حدیث نمبر: 14940
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : قَرَأَ الْقُرْآنَ وَوَقَفَ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ . وَسُئِلَ عَنْ عَمَّارٍ ، فَقَالَ : مُؤْمِنٌ نَسِيٌّ ، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ ، وَقَدْ حُشِيَ مَا بَيْنَ قَرْنِهِ إِلَى كَعْبِهِ إِيمَانًا . وَسُئِلَ عَنْ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : كَانَ أَعْلَمَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُنَافِقِينَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَأُخْبَرَ بِهِمْ . ¤ قَالُوا : فَحَدِّثْنَا : عَنْ سَلْمَانَ ؟ قَالَ : أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ ، وَالْعِلْمَ الْآخِرَ ، بَحْرٌ لَا يُنْزَحُ ، مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ . ¤ قَالُوا : حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي ذَرٍّ ؟ قَالَ : وَعَنْ عِلْمًا ضَيَّعَهُ النَّاسُ . ¤ قَالُوا : فَأَخْبِرْنَا عَنْ نَفْسِكَ ؟ قَالَ : أَيُّهَا أَرَدْتُمْ ؟ كُنْتُ إِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ ، وَإِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِنَّ بَيْنَ الذَّقْنَيْنِ لَعِلْمًا جَمًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس نے قرآن پڑھا ہے ، اس کے متشابہ سے واقف ہوا ہے ، اس کے حلال کو اس نے حلال قرار دیا اور اس کے حرام کو اس نے حرام قرار دیا ، ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا مومن ہے جو یاد نہیں رہتا ، جب اس کا ذکر کیا جائے تو یاد آتا ہے ، اور اس کا یہ حال ہے کہ سر کی مانگ سے لے کر ٹخنوں تک وہ ایمان سے بھرا ہوا ہے ، ان سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : منافقین کے بارے میں وہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اس نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا اور اسے ان کے بارے میں بتایا گیا ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے پہلے والوں کا علم بھی حاصل کیا اور اس نے بعد والوں کا علم بھی حاصل کیا ، وہ ایسا سمندر ہے جس کا سارا پانی نہیں نکالا جا سکتا اور وہ ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے پاس ایسا علم ہے ( شاید مراد ان کا زہر ہے ) جسے لوگوں نے ضائع کر دیا ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا ارادہ رکھتے ہو ، جب میں خاموش ہوتا تھا تو پہلے ہی مجھے بتا دیا جاتا تھا اور جب میں کچھ مانگتا تھا ، تو مجھے دے دیا جاتا تھا اور میرے اندر بھرپور علم موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف