❮
❯
حدیث نمبر: 8619
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " يُؤْتَى الرَّجُلُ فِي قَبْرِهِ فَيُؤْتَى رِجْلَاهُ فَيَقُولَانِ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَا قِبَلَنَا مِنْ سَبِيلٍ كَانَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا سُورَةَ الْمُلْكِ، ثُمَّ يُؤْتَى جَوْفُهُ فَيَقُولُ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَيَّ سَبِيلٌ قَدْ كَانَ وَعَى فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَا قِبَلِي سَبِيلٌ كَانَ يَقْرَأُ فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «فَهِيَ الْمَانِعَةُ تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ، وَهِي فِي التَّوْرَاةِ هَذِهِ سُورَةُ الْمُلْكِ مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلَةٍ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آدمی کے پاس اس کی قبر میں (عذاب کے لیے) آیا جاتا ہے، تو اس کی ٹانگوں کی طرف سے آیا جاتا ہے تو وہ دونوں کہتی ہیں: تمہارا ہمارے ذریعے کوئی راستہ نہیں، یہ ہم پر سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ پھر اس کے پیٹ کے پاس آیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: تمہارا مجھ پر کوئی راستہ نہیں، اس نے مجھ میں سورۃ الملک یاد رکھی ہوئی تھی، پھر اس کے سر کی طرف سے آیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: تمہارا میری طرف سے کوئی راستہ نہیں، یہ مجھ میں سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہی المانعہ ہے، یہ قبر کے عذاب سے روکتی ہے، اور تورات میں یہی سورۃ الملک ہے، جو اسے کسی رات پڑھے تو اس نے کثرت اور بہتری اختیار کی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8619
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 131، حدیث 8651