المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَلَسَ مَسْرُوقٌ، وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي مَسْجِدِ الْأَعْظَمِ، فَرَآهُمَا نَاسٌ فَتَحَوَّلُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِشُتَيْرٍ: إِنَّمَا تَحَوَّلَ إِلَيْنَا هَؤُلَاءِ لِنُحَدِّثَهُمْ، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ وَأُصَدِّقُكَ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ وَتُصَدِّقَنِي، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: حَدِّثْ أُصَدِّقُكَ، قَالَ شُتَيْرٌ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، " أَنَّ أَعْظَمَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ أَنَّ: " أَجْمَعَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ} [النحل: ٩٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، قَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ، وَحَدَّثَنَا أَنَّ: " أَكْثَرَ أَوْ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ فَرَحًا: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا} [الزمر: ٥٣] مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ، وَحَدَّثَنَا أَنَّ: " أَشَدَّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ تَفْوِيضًا: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: ٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَشعبی بیان کرتے ہیں: مسروق اور شتیر بن شکل بڑی مسجد میں بیٹھے، تو لوگوں نے انہیں دیکھا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو مسروق نے شتیر سے کہا: یہ لوگ ہماری طرف اسی لیے متوجہ ہوئے ہیں کہ ہم انہیں کچھ بیان کریں، تو یا تو تم بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کروں، یا میں بیان کروں اور تم میری تصدیق کرو۔ مسروق نے کہا: تم بیان کرو، میں تمہاری تصدیق کروں گا۔ شتیر نے کہا: ہمیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت یہ ہے: ”اللہ، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ زندہ اور ہر چیز کا نگہبان ہے“ [سورۃ البقرہ: 255] آیت کے آخر تک۔ مسروق نے کہا: تم نے سچ کہا۔ ہمیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں سب سے جامع آیت یہ ہے: ”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“ [سورۃ النحل: 90] آیت کے آخر تک۔ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔ اور ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں خوشی کے لحاظ سے سب سے بڑی یا سب سے زیادہ آیت یہ ہے: ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو“ [سورۃ الزمر: 53] آیت کے آخر تک۔ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔ اور ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ اللہ کی کتاب میں بھروسے کے اعتبار سے سب سے زوردار آیت یہ ہے: ”اور جو اللہ سے ڈرے، وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو“ [سورۃ الطلاق: 3] آیت کے آخر تک۔ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔