❮
❯
حدیث نمبر: 8629
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ، وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَعَرَّضَ إِلَيْهِمَا حِلَقُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ جَلَسُوا إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْمَعُوا مِنَّا خَيْرًا، فَإِمَّا تُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأُصَدِّقُكَ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَتُصَدِّقُنِي، فَقَالَ: حَدِّثْنَا أَبَا عَائِشَةَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «الَعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ، وَيُكَذِّبُهُ» ، قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ، وَحَرَامٌ، وَأَمْرٌ، وَنَهْيٌ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ} [النحل: ٩٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ تَفْوِيضًا: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: ٣] "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، قَالَ: وَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " إِنَّ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} [الزمر: ٥٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
ترجمہ

ابو الضحیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے، تو مسجد کی مجلسیں ان دونوں کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ مسروق نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ لوگ ہمارے پاس اسی لیے بیٹھے ہیں کہ ہم سے کوئی بھلی بات سنیں، تو یا تو تم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی بات بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کروں، یا میں بیان کروں اور تم میری تصدیق کرو۔ (شتیر نے) کہا: اے ابوعائشہ! تم بیان کرو۔ مسروق نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”آنکھیں زنا کرتی ہیں، پاؤں زنا کرتے ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں، پھر شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔“ (شتیر نے) کہا: ہاں، میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر (مسروق نے) کہا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ: ”قرآن میں حلال، حرام، امر اور نہی کے لحاظ سے سب سے جامع آیت: ”بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی سے منع کرتا ہے“ [سورۃ النحل: 90] آیت کے آخر تک ہے؟“ کہا: ہاں۔ (پوچھنے والے نے) کہا: اور میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر کہا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ: ”قرآن میں توکل کے لحاظ سے سب سے بڑی آیت: ”اور جو اللہ سے ڈرے، وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو“ [سورۃ الطلاق: 3] ہے؟“ کہا: ہاں۔ (پوچھنے والے نے) کہا: اور میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر کہا: اور کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ: ”قرآن میں خوشی کے لحاظ سے سب سے سخت آیت: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو“ [سورۃ الزمر: 53] آیت کے آخر تک ہے؟“ کہا: ہاں۔ (پوچھنے والے نے) کہا: اور میں نے بھی یہ سنا ہے۔ اور یہ الفاظ حماد بن زید کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8629
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 134، حدیث 8661