المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ بِالرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: " لَا وَاللهِ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ أَمْرًا ذَعَرَنِي وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، وَلَقَدْ ذَعَرَنِي وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُمْ: سَبِّحُوا كَذَا وَكَذَا، احْمَدُوا كَذَا وَكَذَا "، قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُمْ، فَقَالَ: «مَا أَسْرَعَ مَا ضَلَلْتُمْ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَاءُ وَأَزْوَاجُهُ شَوَابٌّ، وَثِيَابُهُ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُغَيَّرْ، أَحْصُوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا أَضْمَنُ عَلَى اللهِ أَنْ يُحْصِيَ حَسَنَاتِكُمْ»عمرو بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مغرب اور عشاء کے درمیان سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آئے اور پوچھا: کیا ابوعبدالرحمن تمہارے پاس آئے؟ (راوی کہتے ہیں) تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آئے، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس وقت آپ کو کیا چیز لائی؟ فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم، سوائے اس کے کہ میں نے ایک ایسی بات دیکھی جس نے مجھے پریشان کر دیا اگرچہ وہ بظاہر بھلائی ہی معلوم ہوتی ہے، مجھے اس نے پریشان کر دیا حالانکہ وہ بھلائی ہی معلوم ہوتی ہے: کچھ لوگ مسجد میں بیٹھے ہیں اور ایک شخص انہیں کہہ رہا ہے: اتنی اتنی بار تسبیح پڑھو، اتنی اتنی بار حمد کرو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے، تو فرمایا: ”تم کتنی جلدی گمراہ ہو گئے، حالانکہ محمد ﷺ کے صحابہ ابھی زندہ ہیں، آپ ﷺ کی ازواج ابھی جوان ہیں، اور آپ ﷺ کے کپڑے اور برتن تک نہیں بدلے۔ تم اپنے گناہ شمار کر لو، میں اللہ کے ذمے لیتا ہوں کہ وہ تمہاری نیکیاں شمار کرے گا۔“