حدیث نمبر: 8612
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ، وَسَنَامُ الْقُرْآنِ الْبَقَرَةُ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا، وَلُبَابُ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لِتَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ لَلْجَوْفُ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ كِتَابُ اللهِ شَيْءٌ»
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے، اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے، اور ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے، اور قرآن کا مغز مفصل سورتیں ہیں، اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے، اور سب سے چھوٹا گھر وہ سینہ ہے جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8612
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 129، حدیث 8644