کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَثْوَةٍ ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْرَضُهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً " - يَعْنِي : أَبَا الدَّرْدَاءِ ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے بارے میں میری امت میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ نرم عمر ہے ، میری امت میں حیاء کے لحاظ سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ” رثوة “ ( یعنی نمایاں ) طور پر آئے گا ، میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت دی گئی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایم کی مراد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے اللہ تعالیٰ ان حضرات پر اپنی رضامندی نازل کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " أَرْأَفُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ ، وَأَقْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہے ، اسلام کے بارے میں ان میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے ، حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان بن عفان ہے ، عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی ہے ، علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے ، حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے ، قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حِرَاءَ ، فَتَزَلْزَلَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْبُتْ حِرَاءُ مَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدٌ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ : النَّضْرُ بْنُ عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر موجود تھے وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے حرا ! تم اپنی جگہ جمے رہو ، تم پر ایک نبی اور ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت اس پہاڑ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : نَاشَدَ عُثْمَانُ النَّاسَ يَوْمًا فَقَالَ : تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَارْتَجَزَ الْجَبَلُ وَعَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْبُتْ أُحُدُ مَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ " ؟ قُلْتُ : حَدِيثُ عُثْمَانَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فَقَالَ فِيهِ : صَعِدَ حِرَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن لوگوں کو واسطہ دے کر دریافت کیا کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ احد پہاڑ پر چڑھے تھے ، تو وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا ، اس وقت اس پہاڑ پر سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے احد ! اپنی جگہ جمے رہو کیونکہ تم پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر چڑھے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَغَيْرُهُمْ عَلَى جَبَلِ حِرَاءَ ، إِذْ تَحَرَّكَ بِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْكُنْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَصَحُّ شَيْءٍ عِنْدِي وَحَدِيثُ عُثْمَانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابوسرح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں سے دس افراد کے درمیان موجود تھے جن میں سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ، سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات تھے ، یہ لوگ حرا پہاڑ پر موجود تھے اس دوران اس پہاڑ نے حرکت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے حرا تم پرسکون رہو کیونکہ تم پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے اور وہ میرے نزدیک زیادہ مستند ہے اس کے علاوہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بھی گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے اور وہ میرے نزدیک زیادہ مستند ہے اس کے علاوہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بھی گزر چکی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزِي قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا ، وَفِيهِ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّرِيرُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں گویا اس وقت بھی اُن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ، سیدنا طلحہ ، ، سیدنا زبیر ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ضریر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ضریر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَمَرَ الشُّورَى ، دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ابْنَتُهُ فَقَالَتْ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ جَعَلْتَهُمْ فِي الشُّورَى لَيْسَ هُمْ رِضًا ، قَالَ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ وَهُوَ لِمَا بِهِ ، فَقَالَ : مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عُثْمَانَ ؟ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَوْمَ يَمُوتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ " قُلْتُ : لِعُثْمَانَ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لِعُثْمَانَ خَاصَّةً " . ¤ قَالَ : مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؟ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاعَ جُوعًا شَدِيدًا فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِرَغِيفَيْنِ بَيْنَهُمَا إِهَالَةٌ ، فَوَضَعَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَفَاكَ اللَّهُ أَمْرَ دُنْيَاكَ ، فَأَمَّا الْآخِرَةُ فَأَنَا لَهَا ضَامِنٌ " . ¤ مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي طَلْحَةَ ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَقَطَ رَحْلُهُ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً فَقَالَ : " مَنْ يُسَوِّي رَحْلِي وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " فَابْتَدَى طَلْحَةُ الرَّحْلَ ، فَسَوَّاهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَكَ الْجَنَّةُ عَلَيَّ يَاطَلْحَةُ غَدًا " . ¤ مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي الزُّبَيْرِ ؟! فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ نَامَ فَلَمْ يَزَلْ يَذُبُّ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ تَزَلْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ : لَمْ أَزَلْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَقَالَ : " هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : عَلَيَّ أَنْ أَذُبَّ عَنْ وَجْهِكَ شَرَرَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عَلِيٍّ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا عَلِيُّ يَدُكَ مَعَ يَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُ حَيْثُ أَدْخُلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ تَكَلَّمَ فِيهِ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَنْسِبْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے شوریٰ قائم کرنے کی ہدایت کی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے شوریٰ میں شامل کیا ہے وہ لوگ پسندیدہ نہیں ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے ٹیک دو ، لوگوں نے انہیں ٹیک دی تو انہوں نے اس حال میں یہ فرمایا : تم لوگ عثمان کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہو ؟ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس دن عثمان مر جائے گا آسمان کے فرشتے اس کی نماز جنازہ ادا کریں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے مخصوص ہے یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ یہ عثمان کے لئے مخصوص ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو شدید بھوک لاحق تھی ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ دو روٹیاں لے کے آئے ، ان کے درمیان گوشت موجود تھا ۔ انہوں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہارے دنیاوی معاملے کے حوالے سے تمہاری کفایت کرے جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو اس کا میں ضامن ہوں ۔ “ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم لوگ طلحہ کے بارے میں بات کرتے ہو ، میں نے اللہ کے رسول کو دیکھا کہ آپ ایک مرتبہ رات کے وقت اپنی سواری سے گر گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون شخص میرے پالان کو ٹھیک کرے گا ؟ اُسے جنت ملے گی ؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ لپک کر پالان کی طرف گئے اور اُسے ٹھیک کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے طلحہ ! کل کو تمہیں جنت دینا میرے ذمہ ہے ۔ “ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم لوگ زبیر کے بارے میں بات چیت کرو گے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مسلسل آپ کے چہرے سے مکھیاں ہٹا رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ بیدار ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم اسی طرح کرتے رہے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں ایسا ہی کرتا رہا ہوں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے اور یہ تمہیں یہ کہہ رہا ہے کہ میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن میں تمہارے چہرے سے جہنم کے شرارے پیچھے کروں ۔ “ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ) تم لوگ علی کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو ؟ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے علی ! قیامت کے دن تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور تم وہاں جاؤ گے جہاں میں جاؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن سلیمان خراسانی ہے ، جس کے بارے میں امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے اپنی طرف سے کلام کیا ہے ۔ انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن سلیمان خراسانی ہے ، جس کے بارے میں امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے اپنی طرف سے کلام کیا ہے ۔ انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يَقُولُ : " أَيْنَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ ؟ " فَلَمْ يَزَلْ يَتَفَقَّدُهُمْ ، وَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ حَتَّى اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ فَاحْفَظُوهُ وَعُوهُ ، وَحَدِّثُوا بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ : إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ خَلْقِهِ خَلْقًا " ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : ( اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ) " خَلْقًا يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، وَإِنِّي مُصْطَفٍ مِنْكُمْ مَنْ أُحِبُّ أَنْ أَصْطَفِيَهُ وَمُؤَاخٍِ بَيْنَكُمْ كَمَا آخَى اللَّهُ بَيْنَ الْمَلَائِكَةِ ، قُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ " فَقَامَ حَتَّى جَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " إِنَّ لَكَ عِنْدِي يَدًا ، اللَّهُ يَجْزِيكَ بِهَا ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُكَ خَلِيلًا فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ قَمِيصِي مِنْ جَسَدِي " وَحَرَّكَ قَمِيصَهُ بِيَدِهِ . ¤ ثُمَّ قَالَ : " ادْنُ يَا عُمَرُ " فَدَنَا عُمَرُ فَقَالَ : " قَدْ كُنْتَ شَدِيدَ الشَّغَبِ عَلَيْنَا أَبَا حَفْصٍ فَدَعَوْتُ اللَّهَ يُعِزُّ الدِّينَ بِكَ أَوْ بِأَبِي جَهْلٍ فَفَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ بِكَ ، فَكُنْتَ أَحَبَّهُمَا إِلَيَّ فَأَنْتَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ " ثُمَّ تَنَحَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ . ¤ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ فَقَالَ : ادْنُ مِنِّي يَا عُثْمَانُ " فَلَمْ يَزَلْ يَدْنُ مِنْهُ حَتَّى أَلْصَقَ رُكْبَتَيْهِ بِرُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى عُثْمَانَ فَإِذَا إِزَارُهُ مَحْلُولَةً ، فَزَرَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ : اجْمَعْ عِطْفَيْ رِدَائِكَ عَلَى حَقْوِكَ فَإِنَّ لَكَ شَأْنًا فِي أَهْلِ السَّمَاءِ ، أَنْتَ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَأَوْدَاجُكَ تَشْخَبُ دَمًا ، فَأَقُولُ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ ؟ فَتَقُولُ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَذَلِكَ كَلَامُ جِبْرِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِذْ هَتَفَ مِنْ السَّمَاءِ : أَلَا إِنَّ عُثْمَانَ أَمِينٌ عَلَى كُلِّ خَاذِلٍ " . ¤ ثُمَّ دَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَقَالَ : ادْنُ يَا أَمِينَ اللَّهِ ، وَالْأَمِينُ فِي السَّمَاءِ يُسَلِّطُكَ اللَّهُ عَلَى مَالِكَ بِالْحَقِّ ، أَمَا إِنَّ لَكَ عِنْدِي دَعْوَةً وَقَدْ أَخَّرْتُهَا " قَالَ : خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قَدْ حَمَّلْتَنِي يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمَانَةً ، أَكْثَرَ اللَّهُ مَالَكَ " وَجَعَلَ يُحَرِّكُ يَدَهُ ، ثُمَّ تَنَحَّى وَآخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عُثْمَانَ . ¤ ثُمَّ دَخَلَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَقَالَ : " ادْنُ مِنِّي " فَدَنَوَا مِنْهُ ، فَقَالَ : " أَنْتُمَا حَوَارِيِّيْ كَحَوَارِيِّ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ " ثُمَّ آخَى بَيْنَهُمَا . ¤ ثُمَّ دَعَا سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " ثُمَّ آخَى بَيْنَهُمَا . ¤ ثُمَّ دَعَا عُوَيْمِرَ أَبَا الدَّرْدَاءِ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ فَقَالَ : " يَا سَلْمَانُ أَنْتَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَقَدْ أَتَاكَ اللَّهُ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ وَالْعِلْمَ الْآخِرَ وَالْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ " ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُرْشِدُكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ؟ قَالَ : بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنْ تَنْقُدْهُمْ يَنْقُدُوكَ ، وَإِنْ تَتْرُكْهُمْ لَا يَتْرُكُوكَ ، وَإِنْ تَهْرَبْ مِنْهُمْ يُدْرِكُوكَ ، فَأَقْرِضْهُمْ عِرْضَكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ " فَآخَى بَيْنَهُمَا . ¤ ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا وَأَقِرُّوا عَيْنًا فَأَنْتُمْ أَوَّلُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَأَنْتُمْ فِي أَعْلَى الْغُرَفِ . ¤ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ رُوحِي ، وَانْقَطَعَ ظَهْرِي حِينَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ مَعَ أَصْحَابِكَ غَيْرِي ، فَإِنْ كَانَ مِنْ سُخْطٍ عَلَيَّ فَلَكَ الْعُتْبَى وَالْكَرَامَةُ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخَّرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى وَوَارِثِي " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا إِرْثِي مِنْكَ ؟ قَالَ : " مَا أَوْرَثَتِ الْأَنْبِيَاءُ " قَالَ : وَمَا أَوْرَثَتِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَكَ ؟ قَالَ : " كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ ، فَأَنْتَ مَعِي فِي قَصْرِي فِي الْجَنَّةِ - مَعَ فَاطِمَةَ - ابْنَتِي ، وَأَنْتَ أَخِي وَرَفِيقِي " ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ : ( إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ) ، " الْأَخِلَّاءُ فِي اللَّهِ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي عُثْمَانَ : " أَمِيرٌ عَلَى كُلِّ مَخْذُولٍ " ، وَقَالَ فِي أَبِي الدَّرْدَاءِ : " أَلَا أَرْشُوكَ " بَدَلَ " أُرْشِدُكَ " وَقَالَ فِيهِ : " فَأَقْرِضْهُمْ عِرْضَكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَاءَ أَمَامَكَ " ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے یہ فرمانا شروع کیا : فلاں بن فلاں کہاں ہے ؟ آپ اسی طرح مختلف لوگوں کے بارے میں دریافت کرتے رہے ، اور ان کی طرف پیغام بھیجتے رہے ، یہاں تک کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک بات بیان کرنے لگا ہوں تم اس کی حفاظت کرنا اور اسے یاد رکھنا اور اپنے بعد والے لوگوں کو یہ بیان کرنا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے ایک خاص مخلوق کو منتخب کیا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے اور لوگوں میں سے رسولوں کو منتخب کیا ۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی مخلوق کو منتخب کیا ہے جسے وہ جنت میں داخل کرے گا اور میں تم میں سے اس شخص کو منتخب کروں گا ، جسے میں پسند کروں گا کہ میں اسے منتخب کروں اور میں تمہارے درمیان بھائی چارہ قائم کروں گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے ، اے ابوبکر تم اٹھو ، وہ کھڑے ہوئے ، یہاں تک کہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں تمہیں خلیل بناتا ، تمہاری میرے نزدیک وہی حیثیت ہے جو جسم کے ساتھ قمیص کی ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی قمیص کو حرکت دے کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر تم قریب آ جاؤ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قریب آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوحفص ! تم پہلے ہمارے شدید مخالف تھے ، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ تمہارے ذریعے یا ابوجہل کے ذریعے دین کو غلبہ عطا کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعے ایسا کر دیا اور ویسے بھی دونوں میں سے تم میرے نزدیک زیادہ محبوب تھے ، تم جنت میں میرے ساتھ ہو گے اور اس امت کے تیسرے فرد ہو گے پھر وہ پیچھے ہٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے عثمان تم میرے قریب آ جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل انہیں قریب کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان کے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ ملنے لگے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ان کی طرف دیکھا پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظمت والا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کے بٹن کھلے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کے بٹن بند کیے اور فرمایا : تم اپنی چادر کے دونوں کنارے اپنے پہلو پر اکٹھے رکھا کرو کیونکہ آسمان والوں میں تمہاری ایک مخصوص حیثیت ہے ، تم ان افراد میں سے ایک ہو جو حوض پر میرے پاس آئیں گے ، اور اس وقت تمہاری رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، میں دریافت کروں گا تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا ہے ؟ تو تم کہو گے فلاں نے اور فلاں نے ، یہ بات جبرائیل نے بتائی ہے ، اس نے آسمان سے پکار کر یہ کہا: ہے : خبردار ! عثمان ہر ” خاذل “ ( ضرورت کے وقت الگ ہونے والے ) کا امین ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے اللہ کے مقرر کردہ امین اور وہ شخص ! کہ جسے آسمان میں امین قرار دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے مال پر حق کے ہمراہ غلبہ دیا ہے تمہارے لئے میرے پاس ایک مخصوص دعا ہے ، جسے میں نے مؤخر کر دیا ہے ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے کوئی چیز اختیار کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبدالرحمن تم نے مجھے ایک امانت سونپی ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارا مال زیادہ کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کو حرکت دینے لگے پھر وہ پیچھے ہٹ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں میرے حواری ہو ، جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے حواری ہوتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا اے عمار ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودرداء ، عویمر اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور فرمایا : اے سلمان ! تم ہم میں سے اہل بیت میں سے ہو ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہلے والوں کا علم بھی دیا ہے اور بعد والوں کا بھی علم دیا ہے ، پہلی کتاب کا علم بھی دیا ہے اور بعد والی کتاب کا علم بھی دیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابودرداء کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم ان لوگوں پر تنقید کرو گے تو وہ تم پر تنقید کریں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے اور اگر تم ان سے بھاگو گے تو وہ تم تک پہنچ جائیں گے ، تو جس دن تمہاری محتاجی ہو اس دن تم اپنی عزت انہیں قرض دے دینا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں افراد کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف نظر کی اور فرمایا : تم لوگ خوشخبری حاصل کرو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو کہ تم پہلے لوگ ہو گے جو حوض پر میرے پاس آؤ گے ، اور تم بالائی بالاخانوں میں ہو گے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو گمراہی کے مقابلے میں ہدایت نصیب کرتا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری روح نکلنے لگی ہے اور میری کمر ٹوٹنے لگی ہے جب میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ یہ سلوک کیا اور میرے ساتھ کچھ نہیں کیا ، اگر تو آپ کو مجھ سے کوئی ناراضگی ہے تو آپ کو شرف اور فضیلت حاصل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تمہیں اس لئے موخر کیا ہے ، میں نے تمہیں اپنے لئے رکھا ہے ، تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو سیدنا بارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی اور اپنے وارث ہونے کے طور پر تمہیں چھوڑا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے کیا وراثت لوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ چیز جو انبیاء وراثت میں چھوڑتے ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سے پہلے انبیاء وراثت میں کیا چھوڑتے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب اور لوگوں کے نبی کی سنت ، تو تم جنت میں میرے محل میں میرے ساتھ ہو گے ، اور میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ ہو گے تم میرے بھائی اور میرے رفیق ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ بھائی بھائی ہوں گے اور پلنگوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔ “ ( اور یہ آیت بھی تلاوت کی : ) ” اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے ایک دوسرے سے دوستی رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ہر ” مخذول ( جس کی ضرورت کے وقت اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو ) پر امیر ہو گا ، اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اس میں لفظ ” ارشدک“ کی جگہ لفظ ” ارشوک“ ہے ۔ اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اپنی محتاجی کے دن اپنی عزت انہیں قرضے کے طور پر دے دینا اور یہ بات جان لینا کہ جزا آگے ملے گی ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ہر ” مخذول ( جس کی ضرورت کے وقت اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو ) پر امیر ہو گا ، اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اس میں لفظ ” ارشدک“ کی جگہ لفظ ” ارشوک“ ہے ۔ اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اپنی محتاجی کے دن اپنی عزت انہیں قرضے کے طور پر دے دینا اور یہ بات جان لینا کہ جزا آگے ملے گی ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ أَجْمَعَ مَا كَانُوا فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ مَنَازِلَكُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَقُرْبَ مَنَازِلِكُمْ " . ¤ ثُمَّ إِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا أَعْرِفُ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَاسْمَ أُمِّهِ لَا يَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا قَالُوا : مَرْحَبًا مَرْحَبًا " ، فَقَالَ سَلْمَانُ : إِنَّ هَذَا لَمُرْتَفِعٌ شَأْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : " يَا عُمَرُ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ اللُّؤْلُؤُ أَبْيَضُ ، مُشَيَّدٌ بِالْيَاقُوتِ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لِي ، فَذَهَبْتُ لِأَدْخُلَهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَا مَنَعَنِي مِنْ دُخُولِهِ إِلَّا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ " فَبَكَى عُمْرُ وَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُثْمَانَ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقًا فِي الْجَنَّةِ وَأَنْتَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " . ¤ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَلِيُّ أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ مَنْزِلُكَ فِي الْجَنَّةِ مُقَابِلَ مَنْزِلِي ؟ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ : " يَا طَلْحَةُ وَيَا زُبَيْرُ ، إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَأَنْتُمَا حَوَارِيِّ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ : لَقَدْ بُطِّىءَ بِكَ عَنِّي مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِي حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ هَلَكْتَ وَعَرِقْتَ عَرَقًا شَدِيدًا فَقُلْتُ : مَا بَطَّأَ بِكَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ كَثْرَةِ مَالِي ، مَا زِلْتُ مَوْقُوفًا مُحَاسَبًا ، أُسْأَلُ عَنْ مَالِي : مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبْتَهُ ؟ وَفِيمَا أَنْفَقْتَهُ ؟ فَبَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِائَةُ رَاحِلَةٍ جَاءَتْنِي اللَّيْلَةَ مِنْ تِجَارَةِ مِصْرَ ، أُشْهِدَكُ أَنَّهَا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَيْتَامِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُخَفِّفُ عَنِّي ذَلِكَ الْيَوْمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ : عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اصحاب کے پاس تشریف لائے جتنے بھی موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے گزشتہ رات میں تمہاری رہائشی جگہوں کو اور تمہاری رہائشی جگہوں کے قریب کو دیکھا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر میں ایک شخص کو جانتا ہوں ، میں اس کا نام جانتا ہوں ، میں اس کے باپ کا نام جانتا ہوں ۔ اس کی ماں کا نام جانتا ہوں ، وہ شخص جنت کے دروازوں میں سے جس بھی دروازے پر آئے گا ، تو فرشتے یہ کہیں گے کہ آپ کو خوش آمدید ہے ، آپ کو خوش آمدید ہے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا مرتبہ تو بڑا بلند ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ابوبکر بن ابوقحافہ ہو گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں نے جنت میں سفید موتی سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس میں یاقوت لگے ہوئے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہو گا ؟ تو بتایا گیا : قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ مجھے ملے گا ، میں اس میں داخل ہونے لگا تو فرشتے نے بتایا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہو گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اے ابوحفص ! میں اس میں داخل صرف اس لئے نہیں ہوا کہ تمہارے مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا میں آپ کے مقابلے میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عثمان ! ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہو گا ، اور تم جنت میں میرے رفیق ہو گے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جنت میں تمہاری رہائش گاہ ، میری رہائش گاہ کے مقابل ہو گی ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے طلحہ اور اے زبیر ! ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے ، اور تم دونوں میرے حواری ہو ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے تمام اصحاب میں سے صرف تمہیں مجھ تک آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم کہیں ہلاکت کا شکار نہ ہو جاؤ ، جب تم آئے تو تمہیں بہت زیادہ پسینہ آیا ہوا تھا ، میں نے دریافت کیا : تمہیں آنے میں تاخیر کیوں ہوئی ، تو تم نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے مال کی کثرت کی وجہ سے ایسا ہوا ، مجھے مسلسل روک کے رکھا گیا ، اور حساب لیا جاتا رہا ، مجھ سے میرے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ تم نے اسے کیسے کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ رونے لگے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک سو اونٹنیاں ہیں جو گزشتہ رات مصر کی تجارت سے میرے پاس آئی ہیں میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ اہل مدینہ کے لئے اور یہاں کے یتیم بچوں کے لئے صدقہ ہیں تاکہ اس دن اللہ تعالیٰ مجھے آسانی نصیب فرمائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، یحیی بن معین ، ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ عجلی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، یحیی بن معین ، ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ عجلی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ : أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ فَارِسَ ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ ، وَصُهَيْبُ سَابِقُ الرُّومِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سبقت لے جانے والے افراد چار ہیں ، میں عربوں میں سبقت لے جانے والا ہوں ، سلمان فارسیوں میں سبقت لے جانے والا ہے ، بلال حبشیوں میں سبقت لے جانے والا ہے اور صہیب رومیوں میں سبقت لے جانے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَصُهَيْبُ سَابِقُ الرُّومِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ فَارِسَ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : أَيُّوبُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الصُّورِيُّ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَقِيَّةَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : عربوں میں جنت کی طرف سبقت لے جانا والا میں ہوں ، رومیوں میں صہیب جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے ، حبشیوں میں بلال جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے اور فارسیوں میں سلمان جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ابوسلیمان صوری ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور بقیہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ابوسلیمان صوری ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور بقیہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَيَا عُمَرُ فَقَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا بِوَحْيٍ أُنْزِلَ عَلَيَّ مِنَ السَّمَاءِ فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا وَأَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَلْيُصَافِحْهُ ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِ عُمَرَ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَكُونُ قَبْلَهُ وَيَمُوتُ قَبْلَهُ " . ¤ وَقَالَ : " يَا زُبَيْرُ ، يَا طَلْحَةُ تَعَالَا ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا وَأَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ " فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَلِيُّ تَعَالَ ، يَا عَمَّارُ تَعَالَ ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي اللَّهِ أَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ " فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ وَلِسَلْمَانَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَلِصُهَيْبٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ لِأَبِي ذَرٍّ وَلِبِلَالٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، يَا أَبَا هِنْدٍ تَعَالَا " - حَجَّامًا كَانَ يَحْجِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ دَمَهُ فَقَالَا : " فَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ وَلِأَبِي أَيُّوبَ وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ، پھر آپ نے فرمایا : اے عمر مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں وحی کے حکم مطابق تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دوں ، جو وحی مجھ پر آسمان سے نازل ہوئی ہے ، تو تم دونوں دنیا میں بھی بھائی ہو اور جنت میں بھی بھائی ہو گے ، تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کو سلام کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس سے پہلے ہو گا ، اور یہ اس سے پہلے مرے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے زبیر اور اے طلحہ ! تم دونوں آگے آؤ ، مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کروں ، تو تم دونوں دنیا میں بھائی ہو اور جنت میں بھی دو بھائی ہو گے ، تم میں سے ہر ایک کو دوسرے سے سلام کرنا چاہیے ، تو ان دونوں نے بھی ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی تم آگے آؤ ، اے عمار تم آگے آؤ ، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کروں ، تو تم دونوں اللہ کے لئے ایک دوسرے کے بھائی ہو اور جنت میں بھی دو بھائی ہو گے ، تم دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کو سلام کرنا چاہیے ، تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی ہی بات کہی تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسامہ اور اے ابوہند تم دونوں آگے آؤ ، ابوہند ایک پچھنے لگانے والے صاحب تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگایا کرتے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پیا ہوا تھا ، وہ دونوں کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بھی اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے بھی ایسا ہی کیا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَرْحَمُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْقَهُهَا زَيْدُ بْنُ ثَاَبِتٍ ، وَقَدْ أُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً ، يَعْنِي : أَبَا الدَّرْدَاءِ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لئے میری امت میں سب سے رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، اور میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ مہربان عمر ہے ، اور میری امت میں حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے ، اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال اور حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ” رتوۃ“ ( یعنی نمایاں حیثیت والے ) کے طور پر آئے گا ، اور میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور سب سے زیادہ ( دین کی ) سمجھ بوجھ رکھنے والا زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت عطا کی گئی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں اس سے مراد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان سب حضرات پر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ اشْتَاقَتْ إِلَى أَرْبَعَةٍ مِنْ أَصْحَابِي ، فَأَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أُحِبَّهُمْ " . فَانْتَدَبَ صُهَيْبٌ الرُّومِيُّ ، وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ حَتَّى نُحِبَّهُمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمَّارُ ، عَرَّفَكَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ فَأَحَدُهُمْ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ ، وَالثَّالِثُ : سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَالرَّابِعُ : أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! جنت میرے اصحاب میں سے چار افراد کی مشتاق ہے اور میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں ان ( چار افراد ) سے محبت رکھوں ، اس وقت سیدنا صہیب رومی ، سیدنا بلال بن رباح ، سیدنا طلحہ ، سیدنا زبیر ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا حذیفہ بن یمان ، اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا وہ چار افراد کون ہیں ( آپ ہمیں اس بارے میں بتائیے ) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں منافقین کی معرفت عطا کی ہے ، جہاں تک ان چار افراد کا تعلق ہے تو ان میں سے ایک علی بن ابوطالب ہے ، ایک مقداد بن اسود کندی ہے ، تیسرا سلمان فارسی ہے اور چوتھا ابوذر غفاری ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ أَرْبَعَةٌ ، وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُحِبَّهُمْ " . قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : سَمِّهِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَمَا إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ " . حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدَاةُ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، النَّفَرُ الَّذِينَ أَخْبَرَكَ اللَّهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ؟ قَالَ : " عَلِيٌّ ، وَأَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَذَّبَهُ شُعْبَةُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : آپ کا پروردگار آپ کے اصحاب میں سے چار افراد سے محبت رکھتا ہے ، اور وہ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ بھی ان سے محبت رکھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے سامنے ان لوگوں کا نام بیان کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ان میں سے ایک علی ہے ، اگلے دن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ افراد جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت رکھتا ہے ( وہ کون ہیں ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور سلمان فارسی“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی اور دیگر حضرات نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے جسے شعبہ نے جھوٹا قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے جسے شعبہ نے جھوٹا قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ الثَّنَاءَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : وَمَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " . ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى الْحَوَارِيِّينَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا ، إِنَّهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عُمَرَ النَّصِيبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ، ان سے کہا: گیا کہ آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بڑی تعریف کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں ایسا کیوں نہ کروں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن چار افراد سے سیکھو ، عبداللہ بن مسعود ، سالم مولیٰ ابوحذیفہ ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ وہ دونوں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی دین میں وہی حیثیت ہے جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمر نصیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمر نصیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ فَضْلًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے تین افراد ایسے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو ان سے زیادہ فضیلت والا شمار نہیں کیا جا سکتا ، سعد بن معاذ ، اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نے اسے معنعن روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نے اسے معنعن روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ ، فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَنَا آخُذُهَا ، وَأَنَا أَحَقُّ بِهَا ، بِنْتُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا ، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ . فَقَالَ عَلِيٌّ : بَلْ أَنَا أَحَقُّ بِهَا مِنْكُمَا ; بِنْتُ عَمِّي ، وَعِنْدِي بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا . وَأَنَا أَرْفَعُ صَوْتِي أُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُجَّتِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ . فَقَالَ زَيْدٌ : بَلْ أَنَا أَحَقُّ بِهَا ، خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ ، وَجِئْتُ بِهَا . قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " . فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ فَلِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ " . قُلْتُ : نَزَلَ الْقُرْآنُ فِي رَفْعِنَا أَصْوَاتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدٍ : " أَمَّا أَنْتَ فَمَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا " . قَالَ : قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . " وَأَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَأَنْتَ مِنْ شَجَرَتِي الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا " . قَالَ : قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . " وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَصَفِيِّي وَأَمِينِي " . قَالَ : رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . " وَأَمَّا الْجَارِيَةُ ; فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا ، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ " . قَالَ : قَدْ سَلَّمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زید بن حارثہ مکہ سے نکلے تو وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو بھی لے آئے ، سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بچی کو لوں گا ، کیونکہ میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ، اور خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ دونوں کے مقابلے میں ، میں اس بچی کا زیادہ حق رکھتا ہوں ، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اللہ کے رسول کی صاحبزادی میری بیوی ہے ، اور وہ اس کا زیادہ حق رکھتی ہے ، میں نے اپنی آواز بلند کی تھی تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر تشریف لانے سے پہلے میری دلیل کا پتہ چل جائے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ میں اس بچی کا زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میں اس کے لئے نکل کے گیا تھا اور میں نے سفر کیا اور اسے لے کر آیا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کا معاملہ کیا ہے ؟ لوگوں نے اپنا اپنا موقف آپ کے سامنے دہرا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کے درمیان فیصلہ دے دیتا ہوں ، اس بارے میں اور اس کے علاوہ کے بارے میں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمارے آواز بلند کرنے کے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے اور اس بچے کے مولیٰ ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بچی سے راضی ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جعفر جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے تم مجھ سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو اور تم میرے اسی شجرے سے تعلق رکھتے ہو جس سے مجھے پیدا کیا گیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے راضی ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے خاص ساتھی اور میرے امین ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں راضی ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک بچی کا تعلق ہے تو میں اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ وہ جعفر کو ملے گی اور اپنی خالہ کے ساتھ رہے گی کیونکہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اس کو تسلیم کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ ، نُجَبَاءَ ، وُزَرَاءَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ : حَمْزَةُ ، وَجَعْفَرٌ ، وَعَلِيٌّ ، وَحَسَنٌ ، وَحُسَيْنٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَالْمِقْدَادُ ، وَحُذَيْفَةُ ، وَعَمَّارٌ ، وَسَلْمَانُ ، وَبِلَالٌ " . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ لِبَعْضِ رِوَايَاتِ التِّرْمِذِيِّ ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي نُسْخَتِي . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَزَادَ : " وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ " . وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَذَكَرَ فِيهِمْ فِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ " . وَفِيهِ كَثِيرٌ النَّوَّاءُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی نبی ہوا ہے اسے سات ایسے ساتھی دیے گئے ہیں جو نجباء اور وزراء ہوتے ہیں ، اور مجھے چودہ ایسے ساتھی دیے گئے ہیں ، حمزہ ، جعفر ، علی ، حسن ، حسین ، ابوبکر ، عمر ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر ، مقدار ، حذیفہ ، عمار ، سلمان اور بلال ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اطراف میں اس روایت کی نسبت ترمذی کی بعض روایات کی طرف کی گئی ہے لیکن میں نے اپنے پاس موجود نسخے میں یہ روایت نہیں پائی ہے یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : عبداللہ بن مسعود ، امام ترمذی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ انہوں نے بعض طرق میں ان افراد میں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر نواء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمْ يَسُؤْنِي قَطُّ ، فَاعْرِفُوا ذَلِكَ لَهُ . يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ رَاضٍ ، فَاعْرِفُوا ذَلِكَ لَهُمْ . أَيُّهَا النَّاسُ ، احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ، وَأَصْهَارِي ، وَأَخْتَانِي ، لَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ بِمَظْلِمَةٍ مِنْهُمْ . أَيُّهَا النَّاسُ ، ارْفَعُوا أَلْسِنَتَكُمْ عَنِ الْمُسْلِمِينَ ، وَإِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَقُولُوا فِيهِ خَيْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سہل بن یوسف بن سہل اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب حجۃ الوداع سے تشریف لائے ، تو آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! ابوبکر نے میرے ساتھ کبھی کوئی برائی نہیں کی ، تو تم اس حوالے سے اس کو پہچان لو ، اے لوگو ! بے شک میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد ، عبدالرحمن بن عوف اور ابتداء میں ہجرت کرنے والے مہاجرین سے راضی ہوں ، تو تم یہ چیز ان کے لئے جان لو ، اے لوگو ! میرے اصحاب میرے سسرالی عزیزوں ، میرے دامادوں کے بارے میں میرا خیال رکھنا ، اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک کے حوالے سے کسی زیادتی کا تم سے حساب نہ لے ، اے لوگو ! مسلمانوں سے اپنی زبانیں روک کے رکھنا ، جب ان میں سے کوئی شخص مر جائے تو تم اس کے بارے میں بھلائی کی بات کہنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : ثَلَاثَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَصْبَحُ قُرَيْشٍ وُجُوهًا ، وَأَحْسَنُهَا أَخْلَاقًا ، وَأَثْبَتُهَا جَنَانًا ، إِنْ حَدَّثُوكَ لَمْ يَكْذِبُوكَ ، وَإِنْ حَدَّثْتَهُمْ لَمْ يُكَذِّبُوكَ : أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے تین افراد ایسے ہیں جو سب سے زیادہ خوبصورت چہرے کے مالک ، سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک اور سب سے زیادہ مہربان ہیں ، اگر وہ تمہارے ساتھ کوئی بات کریں گے ، تو تمہارے ساتھ غلط بیانی نہیں کریں گے ، اگر تم ان کے ساتھ کوئی بات کرو گے ، تو وہ تمہیں جھوٹا قرار نہیں دیں گے ، وہ سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح ، ، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : خَلَوْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : أَيُّ أَصْحَابِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ حَتَّى أُحِبَّ مَنْ تُحِبُّ كَمَا أُحِبُّ ؟ قَالَ : " اكْتُمْ عَلَيَّ يَا عُبَادَةُ حَيَاتِي " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ عَلِيٌّ " . ثُمَّ سَكَتَ ، فَقُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ بَعْدَ هَؤُلَاءِ إِلَّا الزُّبَيْرُ ، وَطَلْحَةُ ، وَسَعْدٌ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ ، وَمُعَاذٌ ، وَأَبُو طَلْحَةَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ ، وَأَنْتَ يَا عُبَادَةُ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَابْنُ عَوْفٍ ، وَابْنُ عَفَّانَ ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ مِنَ الْمَوَالِي : سَلْمَانُ ، وَصُهَيْبٌ ، وَبِلَالٌ ، وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، هَؤُلَاءِ خَاصَّتِي ، وَكُلُّ أَصْحَابِي عَلَيَّ كَرِيمٌ ، إِلَيَّ حَبِيبٌ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : لَمْ تَذْكُرْ حَمْزَةَ وَلَا جَعْفَرًا ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ إِنَّهُمَا : كَانَا أُصِيبَا يَوْمَ سَأَلْتُ إِنَّمَا كَانَ بِأَخِرَةٍ ، أَوْ كَمَا قَالَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ذَكَرَهُ فِي الْمِيزَانِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلَامًا لِأَحَدٍ ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ أَنَّ لَهُ حَدِيثًا فِي الْفَضَائِلِ بَاطِلٌ ، وَلَمْ أَدْرِ مَا بُطْلَانُهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلا موجود تھا ، میں نے عرض کی : آپ کے اصحاب میں سے آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ تاکہ میں بھی اس سے محبت رکھوں جس سے آپ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبادہ ! میری زندگی میں تم نے یہ بات پوشیدہ رکھنی ہے ، میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر پھر عمر پھر علی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، میں نے دریافت کیا : پھر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے بعد اور کون ہو سکتا ہے ؟ زبیر ہے ، طلحہ ، سعد ، ابوعبیدہ ، معاذ ، ابوطلحہ ، ابوایوب اور اے عبادہ ! تم اور ابی بن کعب ، ابودرداء ، ابن مسعود ، ابن عوف ، ابن عفان اور موالی سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ ہیں ، سلمان ، صہیب ، بلال ، سالم مولی ابوحذیفہ یہ میرے خاص لوگ ہیں ، اور ویسے میرا ہر صحابی میرے نزدیک معزز ہے اور پسندیدہ ہے خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ؟ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت یہ لوگ شہید ہو چکے تھے جب میں نے یہ سوال کیا تھا ، یہ بعد کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ہے اس نے ابوقلابہ سے روایات نقل کی ہیں ، مصنف نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کسی کا کلام ذکر نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کے حوالے سے فضائل کے بارے میں ایک جھوٹی حدیث منقول ہے مصنف کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس کے جھوٹے ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ہے اس نے ابوقلابہ سے روایات نقل کی ہیں ، مصنف نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کسی کا کلام ذکر نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کے حوالے سے فضائل کے بارے میں ایک جھوٹی حدیث منقول ہے مصنف کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس کے جھوٹے ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : قَرَأَ الْقُرْآنَ وَوَقَفَ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ . وَسُئِلَ عَنْ عَمَّارٍ ، فَقَالَ : مُؤْمِنٌ نَسِيٌّ ، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ ، وَقَدْ حُشِيَ مَا بَيْنَ قَرْنِهِ إِلَى كَعْبِهِ إِيمَانًا . وَسُئِلَ عَنْ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : كَانَ أَعْلَمَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُنَافِقِينَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَأُخْبَرَ بِهِمْ . ¤ قَالُوا : فَحَدِّثْنَا : عَنْ سَلْمَانَ ؟ قَالَ : أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ ، وَالْعِلْمَ الْآخِرَ ، بَحْرٌ لَا يُنْزَحُ ، مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ . ¤ قَالُوا : حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي ذَرٍّ ؟ قَالَ : وَعَنْ عِلْمًا ضَيَّعَهُ النَّاسُ . ¤ قَالُوا : فَأَخْبِرْنَا عَنْ نَفْسِكَ ؟ قَالَ : أَيُّهَا أَرَدْتُمْ ؟ كُنْتُ إِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ ، وَإِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِنَّ بَيْنَ الذَّقْنَيْنِ لَعِلْمًا جَمًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس نے قرآن پڑھا ہے ، اس کے متشابہ سے واقف ہوا ہے ، اس کے حلال کو اس نے حلال قرار دیا اور اس کے حرام کو اس نے حرام قرار دیا ، ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا مومن ہے جو یاد نہیں رہتا ، جب اس کا ذکر کیا جائے تو یاد آتا ہے ، اور اس کا یہ حال ہے کہ سر کی مانگ سے لے کر ٹخنوں تک وہ ایمان سے بھرا ہوا ہے ، ان سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : منافقین کے بارے میں وہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اس نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا اور اسے ان کے بارے میں بتایا گیا ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے پہلے والوں کا علم بھی حاصل کیا اور اس نے بعد والوں کا علم بھی حاصل کیا ، وہ ایسا سمندر ہے جس کا سارا پانی نہیں نکالا جا سکتا اور وہ ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے پاس ایسا علم ہے ( شاید مراد ان کا زہر ہے ) جسے لوگوں نے ضائع کر دیا ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا ارادہ رکھتے ہو ، جب میں خاموش ہوتا تھا تو پہلے ہی مجھے بتا دیا جاتا تھا اور جب میں کچھ مانگتا تھا ، تو مجھے دے دیا جاتا تھا اور میرے اندر بھرپور علم موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَرْدَانَ الْكِنْدِيِّ قَالَ : كُنَّا ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ عَلِيٍّ فَوَافَقَ النَّاسُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ وَمِزَاجٍ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِكَ . قَالَ : عَنْ أَيِّ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُلُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابِي فَعَنْ أَيِّهِمْ تَسْأَلُونَ ؟ قَالُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَلِمَ السُّنَّةَ وَكَفَى بِذَلِكَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ : " وَكَفَى بِذَلِكَ " ، كَفَى الْقِرَاءَةُ الْقُرْآنَ ، وَعِلْمُ السُّنَّةِ ، أَوْ كَفَى بِعَبْدِ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : فَسُئِلَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ؟ قَالَ : كَانَ يُكْثِرُ السُّؤَالَ فَيُعْطِي وَيَمْنَعُ وَكَانَ حَرِيصًا شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، حَرِيصًا عَلَى الْعِلْمِ ، بَحْرٌ قَدْ مُلِئَ لَهُ فِي وِعَائِهِ حَتَّى امْتَلَأَ . ¤ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ؟ قَالَ : عَلِمَ أَسْمَاءَ الْمُنَافِقِينَ ، وَسَأَلَ عَنْ الْمُعْضِلَاتِ حَتَّى عَقَلَ عَنْهَا ، تَجِدُوهُ بِهَا عَالِمًا . ¤ قَالَ : فَحَدِّثْنَا عَنْ سَلْمَانَ . قَالَ : مَنْ لَكُمْ بِمِثْلِ لُقْمَانَ الْحَكِيمِ امْرُؤٌ مِنَّا وَإِلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ وَالْعِلْمَ الْآخِرَ . وَقَرَأَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ بَحْرًا لَا سَرَفَ . قُلْنَا : حَدِّثْنَا عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . قَالَ : امْرُؤٌ خُلِطَ الْإِيمَانُ بِلَحْمِهِ ، وَدَمِهِ ، وَشَعْرِهِ ، وَبَشَرِهِ ، حَيْثُ زَالَ زَالَ مَعَهُ ، لَا يَنْبَغِي لِلنَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ شَيْئًا . قُلْنَا : فَحَدِّثْنَا عَنْ نَفْسِكَ ! قَالَ : مَهْلًا نَهَى اللَّهُ عَنِ التَّزْكِيَةِ . قَالَ لَهُ رَجُلٌ : فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ) . قَالَ : فَإِنِّي أُحَدِّثُ بِنِعْمَةِ رَبِّي ، كُنْتُ وَاللَّهِ إِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتُدِئْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِي أَحْسَنِهِمَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود وردان کندی بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، لوگوں کو ان کا مزاج خوشگوار محسوس ہوا تو کسی نے کہا: امیر المؤمنین آپ ہمیں اپنے اصحاب کے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اپنے اصحاب میں سے کس کے بارے میں ؟ اس شخص نے کہا: سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب کے بارے میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تمام اصحاب میرے بھی اصحاب ہیں ، تم ان میں سے کس کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمائیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے قرآن کو پڑھا اور سنت کا علم حاصل کیا اور یہ اس کے لئے کافی ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہمیں ان کی بات کے مفہوم کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ اس کے لئے کافی ہے ، اس سے مراد کیا ہے ، کیا قرآن کا علم حاصل ہونا اور سنت کا علم حاصل ہونا کافی ہے یا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لئے یہ چیز کافی ہے ، راوی کہتے ہیں : ان سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ بکثرت سوال کرتا تھا ، کبھی اسے جواب دے دیا جاتا تھا اور کبھی اسے جواب نہیں دیا جاتا تھا ، وہ اپنے دین کے بارے میں بہت حریص اور لالچی تھا ، علم کے بارے میں حریص تھا ، وہ ایک ایسا سمندر ہے کہ اس کے لئے برتن بھرا گیا ، اور وہ بھر گیا ، ہم نے کہا: آپ ہمیں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا : وہ منافقین کے اسماء کا علم رکھتا تھا ، اس نے پیچیدہ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں سمجھ لیا ، تم ان چیزوں کے حوالے سے اسے عالم پاؤ گے ، راوی نے کہا: آپ ہمیں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کون لقمان حکیم کی مانند ہو سکتا ہے ، سلمان ہم میں سے ایک فرد تھا ، جو اہل بیت کا ایک فرد تھا ، اس نے پہلے والا اور بعد والا علم حاصل کیا ، پہلے والی اور بعد والی کتاب کا علم حاصل کیا ، وہ ایک سمندر تھا ، جو ختم نہیں ہوتا ، ہم نے کہا: آپ ہمیں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا کہ ایمان اس کے گوشت ، اس کے خون ، اس کے بالوں ، اس کی جلد میں رچ بس گیا ، جہاں وہ ہوتا تھا ، ایمان اس کے ساتھ ہوتا تھا ، آگ کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس میں سے کچھ کھائے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رک جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کرنے سے منع کیا ہے ، تو ایک شخص نے ان سے کہا: لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” جہاں تک تمہارے پروردگار کی نعمت کا تعلق ہے تو اسے بیان کرو ۔ “ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کی نعمت کو بیان کرنے کے حوالے سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ کی قسم ! میں ایک ایسا فرد تھا کہ میں کوئی چیز مانگتا تھا تو مجھے دی جاتی تھی اور جب میں خاموش رہتا تھا ، تو مجھے ویسے ہی پہل کر دی جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان میں سے جو روایت زیادہ اچھی ہے اس میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان میں سے جو روایت زیادہ اچھی ہے اس میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، وَقَدْ عَلَّقَتْ عِنْدَهُ بُطُونُ قُرَيْشٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ مُعَاوِيَةُ مُقْبِلًا قَالَ : يَا سَعِيدُ ، وَاللَّهِ لَأُلْقِيَنَّ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَائِلَ يَعْيَا بِجَوَابِهَا . فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : لَيْسَ مِثْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَعْيَا بِمَسَائِلِكَ . ¤ فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : مَا تَقُولُ فِي أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ; كَانَ وَاللَّهِ لِلْقُرْآنِ تَالِيًا ، وَعَنِ الْمَيْلِ نَائِيًا وَعَنِ الْفَحْشَاءِ سَاهِيًا ، وَعَنِ الْمُنْكَرِ نَاهِيًا ، وَبِدِينِهِ عَارِفًا ، وَمِنَ اللَّهِ خَائِفًا ، وَبِاللَّيْلِ قَائِمًا ، وَبِالنَّهَارِ صَائِمًا ، وَمِنْ دُنْيَاهُ سَالِمًا ، وَعَلَى عَدْلِ الْبَرِيَّةِ عَازِمًا ، وَبِالْمَعْرُوفِ آمِرًا ، وَإِلَيْهِ صَائِرًا ، وَفِي الْأَحْوَالِ شَاكِرًا ، وَلِلَّهِ فِي الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ ذَاكِرًا ، وَلِنَفْسِهِ بِالصَّالِحِ قَاهِرًا . فَاقَ أَصْحَابَهُ وَرَعًا ، وَكَفَافًا ، وَزُهْدًا ، وَعَفَافًا ، وَبِرًّا ، وَحِيَاطَةً ، وَزَهَادَةً ، وَكَفَاءَةً ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ ثَلَبَهُ اللَّعَائِنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا حَفْصٍ ; كَانَ وَاللَّهِ حَلِيفَ الْإِسْلَامِ ، وَمَأْوَى الْأَيْتَامِ ، وَمَحَلَّ الْإِيمَانِ ، وَمَلَاذَ الضُّعَفَاءِ ، وَمَعْقِلَ الْحُنَفَاءِ . لِلْخَلْقِ حِصْنًا ، وَلِلْبَأْسِ عَوْنًا . قَامَ بِحَقِّ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ الدِّينَ وَفَتَحَ الدِّيَارَ ، وَذُكِرَ اللَّهُ فِي الْأَقْطَارِ وَالْمَنَاهِلِ وَعَلَى التِّلَالِ ، وَفِي الضَّوَاحِي وَالْبِقَاعِ . وَعِنْدَ الْخَنَا وَقُورًا ، وَفِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ شَكُورًا ، وَلِلَّهِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَأَوَانٍ ذَكُورًا ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ يُبْغِضُهُ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الْحَسْرَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَمْرٍو ; كَانَ وَاللَّهِ أَكْرَمَ الْحَفَدَةِ ، وَأَوْصَلَ الْبَرَرَةِ ، وَأَصْبَرَ الْغُزَاةِ . هَجَّادًا بِالْأَسْحَارِ ، كَثِيرَ الدُّمُوعِ عِنْدَ ذِكْرِ اللَّهِ ، دَائِمَ الْفِكْرِ فِيمَا يَعْنِيهِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، نَاهِضًا إِلَى كُلِّ مَكْرُمَةٍ ، يَسْعَى إِلَى كُلِّ مَنْجَبَةٍ ، فَرَّارًا مِنْ كُلِّ مُوبِقَةٍ . وَصَاحِبَ الْجَيْشِ وَالْبِئْرِ ، وَخَتَنَ الْمُصْطَفَى عَلَى ابْنَتَيْهِ ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ سَبَّهُ النَّدَامَةَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْحَسَنِ ; كَانَ وَاللَّهِ عَلَمَ الْهُدَى ، وَكَهْفَ التُّقَى ، وَمَحَلَّ الْحِجَا ، وَطَوْدَ النُّهَى ، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى . دَاعِيًا إِلَى الْمَحَجَّةِ الْعُظْمَى ، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى ، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى ، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى ، وَتَارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى ، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى ، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى ، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى ، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى ، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى ، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى . وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ ؟ وَزَوْجُ خَيْرُ النِّسَاءِ ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ ، وَلَا تَرَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ . مَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ : فَمَا تَقُولُ فِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ ؟ قَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ; كَانَا وَاللَّهِ عَفِيفَيْنِ ، بَرَّيْنِ ، مُسْلِمَيْنِ ، طَاهِرَيْنِ ، مُتَطَهِّرَيْنِ ، شَهِيدَيْنِ ، عَالِمَيْنِ ، زَلَّا زَلَّةً وَاللَّهُ غَافِرٌ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالنُّصْرَةِ الْقَدِيمَةِ ، وَالصُّحْبَةِ الْقَدِيمَةِ ، وَالْأَفْعَالِ الْجَمِيلَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي الْعَبَّاسِ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ ، كَانَ وَاللَّهِ صِنْوَ أَبِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرَّةَ عَيْنِ صَفِيِّ اللَّهِ ، كَهْفَ الْأَقْوَامِ ، وَسَيِّدَ الْأَعْمَامِ ، قَدْ عَلَا ، بَصِرًا بِالْأُمُورِ ، وَنَظَرًا بِالْعَوَاقِبِ ، قَدْ زَانَهُ عِلْمٌ قَدْ تَلَاشَتِ الْأَحْسَابُ عِنْدَ ذِكْرِ فَضِيلَتِهِ ، وَتَبَاعَدَتِ الْأَنْسَابُ عِنْدَ فَخْرِ عَشِيرَتِهِ ، وَلِمَ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ وَقَدْ سَاسَهُ أَكْرَمُ مَنْ دَبَّ وَهَبَّ عَبْدُ الْمُطَّلَبِ ، أَفْخَرُ مَنْ مَشَى مِنْ قُرَيْشٍ وَرَكِبَ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَلِمَ سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشًا ؟ قَالَ : بِدَابَّةٍ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ هِيَ أَعْظَمُ دَوَابِّ الْبَحْرِ خَطَرًا ، لَا تَظْفَرُ بِشَيْءٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ إِلَّا أَكَلَتْهُ ، فَسُمِّيَتْ قُرَيْشٌ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ الْعَرَبِ فِعَالًا . قَالَ : هَلْ تَرْوِي فِي ذَلِكَ شَيْئًا ؟ فَأَنْشَدَ قَوْلَ الْجُمَحِيِّ : ¤ وَقُرَيْشٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشَا تَأْكُلُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ وَلَا تَتْ ¤ رُكُ فِيهَا لِذِي جَنَاحَيْنِ رِيشَا هَكَذَا كَانَ فِي الْكِتَابِ حَيٌّ قُرَيْشٍ ¤ يَأْكُلُ الْبِلَادَ أَكْلًا حَشِيشَا وَلَهُمْ آخِرَ الزَّمَانِ نَبِيٌّ ¤ يُكْثِرُ الْقَتْلَ فِيهِمْ وَالْخُمُوشَا تَمْلَأُ الْأَرْضَ خَيْلُهُ وَرِجَالٌ ¤ يَحْشُرُونَ الْمَطِيَّ حَشْرًا كَمِيشَا . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ لِسَانُ أَهْلِ بَيْتِكَ . فَلَمَّا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ : مَا كَلَّمْتُهُ قَطُّ إِلَّا وَجَدْتُهُ مُسْتَعِدًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس قریش کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے ، سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا : اے سعید ! اللہ کی قسم ! میں ابن عباس کے سامنے کچھ سوالات رکھوں گا ، جن کے جواب دینے سے وہ عاجز ہوں گے ۔ تو سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسا شخص آپ کے سوالات کے حوالے سے عاجز نہیں ہو سکتا ، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے ( ادھر اُدھر ) جھکاؤ سے دور رہنے والے تھے ، فحش چیزوں کو بھول جانے والے تھے اور منکر چیزوں سے منع کرنے والے تھے وہ اپنے دین کی معرفت رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے ، وہ رات کے وقت نوافل پڑھنے والے تھے ، دن کے وقت نفلی روزہ رکھنے والے تھے ، اپنی دنیا کے حوالے سے سلامتی والے تھے اور مخلوق کے عدل کے حوالے سے پر عزم تھے ، وہ نیکی کا حکم دینے والے تھے اور نیکی کی طرف جانے والے تھے ، ہر حال میں شکر کرنے والے تھے اور صبح و شام اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ، بہتری کی چیزوں کے حوالے سے اپنے نفس پر غلبہ رکھنے والے تھے ، پرہیزگاری ، پاکدامنی ، دنیا سے بے رغبتی ، دامن بچانے ، نیکی کرنے ، محتاط رہنے ، تھوڑے پر راضی رہنے ، ہم پلہ ( یعنی باصلاحیت ہونے ) کے اعتبار سے ، اپنے ساتھیوں سے فائق تھے ، جو شخص انہیں برا کہتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک اُس پر لعنت کرتا رہے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ ! سیدنا ابوحفص ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ اسلام کے حلیف تھے اور یقیموں کی پناہ گاہ تھے ، ایمان کا محل تھے اور کمزوروں کا ٹھکانہ تھے ، دین حنیف کے پیروکار لوگوں کی پناہ گاہ تھے ، وہ مخلوق کے لیے قلعہ تھے ، اور مشکل کے لیے مددگار تھے ، انہوں نے صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کے حق کو قائم کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو غلبہ عطا کر دیا ، انہوں نے شہروں کو فتح کیا ، تو ( زمین کے ) گوشوں ، گھاٹوں میں ، ٹیلوں پر ، بے آب و گیاہ جگہوں پر ( یعنی زمین کے مختلف حصوں پر ) اللہ کا ذکر ہونے لگا ، وہ بدزبانی کے مقابلے میں پروقار شخص تھے اور سختی اور آسانی ، ہر حال میں شکر کرنے والے تھے ، ہر وقت اور ہر گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ، جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ حسرت والے دن ( یعنی قیامت کے دن ) تک اس پر لعنت کرے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوعمرو ( یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ مددگاروں میں سب سے زیادہ معزز تھے ، اور مخلوق میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ، غازیوں میں سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے ، سحری کے وقت بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے ، اللہ کے ذکر کے وقت بکثرت آنسو بہانے والے تھے ، دن اور رات میں ضروری چیزوں کے بارے میں ہمیشہ غور و فکر کرنے والے تھے ، وہ بھلائی کی ہر چیز کی طرف تیزی کرنے والے تھے ، نجات دلانے والی ہر چیز کی طرف دوڑ کر جاتے تھے ، ہلاک کرنے والی ہر چیز سے دور بھاگنے والے تھے ، یہ وہ ایسے فرد تھے جنہوں نے لشکر ( یعنی جیش عسرت ، یعنی غزوہ تبوک کے موقع پر ) سامان فراہم کیا تھا ، یہ وہ فرد ہیں ، جنہوں نے کنواں ( یعنی بئر رومہ خرید کر وقف کیا ) تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں کی نسبت سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے ، جو شخص ان کو برا کہے گا : اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تک ندامت کا شکار رکھے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوالحسن ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ ہدایت کا نشان تھے ، اور پرہیزگاری کی پناہ گاہ تھے ، عقلمندی کا محل تھے ، اور سمجھداری کا ( یعنی تجربہ کاری کا ) پہاڑ تھے ، رات کی تاریکیوں میں سفر کرنے والوں کا نور تھے ، عظیم حجت کی طرف دعوت دینے والے تھے ، اور پہلے صحیفوں میں جو کچھ مذکور ہے ، اُس کا علم رکھنے والے تھے ( قرآن کی ) تفسیر اور نصیحت کو قائم رکھنے والے تھے ، ہدایت کے اسباب کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے ، ظلم اور اذیت پہنچانے کو ترک کرنے والے تھے ، برے راستوں سے ہٹ جانے والے تھے ، ایمان لانے والوں اور پرہیزگاری اختیار کرنے والوں میں سب سے بہتر تھے ، قمیص پہننے اور چادر اوڑھنے والوں ( یعنی سب لوگوں ) کے سردار تھے ، حج کرنے والوں اور سعی کرنے والوں میں سب سے افضل تھے ، عدل کرنے والوں اور برابری رکھنے والوں میں سب سے زیادہ نرم تھے ، انبیاء کرام علیہم السلام اور نبی مصطفی کے علاوہ اہل دنیا کے سب سے بڑے خطیب تھے ، انہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے ، تو کیا کوئی موحد اُن کا ہم پلہ ہو سکتا ہے ؟ وہ سب سے بہتر خاتون ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے شوہر تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) دو نواسوں ( سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ) کے والد تھے ، میری آنکھوں نے اُن جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، اور نہ ہی قیامت کے دن ، اور ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) حاضری کے دن تک ، اُن جیسا کوئی شخص دیکھ سکیں گی ، جو شخص اُن پر لعنت کرتا ہے ، اُس پر قیامت کے دن تک اللہ تعالیٰ اور سب بندوں کی لعنت ہو ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کی رحمت اُن دونوں پر نازل ہو ، اللہ کی قسم ! یہ دونوں پاکدامن ، نیک مسلمان تھے ، یہ دونوں پاک تھے ، پاکیزگی حاصل کرنے والے تھے ، دونوں شہید تھے ، دونوں عالم تھے ، یہ دونوں ایک لغزش کا شکار ہوئے ، تو ان کے پرانے مددگار ہونے اور قدیم صحابی ہونے اور ان کے ( دیگر ) اچھے افعال کی وجہ سے اگر اللہ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوالفضل ( سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی جگہ تھے اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے ، وہ لوگوں کے لئے پناہ گاہ تھے اور تمام چچاؤں کے سردار تھے ، امور کے بارے میں ان کی نگاہ بلند تھی اور انجام کے بارے میں نظر گہری تھی ، وہ علم سے آراستہ تھے اور ان کی فضیلت کے تذکرے کے وقت حسب فنا ہو جاتا ہے اور ان کے خاندان کے فخر کے وقت دوسرے نسب دور ہو جاتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو ، جبکہ ان کی تربیت اس فرد نے کی تھی ، جو زندہ اور مرحوم ، سب لوگوں سے زیادہ معزز ہیں ، اور وہ جناب عبدالمطلب ہیں ، قریش سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد پیدل چلتا ہے یا جو سوار ہوتا ہے ( یعنی قریش کے تمام تر افراد ) سے وہ زیادہ فخر والے ہیں ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : قریش کو قریش کا نام کیوں دیا گیا ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : سمندر میں موجود ایک جانور کے نام پر یہ نام رکھا گیا ہے ، جو سمندر کے تمام جانوروں سے زیادہ خطرناک ہے ، سمندر کا جو بھی جانور اُس کے سامنے آتا ہے ، یہ اس کو کھا جاتا ہے ، تو قریش کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے عربوں میں سب سے بڑے ہیں ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ اس بارے میں کوئی بات روایت کر سکتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ” جمحی “ کے یہ اشعار سنائے : ” قریش اس جانور کا نام ہے ، جو سمندر میں رہتا ہے اور اُسی کے نام پر قریش کا نام قریش رکھا گیا ہے ، وہ جانور کمزور اور موٹے ، ہر قسم کے جانور کو کھا جاتا ہے ، اور پروں والے کسی جانور کا کوئی پر بھی نہیں چھوڑتا ہے ، کتاب میں اسی طرح مذکور ہے ، قریش کا قبیلہ تمام شہروں کو یوں کھا جائے گا ، جیسے گھاس کھائی جاتی ہے ، اور قریش میں آخری زمانے میں ، ایک نبی پیدا ہوں گے ، اس وقت قریش میں قتل و غارتگری اور زخمی ہونا کثرت سے ہو گا ، اُس نبی کے گھڑ سوار اور پیادہ افراد زمین کو بھر دیں گے ، اور سواریوں کو تیزی سے اکٹھا کر لیں گے ۔ “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! آپ نے سچ کہا: ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنے اہل بیت کے ترجمان ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے تشریف لے گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے ان کے ساتھ ، جب بھی ، جس بارے میں بھی بات کی ہے تو انہیں ( جواب دینے کے لئے ) تیار پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : شَامَمْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ عِلْمَهُمُ انْتَهَى إِلَى سِتَّةٍ إِلَى : عُمَرَ ، وَعَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ ، وَمُعَاذٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . ¤ ثُمَّ شَامَمْتُ السِّتَّةَ ، فَوَجَدْتُ عِلْمَهُمُ انْتَهَى إِلَى عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْقَاسِمِ بْنِ مَعِينٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نصاب کی تحقیق کی ، تو میں نے یہ چیز پائی کہ ان کا علم کچھ افراد پر آ کر ختم ہو جاتا ہے ، سیدنا عمر ، سیدنا علی ، سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا معاذ ، سیدنا ابودرداء ، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ، پھر میں نے ان چھ افراد کی تحقیق کی کہ تو ان حضرات کا علم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پر آ کر ختم ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف قاسم بن معین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف قاسم بن معین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ : كَانَ الْعُلَمَاءَ بَعْدَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَسَلْمَانُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ . وَكَانَ الْعُلَمَاءَ بَعْدَ هَؤُلَاءِ : زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ . وَكَانَ بَعْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عُمَرَ : عُمَرُ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَغَيْرُهُمَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - قَبْلَ مَنَاقِبِ عُمَرَ ، وَبَعْدَ مَنَاقِبَ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بعد علماء یہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا ابودرداء ، سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم ، اور ان حضرات کے بعد علماء سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت سے متعلق کچھ احادیث گزر چکی ہیں جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر افراد شامل ہیں ۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے پہلے گزری ہیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بعد گزری ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت سے متعلق کچھ احادیث گزر چکی ہیں جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر افراد شامل ہیں ۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے پہلے گزری ہیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بعد گزری ہیں ۔
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَمَا عَلْمُ أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ بِأَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّمَا كَانَا غُلَامَيْنِ صَغِيرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّ هِشَامًا لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ابوسعید اور انس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں کیا پتہ ؟ یہ تو ان دنوں کمسن بچے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے البتہ ہشام نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے البتہ ہشام نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔