حدیث نمبر: 14931
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ اشْتَاقَتْ إِلَى أَرْبَعَةٍ مِنْ أَصْحَابِي ، فَأَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أُحِبَّهُمْ " . فَانْتَدَبَ صُهَيْبٌ الرُّومِيُّ ، وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ حَتَّى نُحِبَّهُمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمَّارُ ، عَرَّفَكَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ فَأَحَدُهُمْ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ ، وَالثَّالِثُ : سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَالرَّابِعُ : أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! جنت میرے اصحاب میں سے چار افراد کی مشتاق ہے اور میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں ان ( چار افراد ) سے محبت رکھوں ، اس وقت سیدنا صہیب رومی ، سیدنا بلال بن رباح ، سیدنا طلحہ ، سیدنا زبیر ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا حذیفہ بن یمان ، اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا وہ چار افراد کون ہیں ( آپ ہمیں اس بارے میں بتائیے ) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں منافقین کی معرفت عطا کی ہے ، جہاں تک ان چار افراد کا تعلق ہے تو ان میں سے ایک علی بن ابوطالب ہے ، ایک مقداد بن اسود کندی ہے ، تیسرا سلمان فارسی ہے اور چوتھا ابوذر غفاری ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14931
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف