❮
❯
حدیث نمبر: 8618
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَجَلَسُوا عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِلَيْهِ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِلَيْهِ قَدْ كَانَ يَقُومُ عَلَيْنَا بِسُورَةِ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ بَطْنِهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِنَّهُ قَدْ وَعَى فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَسُمِّيَتِ الْمَانِعَةَ "
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایک شخص فوت ہوا تو عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے اور اس کے سرہانے بیٹھے، تو (سر) بول اٹھا: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، یہ سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ وہ اس کے پیروں کے پاس بیٹھے تو (پاؤں) بول اٹھے: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، یہ ہم پر کھڑا ہو کر (نماز میں) سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ پھر وہ اس کے پیٹ کے پاس بیٹھے تو (پیٹ) بول اٹھا: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، اس نے مجھ میں سورۃ الملک یاد رکھی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس سورت کا نام المانعہ رکھا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8618
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 131، حدیث 8650