حدیث نمبر: 8604
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ بِالرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: " لَا وَاللهِ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ أَمْرًا ذَعَرَنِي وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، وَلَقَدْ ذَعَرَنِي وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُمْ: سَبِّحُوا كَذَا وَكَذَا، احْمَدُوا كَذَا وَكَذَا "، قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُمْ، فَقَالَ: «مَا أَسْرَعَ مَا ضَلَلْتُمْ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَاءُ وَأَزْوَاجُهُ شَوَابٌّ، وَثِيَابُهُ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُغَيَّرْ، أَحْصُوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا أَضْمَنُ عَلَى اللهِ أَنْ يُحْصِيَ حَسَنَاتِكُمْ»
ترجمہ

… اس بات نے مجھے ڈرا دیا، حالانکہ بظاہر یہ اچھی بات لگتی ہے: کچھ لوگ مسجد میں بیٹھے ہیں اور ایک شخص انہیں کہہ رہا ہے: اتنی اتنی بار تسبیح پڑھو، اتنی اتنی بار حمد کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے، تو فرمایا: ”تم کتنی جلدی گمراہ ہو گئے، حالانکہ محمد ﷺ کے صحابہ ابھی زندہ ہیں، آپ ﷺ کی ازواج ابھی جوان ہیں، اور آپ ﷺ کے کپڑے اور برتن تک نہیں بدلے۔ تم اپنے گناہ شمار کر لو، میں اللہ کے ذمے لیتا ہوں کہ وہ تمہاری نیکیاں شمار کرے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8604
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 127، حدیث 8636