُؤْجَرُوا بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: الْم، وَلَكِنْ أَقُولُ أَلِفٌ وَلَامٌ وَمِيمٌ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قرآن سیکھو اور اسے پڑھا کرو، تمہیں ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔ سن لو، میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ میں کہتا ہوں: الف، اور لام، اور میم، تین الگ حروف ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَجَلَسُوا عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِلَيْهِ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِلَيْهِ قَدْ كَانَ يَقُومُ عَلَيْنَا بِسُورَةِ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ بَطْنِهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِنَّهُ قَدْ وَعَى فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَسُمِّيَتِ الْمَانِعَةَ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایک شخص فوت ہوا تو عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے اور اس کے سرہانے بیٹھے، تو سر بول اٹھا: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، یہ سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ وہ اس کے پیروں کے پاس بیٹھے تو پاؤں بول اٹھے: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، یہ ہمارے سامنے سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ پھر وہ اس کے پیٹ کے پاس بیٹھے تو پیٹ بول اٹھا: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، اس نے مجھ میں سورۃ الملک یاد رکھی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس سورت کا نام المانعہ رکھا گیا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " يُؤْتَى الرَّجُلُ فِي قَبْرِهِ فَيُؤْتَى رِجْلَاهُ فَيَقُولَانِ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَا قِبَلَنَا مِنْ سَبِيلٍ كَانَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا سُورَةَ الْمُلْكِ، ثُمَّ يُؤْتَى جَوْفُهُ فَيَقُولُ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَيَّ سَبِيلٌ قَدْ كَانَ وَعَى فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَا قِبَلِي سَبِيلٌ كَانَ يَقْرَأُ فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «فَهِيَ الْمَانِعَةُ تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ، وَهِي فِي التَّوْرَاةِ هَذِهِ سُورَةُ الْمُلْكِ مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلَةٍ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ»
ترجمہ
… اس کے پیٹ کے پاس آیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: تمہارا مجھ پر کوئی راستہ نہیں، اس نے مجھ میں سورۃ الملک یاد رکھی ہوئی تھی، پھر اس کے سر کی طرف سے آیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: تمہارا میری طرف سے کوئی راستہ نہیں، یہ مجھ میں سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہی المانعہ ہے، یہ قبر کے عذاب سے روکتی ہے، اور تورات میں یہی سورۃ الملک ہے، جو اسے کسی رات پڑھے تو اس نے کثرت اور بہتری اختیار کی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ كُلَّ لَيْلَةٍ فَأُدْخِلَ قَبْرَهُ فَيُؤْتَى فِي قَبْرِهِ فَيُبْدَأُ بِرِجْلَيْهِ فَتَقُولُ رِجْلَاهُ: مَا لَكُمْ عَلَى مَا قِبَلِي سَبِيلٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ،
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی آدمی ہر رات سورۃ الملک پڑھتا ہو، پھر اسے قبر میں اتارا جائے، تو اس کی قبر میں فرشتے آتے ہیں، اور پہلے اس کے پیروں کی طرف سے آتے ہیں تو اس کے پاؤں کہتے ہیں: تمہارا میری طرف سے کوئی راستہ نہیں“، پھر راوی نے اسی طرح باقی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ،
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «الْقُرْآنُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ، فَمَنْ جَعَلَهُ إِمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَهُ سَاقَهُ إِلَى النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قرآن سفارش کرنے والا ہے اور اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے، اور یہ گواہی دینے والا ہے اور اس کی گواہی سچی مانی جاتی ہے۔ جو اسے اپنا پیش رو بنائے وہ اسے جنت کی طرف لے جائے گا، اور جو اسے اپنے پیچھے ڈال دے وہ اسے دوزخ کی طرف ہانک لے جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْقُرْآنَ وَيُعْجِبُهُ فَهُوَ بِخَيْرٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو قرآن سے محبت کرے اور اسے پسند کرے وہ خیر پر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَعْلَمَ أَنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ كَانَ يُحِبُّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو یہ جاننا چاہے کہ آیا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے تو وہ دیکھ لے، اگر وہ قرآن سے محبت کرتا ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَلَسَ شُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ، وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، فَقَالَ شُتَيْرٌ، لِمَسْرُوقٍ: حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ وَأُصَدِّقُكَ، أَوْ أُحَدِّثُ وَتُصَدِّقُنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يَقُولُ: " إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ لِخَيْرٍ وَشَرٍّ آيَةٌ فِي سُورَةِ النَّحْلِ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى، وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ، وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: ٩٠] " قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: " إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا آيَةٌ فِي سُورَةِ الْغُرَفِ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا} [الزمر: ٥٣] مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنْ شَاءَ "، قَالَ: صَدَقْتَ
ترجمہ
شتیر بن شکل اور مسروق بن اجدع بیٹھے، تو شتیر نے مسروق سے کہا: تم وہ بیان کرو جو تم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں اس کی تصدیق کروں گا، یا میں بیان کروں اور تم تصدیق کرو۔ مسروق نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن میں خیر و شر کے لیے سب سے جامع آیت سورۃ النحل کی یہ آیت ہے: ”بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو“ [سورۃ النحل: 90]۔“ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔ مسروق نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن میں خوشی کے لحاظ سے سب سے بڑی آیت سورۃ الزمر کی یہ آیت ہے: ”کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے اگر وہ چاہے“ [سورۃ الزمر: 53]۔“ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَلَسَ مَسْرُوقٌ، وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي مَسْجِدِ الْأَعْظَمِ، فَرَآهُمَا نَاسٌ فَتَحَوَّلُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِشُتَيْرٍ: إِنَّمَا تَحَوَّلَ إِلَيْنَا هَؤُلَاءِ لِنُحَدِّثَهُمْ، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ وَأُصَدِّقُكَ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ وَتُصَدِّقَنِي، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: حَدِّثْ أُصَدِّقُكَ، قَالَ شُتَيْرٌ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، " أَنَّ أَعْظَمَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ أَنَّ: " أَجْمَعَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} [النحل: ٩٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، قَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ، وَحَدَّثَنَا أَنَّ: " أَكْثَرَ أَوْ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ فَرَحًا: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا} [الزمر: ٥٣] مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ، وَحَدَّثَنَا أَنَّ: " أَشَدَّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ تَفْوِيضًا: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: ٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ
ترجمہ
شعبی بیان کرتے ہیں: مسروق اور شتیر بن شکل بڑی مسجد میں بیٹھے، تو لوگوں نے انہیں دیکھا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو مسروق نے شتیر سے کہا: یہ لوگ ہماری طرف اسی لیے متوجہ ہوئے ہیں کہ ہم انہیں کچھ بیان کریں، تو یا تو تم بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کروں، یا میں بیان کروں اور تم میری تصدیق کرو۔ مسروق نے کہا: تم بیان کرو، میں تمہاری تصدیق کروں گا۔ شتیر نے کہا: ہمیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت یہ ہے: ”اللہ، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ زندہ اور ہر چیز کا نگہبان ہے“ [سورۃ البقرہ: 255] آیت کے آخر تک۔ مسروق نے کہا: تم نے سچ کہا۔ ہمیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں سب سے جامع آیت یہ ہے: ”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“ [سورۃ النحل: 90] آیت کے آخر تک۔ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔ اور ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں خوشی کے لحاظ سے سب سے بڑی یا سب سے زیادہ آیت یہ ہے: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو“ [سورۃ الزمر: 53] آیت کے آخر تک۔ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔ اور ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں بھروسے کے اعتبار سے سب سے زوردار آیت یہ ہے: ”اور جو اللہ سے ڈرے، وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو“ [سورۃ الطلاق: 3] آیت کے آخر تک۔ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَشُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: جَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا النَّاسُ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إِنَّهُمْ لَمْ يَقُومُوا إِلَيْنَا إِلَّا لِنُحَدِّثَهُمْ، فَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَهُمْ وَتُصَدِّقَنِي وَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَهُمْ فَأُصَدِّقَكَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: «أَعْظَمُ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ آيَةُ الْكُرْسِيِّ» ، فَقَالَ الْآخَرُ: صَدَقْتَ، قَالَ الْآخَرُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يَقُولُ: " أَجْمَعُ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} [النحل: ٩٠] " قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَشَدُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ تَفْوِيضًا: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: ٢] "، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ الْآخَرُ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَكْبَرُ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ} [الزمر: ٥٣] "، قَالَ: صَدَقْتَ
ترجمہ
… ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ لوگ ہماری طرف اسی لیے کھڑے ہوئے ہیں کہ ہم انہیں کچھ بیان کریں، تو یا تو میں بیان کروں اور تم میری تصدیق کرو، یا تم بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کروں۔ ایک نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن میں سب سے عظیم آیت آیت الکرسی ہے۔“ دوسرے نے کہا: تم نے سچ کہا۔ دوسرے نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن میں سب سے جامع آیت: ”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“ [سورۃ النحل: 90] ہے۔“ کہا: تم نے سچ کہا۔ کہا: اور میں نے انہیں یہ بھی فرماتے سنا: ”قرآن میں بھروسے کے اعتبار سے سب سے زوردار آیت: ”اور جو اللہ سے ڈرے، وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے“ [سورۃ الطلاق: 2] ہے۔“ کہا: تم نے سچ کہا۔ دوسرے نے کہا: اور میں نے انہیں یہ بھی فرماتے سنا: ”قرآن میں خوشی کے لحاظ سے سب سے بڑی آیت: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی“ [سورۃ الزمر: 53] ہے۔“ کہا: تم نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ، وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَعَرَّضَ إِلَيْهِمَا حِلَقُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ جَلَسُوا إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْمَعُوا مِنَّا خَيْرًا، فَإِمَّا تُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأُصَدِّقُكَ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَتُصَدِّقُنِي، فَقَالَ: حَدِّثْنَا أَبَا عَائِشَةَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «الَعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ، وَيُكَذِّبُهُ» ، قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ، وَحَرَامٌ، وَأَمْرٌ، وَنَهْيٌ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ} [النحل: ٩٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ تَفْوِيضًا: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: ٣] "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، قَالَ: وَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " إِنَّ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
ترجمہ
… یا تو تم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی بات بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کروں، یا میں بیان کروں اور تم میری تصدیق کرو۔ ایک نے کہا: اے ابوعائشہ! تم بیان کرو۔ مسروق نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”آنکھیں زنا کرتی ہیں، پاؤں زنا کرتے ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں، پھر شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔“ دوسرے نے کہا: ہاں، میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر کہا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ: ”قرآن میں حلال، حرام، امر اور نہی کے لحاظ سے سب سے جامع آیت: ”بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی سے منع کرتا ہے“ [سورۃ النحل: 90] آیت کے آخر تک ہے؟“ کہا: ہاں، میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر کہا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ: ”قرآن میں توکل کے لحاظ سے سب سے بڑی آیت: ”اور جو اللہ سے ڈرے، وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو“ [سورۃ الطلاق: 3] ہے؟“ کہا: ہاں، میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر کہا: اور کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ: ”قرآن میں خوشی کے لحاظ سے سب سے سخت آیت: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو“ [سورۃ الزمر: 53] آیت کے آخر تک ہے؟“ کہا: ہاں، میں نے بھی یہ سنا ہے۔ اور یہ الفاظ حماد بن زید کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " لَوْ قِيلَ لِأَحَدِكُمْ: لَوْ غَدَوْتَ إِلَى الْقَرْيَةِ كَانَ لَكَ أَرْبَعُ مِائَةِ قَلَائِصَ كَانَ يَقُولُ: قَدْ أَنَى لِي أَنْ أَغْدُوَ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ غَدَا فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ كَانَتْ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعٍ وَأَرْبَعٍ حَتَّى عَدَّ شَيْئًا كَثِيرًا "
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ فَخَرَجَ أَتَاهُ النَّاسُ إِلَى دَارِهِ، فَيَقُولُ: «عَلَى مَكَانِكُمْ» ، ثُمَّ يَمُرُّ بِالَّذِينَ يُقْرِئُهُمُ الْقُرْآنَ فَيَقُولُ: «أَبَا فُلَانٍ بِأَيِّ سُورَةٍ أَنْتَ؟» فَيُخْبِرُهُ، فَيَقُولُ: «فِي أَيِّ آيَةٍ» فَيُخْبِرُهُ فَيَفْتَحُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي تَلِيهَا، ثُمَّ يَقُولُ: «تَعَلَّمْهَا فَإِنَّهَا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» ، قَالَ: فَيَظُنُّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْهَا، ثُمَّ يَمُرُّ بِالْآخَرِ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى يَقُولَ ذَلِكَ لِكُلِّهِمْ
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ فَخَرَجَ أَتَاهُ النَّاسُ إِلَى دَارِهِ، فَيَقُولُ: «عَلَى مَكَانِكُمْ» ، ثُمَّ يَمُرُّ بِالَّذِينَ يُقْرِئُهُمُ الْقُرْآنَ فَيَقُولُ: «أَبَا فُلَانٍ بِأَيِّ سُورَةٍ أَنْتَ؟» فَيُخْبِرُهُ، فَيَقُولُ: «فِي أَيِّ آيَةٍ» فَيُخْبِرُهُ فَيَفْتَحُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي تَلِيهَا، ثُمَّ يَقُولُ: «تَعَلَّمْهَا فَإِنَّهَا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» ، قَالَ: فَيَظُنُّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْهَا، ثُمَّ يَمُرُّ بِالْآخَرِ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى يَقُولَ ذَلِكَ لِكُلِّهِمْ
ترجمہ
… یہ اس کے لیے چار، چار اور چار سے بہتر ہے، یہاں تک کہ راوی نے بہت کچھ شمار کیا۔
ابواسحاق کہتے ہیں: مجھے ابوعبیدہ نے بتایا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب صبح کو نکلتے تو لوگ ان کے گھر آتے، وہ فرماتے: ”اپنی اپنی جگہ رہو۔“ پھر وہ ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جنہیں وہ قرآن پڑھایا کرتے تھے، تو فرماتے: ”اے ابوفلاں! تم کس سورت میں ہو؟“ وہ بتاتا، پھر فرماتے: ”کس آیت میں؟“ وہ بتاتا، تو وہ اسے اگلی آیت پڑھا دیتے، پھر فرماتے: ”اسے سیکھ لو، یہ تمہارے لیے آسمان و زمین کے درمیان کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ آدمی یہ سمجھتا کہ قرآن میں اس سے بہتر کوئی آیت نہیں۔ پھر وہ دوسرے کے پاس سے گزرتے تو اسے بھی یہی فرماتے، یہاں تک کہ سب کو یہی فرماتے۔
ابواسحاق کہتے ہیں: مجھے ابوعبیدہ نے بتایا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب صبح کو نکلتے تو لوگ ان کے گھر آتے، وہ فرماتے: ”اپنی اپنی جگہ رہو۔“ پھر وہ ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جنہیں وہ قرآن پڑھایا کرتے تھے، تو فرماتے: ”اے ابوفلاں! تم کس سورت میں ہو؟“ وہ بتاتا، پھر فرماتے: ”کس آیت میں؟“ وہ بتاتا، تو وہ اسے اگلی آیت پڑھا دیتے، پھر فرماتے: ”اسے سیکھ لو، یہ تمہارے لیے آسمان و زمین کے درمیان کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ آدمی یہ سمجھتا کہ قرآن میں اس سے بہتر کوئی آیت نہیں۔ پھر وہ دوسرے کے پاس سے گزرتے تو اسے بھی یہی فرماتے، یہاں تک کہ سب کو یہی فرماتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ كَانَ: يَقْرَأُ لِلرَّجُلِ الْآيَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: «لَهِيَ خَيْرٌ مِمَّا اطَّلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ - أَوْ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ -» حَتَّى يَقُولَ ذَلِكَ فِي الْقُرْآنِ كُلِّهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی آدمی کو آیت پڑھاتے، پھر فرماتے: ”یہ اس ہر چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے“ — یا فرماتے: ”زمین پر موجود ہر چیز سے بہتر ہے“ — یہاں تک کہ پورے قرآن کی ہر آیت کے بارے میں یہی فرماتے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ أَرَادَ خَيْرَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَلْيُثَوِّرِ الْقُرْآنَ، فَإِنَّ فِيهِ خَيْرُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو پہلوں اور پچھلوں کی خیر چاہے وہ قرآن کو خوب کھنگالے، کیونکہ اس میں پہلوں اور پچھلوں کی خیر موجود ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ أَرَادَ عِلْمًا فَلْيُثَوِّرِ الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ خَيْرُ الْأَوَّلِينَ وَخَيْرُ الْآخَرِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو علم چاہے وہ قرآن کو خوب کھنگالے، کیونکہ یہ پہلوں اور پچھلوں کی خیر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيُثَوِّرِ الْقُرْآنَ، فَإِنَّ فِيهِ عَلْمَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو علم چاہے وہ قرآن کو خوب کھنگالے، کیونکہ اس میں پہلوں اور پچھلوں کا علم موجود ہے۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لِكُلِّ حَرْفٍ حَدٌّ، وَلِكُلِّ حَدٍّ مُطَّلَعٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر حرف کی ایک حد ہے، اور ہر حد کی ایک جھلک ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ الْقُرْآنَ لَيْسَ مِنْهُ حَرْفٌ إِلَّا لَهُ حَدٌّ، وَلِكُلِّ حَدٍّ مُطَّلَعٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قرآن کا کوئی حرف ایسا نہیں مگر اس کی ایک حد ہے، اور ہر حد کی ایک جھلک ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے ”قل ھو اللہ احد“ پڑھی تو گویا اس نے قرآن کا ایک تہائی پڑھ لیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا يَعْمَلُ بِهِ كَمَثَلِ رَيْحَانَةٍ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَلَا طَعْمَ لَهَا، وَمَثَلُ الَّذِي يَعْمَلُ بِالْقُرْآنِ وَلَا يَقْرَؤُهُ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ وَيُعَلِّمُهُ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا يَعْمَلُ بِهِ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا خَبِيثٌ وَرِيحُهَا خَبِيثٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو قرآن پڑھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا اس کی مثال اس پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے مگر اس کا کوئی ذائقہ نہیں۔ اور جو قرآن پر عمل کرتا ہے مگر اسے پڑھتا نہیں اس کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ اچھا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں۔ اور جو قرآن سیکھتا اور سکھاتا ہے اس کی مثال سنگترے کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہے۔ اور جو نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی برا ہے اور خوشبو بھی بری ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے کسی رات سورۃ البقرہ پڑھی تو اس نے کثرت اور بہتری دونوں اختیار کر لیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے کسی رات سورۃ البقرہ کی تین آیات پڑھیں تو اس نے کثرت اور بہتری اختیار کر لی۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي بَيْتٍ لَمْ يَدْخُلْ ذَلِكَ الْبَيْتَ شَيْطَانٌ تِلْكَ اللَّيْلَةِ حَتَّى يُصْبِحَ، أَرْبَعَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِهَا، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَآيَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَخَوَاتِيمُهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے کسی گھر میں سورۃ البقرہ کی دس آیات پڑھیں تو اس رات صبح تک اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہو گا: شروع کی چار آیات، آیت الکرسی، اس کے بعد کی دو آیات، اور سورت کی آخری آیات۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ " كَانَ يَقْرَأُ: {وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ} [النمل: ٨٧] "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ النمل کی آیت ﴿وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ﴾ اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ، قَالَ: " قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَأْخُذْ عَلَيَّ إِلَّا حَرْفَيْنِ، قُلْتُ: {وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ} [النمل: ٨٧] ، قَالَ: {وَكُلٌّ آتَوْهُ دَاخِرِينَ} وَقُلْتُ: {حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا} [يوسف: ١١٠] قَالَ: {وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا} [يوسف: ١١٠] "
ترجمہ
تمیم بن حذلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے قرآن پڑھا تو انہوں نے صرف دو مقامات پر مجھے ٹوکا: میں نے پڑھا: ﴿وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ﴾، تو انہوں نے فرمایا: ﴿وَكُلٌّ آتَوْهُ دَاخِرِينَ﴾ پڑھو۔ اور میں نے پڑھا: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾، تو انہوں نے فرمایا: ﴿وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا﴾ پڑھو۔
…