المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8618
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَجَلَسُوا عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِلَيْهِ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِلَيْهِ قَدْ كَانَ يَقُومُ عَلَيْنَا بِسُورَةِ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ بَطْنِهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِنَّهُ قَدْ وَعَى فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَسُمِّيَتِ الْمَانِعَةَ "ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایک شخص فوت ہوا تو عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے اور اس کے سرہانے بیٹھے، تو سر بول اٹھا: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، یہ سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ وہ اس کے پیروں کے پاس بیٹھے تو پاؤں بول اٹھے: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، یہ ہمارے سامنے سورۃ الملک پڑھا کرتا تھا۔ پھر وہ اس کے پیٹ کے پاس بیٹھے تو پیٹ بول اٹھا: تمہارا اس تک کوئی راستہ نہیں، اس نے مجھ میں سورۃ الملک یاد رکھی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس سورت کا نام المانعہ رکھا گیا۔“