مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : قَرَأَ الْقُرْآنَ وَوَقَفَ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ . وَسُئِلَ عَنْ عَمَّارٍ ، فَقَالَ : مُؤْمِنٌ نَسِيٌّ ، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ ، وَقَدْ حُشِيَ مَا بَيْنَ قَرْنِهِ إِلَى كَعْبِهِ إِيمَانًا . وَسُئِلَ عَنْ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : كَانَ أَعْلَمَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُنَافِقِينَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَأُخْبَرَ بِهِمْ . ¤ قَالُوا : فَحَدِّثْنَا : عَنْ سَلْمَانَ ؟ قَالَ : أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ ، وَالْعِلْمَ الْآخِرَ ، بَحْرٌ لَا يُنْزَحُ ، مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ . ¤ قَالُوا : حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي ذَرٍّ ؟ قَالَ : وَعَنْ عِلْمًا ضَيَّعَهُ النَّاسُ . ¤ قَالُوا : فَأَخْبِرْنَا عَنْ نَفْسِكَ ؟ قَالَ : أَيُّهَا أَرَدْتُمْ ؟ كُنْتُ إِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ ، وَإِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِنَّ بَيْنَ الذَّقْنَيْنِ لَعِلْمًا جَمًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس نے قرآن پڑھا ہے ، اس کے متشابہ سے واقف ہوا ہے ، اس کے حلال کو اس نے حلال قرار دیا اور اس کے حرام کو اس نے حرام قرار دیا ، ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا مومن ہے جو یاد نہیں رہتا ، جب اس کا ذکر کیا جائے تو یاد آتا ہے ، اور اس کا یہ حال ہے کہ سر کی مانگ سے لے کر ٹخنوں تک وہ ایمان سے بھرا ہوا ہے ، ان سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : منافقین کے بارے میں وہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اس نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا اور اسے ان کے بارے میں بتایا گیا ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے پہلے والوں کا علم بھی حاصل کیا اور اس نے بعد والوں کا علم بھی حاصل کیا ، وہ ایسا سمندر ہے جس کا سارا پانی نہیں نکالا جا سکتا اور وہ ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے پاس ایسا علم ہے ( شاید مراد ان کا زہر ہے ) جسے لوگوں نے ضائع کر دیا ، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا ارادہ رکھتے ہو ، جب میں خاموش ہوتا تھا تو پہلے ہی مجھے بتا دیا جاتا تھا اور جب میں کچھ مانگتا تھا ، تو مجھے دے دیا جاتا تھا اور میرے اندر بھرپور علم موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔