حدیث نمبر: 8626
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَلَسَ شُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ، وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، فَقَالَ شُتَيْرٌ، لِمَسْرُوقٍ: حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ وَأُصَدِّقُكَ، أَوْ أُحَدِّثُ وَتُصَدِّقُنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يَقُولُ: " إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ لِخَيْرٍ وَشَرٍّ آيَةٌ فِي سُورَةِ النَّحْلِ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى، وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ، وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: ٩٠] " قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: " إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا آيَةٌ فِي سُورَةِ الْغُرَفِ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا} [الزمر: ٥٣] مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنْ شَاءَ "، قَالَ: صَدَقْتَ
ترجمہ

شتیر بن شکل اور مسروق بن اجدع بیٹھے، تو شتیر نے مسروق سے کہا: تم وہ بیان کرو جو تم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں اس کی تصدیق کروں گا، یا میں بیان کروں اور تم تصدیق کرو۔ مسروق نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن میں خیر و شر کے لیے سب سے جامع آیت سورۃ النحل کی یہ آیت ہے: ”بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو“ [سورۃ النحل: 90]۔“ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔ مسروق نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن میں خوشی کے لحاظ سے سب سے بڑی آیت سورۃ الزمر کی یہ آیت ہے: ”کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے اگر وہ چاہے“ [سورۃ الزمر: 53]۔“ شتیر نے کہا: تم نے سچ کہا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8626
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 132، حدیث 8658