حدیث نمبر: 8614
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللهِ، فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَهُوَ النُّورُ الْبَيِّنُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمَ، وَلَا يَزُوغُ فَيُسْتَعْتَبَ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلُقُ عَنْ رَدٍّ، اتْلُوهُ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُرُكُمْ بِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، لَمْ أَقُلْ لَكُمْ: الْم حَرْفٌ وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بے شک یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، تو اس کی دعوت سے جتنا سیکھ سکو سیکھو۔ بے شک یہ قرآن اللہ کی وہ رسی ہے جسے تھامنے کا اس نے حکم دیا ہے، اور یہ واضح نور اور نفع بخش شفا ہے، جو اسے تھامے اس کے لیے حفاظت ہے اور جو اس سے چمٹ جائے اس کے لیے نجات ہے۔ نہ یہ ٹیڑھا ہوتا ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے، اور نہ یہ بھٹکتا ہے کہ اس سے معافی مانگی جائے، اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے، اور یہ بار بار دہرانے سے پرانا نہیں ہوتا۔ اسے پڑھو، کیونکہ اللہ عزوجل تمہیں اس کے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا فرماتا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8614
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 130، حدیث 8646