المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8607
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: ذَكَرُوا لَهُ رَجُلًا يَقُصُّ، فَجَاءَ فِي الْقَوْمِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللهِ كَذَا وَكَذَا» ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ قَامَ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْمَعُوا؟» فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالَ: «إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابِهِ، إِنَّكُمْ لَمُتَمَسِّكُونَ بِطَرَفِ ضَلَالَةٍ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک واعظ کا ذکر کیا، تو وہ لوگوں کے درمیان آئے، میں نے اسے کہتے سنا: اتنی اتنی بار سبحان اللہ کہو۔ جب انہوں نے یہ سنا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کیا تم نہیں سنتے؟“ جب لوگوں نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”کیا تم محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟ تم گمراہی کے کنارے سے چمٹے ہوئے ہو۔“