حدیث نمبر: 8620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ كُلَّ لَيْلَةٍ فَأُدْخِلَ قَبْرَهُ فَيُؤْتَى فِي قَبْرِهِ فَيُبْدَأُ بِرِجْلَيْهِ فَتَقُولُ رِجْلَاهُ: مَا لَكُمْ عَلَى مَا قِبَلِي سَبِيلٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ،
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی آدمی ہر رات سورۃ الملک پڑھتا ہو، پھر اسے قبر میں اتارا جائے، تو اس کی قبر میں فرشتے آتے ہیں، اور پہلے اس کے پیروں کی طرف سے آتے ہیں تو اس کے پاؤں کہتے ہیں: تمہارا میری طرف سے کوئی راستہ نہیں“، پھر راوی نے اسی طرح باقی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8620
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 131، حدیث 8652