حدیث نمبر: 14926
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ أَجْمَعَ مَا كَانُوا فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ مَنَازِلَكُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَقُرْبَ مَنَازِلِكُمْ " . ¤ ثُمَّ إِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا أَعْرِفُ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَاسْمَ أُمِّهِ لَا يَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا قَالُوا : مَرْحَبًا مَرْحَبًا " ، فَقَالَ سَلْمَانُ : إِنَّ هَذَا لَمُرْتَفِعٌ شَأْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : " يَا عُمَرُ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ اللُّؤْلُؤُ أَبْيَضُ ، مُشَيَّدٌ بِالْيَاقُوتِ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لِي ، فَذَهَبْتُ لِأَدْخُلَهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَا مَنَعَنِي مِنْ دُخُولِهِ إِلَّا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ " فَبَكَى عُمْرُ وَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُثْمَانَ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقًا فِي الْجَنَّةِ وَأَنْتَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " . ¤ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَلِيُّ أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ مَنْزِلُكَ فِي الْجَنَّةِ مُقَابِلَ مَنْزِلِي ؟ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ : " يَا طَلْحَةُ وَيَا زُبَيْرُ ، إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَأَنْتُمَا حَوَارِيِّ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ : لَقَدْ بُطِّىءَ بِكَ عَنِّي مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِي حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ هَلَكْتَ وَعَرِقْتَ عَرَقًا شَدِيدًا فَقُلْتُ : مَا بَطَّأَ بِكَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ كَثْرَةِ مَالِي ، مَا زِلْتُ مَوْقُوفًا مُحَاسَبًا ، أُسْأَلُ عَنْ مَالِي : مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبْتَهُ ؟ وَفِيمَا أَنْفَقْتَهُ ؟ فَبَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِائَةُ رَاحِلَةٍ جَاءَتْنِي اللَّيْلَةَ مِنْ تِجَارَةِ مِصْرَ ، أُشْهِدَكُ أَنَّهَا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَيْتَامِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُخَفِّفُ عَنِّي ذَلِكَ الْيَوْمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ : عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اصحاب کے پاس تشریف لائے جتنے بھی موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے گزشتہ رات میں تمہاری رہائشی جگہوں کو اور تمہاری رہائشی جگہوں کے قریب کو دیکھا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر میں ایک شخص کو جانتا ہوں ، میں اس کا نام جانتا ہوں ، میں اس کے باپ کا نام جانتا ہوں ۔ اس کی ماں کا نام جانتا ہوں ، وہ شخص جنت کے دروازوں میں سے جس بھی دروازے پر آئے گا ، تو فرشتے یہ کہیں گے کہ آپ کو خوش آمدید ہے ، آپ کو خوش آمدید ہے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا مرتبہ تو بڑا بلند ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ابوبکر بن ابوقحافہ ہو گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں نے جنت میں سفید موتی سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس میں یاقوت لگے ہوئے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہو گا ؟ تو بتایا گیا : قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ مجھے ملے گا ، میں اس میں داخل ہونے لگا تو فرشتے نے بتایا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہو گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اے ابوحفص ! میں اس میں داخل صرف اس لئے نہیں ہوا کہ تمہارے مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا میں آپ کے مقابلے میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عثمان ! ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہو گا ، اور تم جنت میں میرے رفیق ہو گے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جنت میں تمہاری رہائش گاہ ، میری رہائش گاہ کے مقابل ہو گی ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے طلحہ اور اے زبیر ! ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے ، اور تم دونوں میرے حواری ہو ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے تمام اصحاب میں سے صرف تمہیں مجھ تک آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم کہیں ہلاکت کا شکار نہ ہو جاؤ ، جب تم آئے تو تمہیں بہت زیادہ پسینہ آیا ہوا تھا ، میں نے دریافت کیا : تمہیں آنے میں تاخیر کیوں ہوئی ، تو تم نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے مال کی کثرت کی وجہ سے ایسا ہوا ، مجھے مسلسل روک کے رکھا گیا ، اور حساب لیا جاتا رہا ، مجھ سے میرے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ تم نے اسے کیسے کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ رونے لگے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک سو اونٹنیاں ہیں جو گزشتہ رات مصر کی تجارت سے میرے پاس آئی ہیں میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ اہل مدینہ کے لئے اور یہاں کے یتیم بچوں کے لئے صدقہ ہیں تاکہ اس دن اللہ تعالیٰ مجھے آسانی نصیب فرمائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، یحیی بن معین ، ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ عجلی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3052)»