حدیث نمبر: 14918
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَثْوَةٍ ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْرَضُهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً " - يَعْنِي : أَبَا الدَّرْدَاءِ ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے بارے میں میری امت میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ نرم عمر ہے ، میری امت میں حیاء کے لحاظ سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ” رثوة “ ( یعنی نمایاں ) طور پر آئے گا ، میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت دی گئی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایم کی مراد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے اللہ تعالیٰ ان حضرات پر اپنی رضامندی نازل کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2617)»