حدیث نمبر: 8605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيَّ عَبْدُ اللهِ وَأَنَا أَقُصُّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو لَقَدْ ابْتَدَعْتُمْ بِدْعَةَ ضَلَالَةٍ، أَوَ إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ تَفَرَّقُوا عَنِّي حَتَّى رَأَيْتُ مَكَانِي مَا فِيهِ أَحَدٌ "
ترجمہ

عمرو بن زرارہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میرے پاس آ کر رکے، اس وقت میں مسجد میں وعظ کہہ رہا تھا، تو فرمایا: اے عمرو! تم نے ایک گمراہ کن بدعت ایجاد کر لی ہے، یا کیا تم محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ لوگ میرے پاس سے منتشر ہو گئے یہاں تک کہ میں نے اپنی جگہ کو خالی دیکھا کہ اس میں کوئی نہ بچا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8605
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 127، حدیث 8637