مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَيَا عُمَرُ فَقَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا بِوَحْيٍ أُنْزِلَ عَلَيَّ مِنَ السَّمَاءِ فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا وَأَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَلْيُصَافِحْهُ ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِ عُمَرَ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَكُونُ قَبْلَهُ وَيَمُوتُ قَبْلَهُ " . ¤ وَقَالَ : " يَا زُبَيْرُ ، يَا طَلْحَةُ تَعَالَا ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا وَأَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ " فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَلِيُّ تَعَالَ ، يَا عَمَّارُ تَعَالَ ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي اللَّهِ أَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ " فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ وَلِسَلْمَانَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَلِصُهَيْبٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ لِأَبِي ذَرٍّ وَلِبِلَالٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، يَا أَبَا هِنْدٍ تَعَالَا " - حَجَّامًا كَانَ يَحْجِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ دَمَهُ فَقَالَا : " فَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ وَلِأَبِي أَيُّوبَ وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَا ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ، پھر آپ نے فرمایا : اے عمر مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں وحی کے حکم مطابق تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دوں ، جو وحی مجھ پر آسمان سے نازل ہوئی ہے ، تو تم دونوں دنیا میں بھی بھائی ہو اور جنت میں بھی بھائی ہو گے ، تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کو سلام کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس سے پہلے ہو گا ، اور یہ اس سے پہلے مرے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے زبیر اور اے طلحہ ! تم دونوں آگے آؤ ، مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کروں ، تو تم دونوں دنیا میں بھائی ہو اور جنت میں بھی دو بھائی ہو گے ، تم میں سے ہر ایک کو دوسرے سے سلام کرنا چاہیے ، تو ان دونوں نے بھی ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی تم آگے آؤ ، اے عمار تم آگے آؤ ، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کروں ، تو تم دونوں اللہ کے لئے ایک دوسرے کے بھائی ہو اور جنت میں بھی دو بھائی ہو گے ، تم دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کو سلام کرنا چاہیے ، تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی ہی بات کہی تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسامہ اور اے ابوہند تم دونوں آگے آؤ ، ابوہند ایک پچھنے لگانے والے صاحب تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگایا کرتے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پیا ہوا تھا ، وہ دونوں کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بھی اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے بھی ایسا ہی کیا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔