حدیث نمبر: 8610
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اللهِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ فِيهِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ»
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، تو تم میں سے جو اس میں سے کچھ سیکھ سکے وہ سیکھے، کیونکہ وہ گھر جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو، خیر کے لحاظ سے سب سے چھوٹا گھر ہے، اور جس گھر میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو وہ اس ویران گھر کی طرح ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہ ہو، اور شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں وہ سورۃ البقرہ سنتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8610
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 129، حدیث 8642