مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، وَقَدْ عَلَّقَتْ عِنْدَهُ بُطُونُ قُرَيْشٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ مُعَاوِيَةُ مُقْبِلًا قَالَ : يَا سَعِيدُ ، وَاللَّهِ لَأُلْقِيَنَّ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَائِلَ يَعْيَا بِجَوَابِهَا . فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : لَيْسَ مِثْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَعْيَا بِمَسَائِلِكَ . ¤ فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : مَا تَقُولُ فِي أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ; كَانَ وَاللَّهِ لِلْقُرْآنِ تَالِيًا ، وَعَنِ الْمَيْلِ نَائِيًا وَعَنِ الْفَحْشَاءِ سَاهِيًا ، وَعَنِ الْمُنْكَرِ نَاهِيًا ، وَبِدِينِهِ عَارِفًا ، وَمِنَ اللَّهِ خَائِفًا ، وَبِاللَّيْلِ قَائِمًا ، وَبِالنَّهَارِ صَائِمًا ، وَمِنْ دُنْيَاهُ سَالِمًا ، وَعَلَى عَدْلِ الْبَرِيَّةِ عَازِمًا ، وَبِالْمَعْرُوفِ آمِرًا ، وَإِلَيْهِ صَائِرًا ، وَفِي الْأَحْوَالِ شَاكِرًا ، وَلِلَّهِ فِي الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ ذَاكِرًا ، وَلِنَفْسِهِ بِالصَّالِحِ قَاهِرًا . فَاقَ أَصْحَابَهُ وَرَعًا ، وَكَفَافًا ، وَزُهْدًا ، وَعَفَافًا ، وَبِرًّا ، وَحِيَاطَةً ، وَزَهَادَةً ، وَكَفَاءَةً ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ ثَلَبَهُ اللَّعَائِنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا حَفْصٍ ; كَانَ وَاللَّهِ حَلِيفَ الْإِسْلَامِ ، وَمَأْوَى الْأَيْتَامِ ، وَمَحَلَّ الْإِيمَانِ ، وَمَلَاذَ الضُّعَفَاءِ ، وَمَعْقِلَ الْحُنَفَاءِ . لِلْخَلْقِ حِصْنًا ، وَلِلْبَأْسِ عَوْنًا . قَامَ بِحَقِّ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ الدِّينَ وَفَتَحَ الدِّيَارَ ، وَذُكِرَ اللَّهُ فِي الْأَقْطَارِ وَالْمَنَاهِلِ وَعَلَى التِّلَالِ ، وَفِي الضَّوَاحِي وَالْبِقَاعِ . وَعِنْدَ الْخَنَا وَقُورًا ، وَفِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ شَكُورًا ، وَلِلَّهِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَأَوَانٍ ذَكُورًا ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ يُبْغِضُهُ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الْحَسْرَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَمْرٍو ; كَانَ وَاللَّهِ أَكْرَمَ الْحَفَدَةِ ، وَأَوْصَلَ الْبَرَرَةِ ، وَأَصْبَرَ الْغُزَاةِ . هَجَّادًا بِالْأَسْحَارِ ، كَثِيرَ الدُّمُوعِ عِنْدَ ذِكْرِ اللَّهِ ، دَائِمَ الْفِكْرِ فِيمَا يَعْنِيهِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، نَاهِضًا إِلَى كُلِّ مَكْرُمَةٍ ، يَسْعَى إِلَى كُلِّ مَنْجَبَةٍ ، فَرَّارًا مِنْ كُلِّ مُوبِقَةٍ . وَصَاحِبَ الْجَيْشِ وَالْبِئْرِ ، وَخَتَنَ الْمُصْطَفَى عَلَى ابْنَتَيْهِ ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ سَبَّهُ النَّدَامَةَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْحَسَنِ ; كَانَ وَاللَّهِ عَلَمَ الْهُدَى ، وَكَهْفَ التُّقَى ، وَمَحَلَّ الْحِجَا ، وَطَوْدَ النُّهَى ، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى . دَاعِيًا إِلَى الْمَحَجَّةِ الْعُظْمَى ، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى ، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى ، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى ، وَتَارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى ، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى ، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى ، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى ، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى ، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى ، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى . وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ ؟ وَزَوْجُ خَيْرُ النِّسَاءِ ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ ، وَلَا تَرَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ . مَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ : فَمَا تَقُولُ فِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ ؟ قَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ; كَانَا وَاللَّهِ عَفِيفَيْنِ ، بَرَّيْنِ ، مُسْلِمَيْنِ ، طَاهِرَيْنِ ، مُتَطَهِّرَيْنِ ، شَهِيدَيْنِ ، عَالِمَيْنِ ، زَلَّا زَلَّةً وَاللَّهُ غَافِرٌ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالنُّصْرَةِ الْقَدِيمَةِ ، وَالصُّحْبَةِ الْقَدِيمَةِ ، وَالْأَفْعَالِ الْجَمِيلَةِ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا تَقُولُ فِي الْعَبَّاسِ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ ، كَانَ وَاللَّهِ صِنْوَ أَبِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرَّةَ عَيْنِ صَفِيِّ اللَّهِ ، كَهْفَ الْأَقْوَامِ ، وَسَيِّدَ الْأَعْمَامِ ، قَدْ عَلَا ، بَصِرًا بِالْأُمُورِ ، وَنَظَرًا بِالْعَوَاقِبِ ، قَدْ زَانَهُ عِلْمٌ قَدْ تَلَاشَتِ الْأَحْسَابُ عِنْدَ ذِكْرِ فَضِيلَتِهِ ، وَتَبَاعَدَتِ الْأَنْسَابُ عِنْدَ فَخْرِ عَشِيرَتِهِ ، وَلِمَ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ وَقَدْ سَاسَهُ أَكْرَمُ مَنْ دَبَّ وَهَبَّ عَبْدُ الْمُطَّلَبِ ، أَفْخَرُ مَنْ مَشَى مِنْ قُرَيْشٍ وَرَكِبَ . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَلِمَ سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشًا ؟ قَالَ : بِدَابَّةٍ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ هِيَ أَعْظَمُ دَوَابِّ الْبَحْرِ خَطَرًا ، لَا تَظْفَرُ بِشَيْءٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ إِلَّا أَكَلَتْهُ ، فَسُمِّيَتْ قُرَيْشٌ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ الْعَرَبِ فِعَالًا . قَالَ : هَلْ تَرْوِي فِي ذَلِكَ شَيْئًا ؟ فَأَنْشَدَ قَوْلَ الْجُمَحِيِّ : ¤ وَقُرَيْشٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشَا تَأْكُلُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ وَلَا تَتْ ¤ رُكُ فِيهَا لِذِي جَنَاحَيْنِ رِيشَا هَكَذَا كَانَ فِي الْكِتَابِ حَيٌّ قُرَيْشٍ ¤ يَأْكُلُ الْبِلَادَ أَكْلًا حَشِيشَا وَلَهُمْ آخِرَ الزَّمَانِ نَبِيٌّ ¤ يُكْثِرُ الْقَتْلَ فِيهِمْ وَالْخُمُوشَا تَمْلَأُ الْأَرْضَ خَيْلُهُ وَرِجَالٌ ¤ يَحْشُرُونَ الْمَطِيَّ حَشْرًا كَمِيشَا . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ لِسَانُ أَهْلِ بَيْتِكَ . فَلَمَّا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ : مَا كَلَّمْتُهُ قَطُّ إِلَّا وَجَدْتُهُ مُسْتَعِدًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس قریش کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے ، سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا : اے سعید ! اللہ کی قسم ! میں ابن عباس کے سامنے کچھ سوالات رکھوں گا ، جن کے جواب دینے سے وہ عاجز ہوں گے ۔ تو سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسا شخص آپ کے سوالات کے حوالے سے عاجز نہیں ہو سکتا ، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے ( ادھر اُدھر ) جھکاؤ سے دور رہنے والے تھے ، فحش چیزوں کو بھول جانے والے تھے اور منکر چیزوں سے منع کرنے والے تھے وہ اپنے دین کی معرفت رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے ، وہ رات کے وقت نوافل پڑھنے والے تھے ، دن کے وقت نفلی روزہ رکھنے والے تھے ، اپنی دنیا کے حوالے سے سلامتی والے تھے اور مخلوق کے عدل کے حوالے سے پر عزم تھے ، وہ نیکی کا حکم دینے والے تھے اور نیکی کی طرف جانے والے تھے ، ہر حال میں شکر کرنے والے تھے اور صبح و شام اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ، بہتری کی چیزوں کے حوالے سے اپنے نفس پر غلبہ رکھنے والے تھے ، پرہیزگاری ، پاکدامنی ، دنیا سے بے رغبتی ، دامن بچانے ، نیکی کرنے ، محتاط رہنے ، تھوڑے پر راضی رہنے ، ہم پلہ ( یعنی باصلاحیت ہونے ) کے اعتبار سے ، اپنے ساتھیوں سے فائق تھے ، جو شخص انہیں برا کہتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک اُس پر لعنت کرتا رہے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ ! سیدنا ابوحفص ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ اسلام کے حلیف تھے اور یقیموں کی پناہ گاہ تھے ، ایمان کا محل تھے اور کمزوروں کا ٹھکانہ تھے ، دین حنیف کے پیروکار لوگوں کی پناہ گاہ تھے ، وہ مخلوق کے لیے قلعہ تھے ، اور مشکل کے لیے مددگار تھے ، انہوں نے صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کے حق کو قائم کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو غلبہ عطا کر دیا ، انہوں نے شہروں کو فتح کیا ، تو ( زمین کے ) گوشوں ، گھاٹوں میں ، ٹیلوں پر ، بے آب و گیاہ جگہوں پر ( یعنی زمین کے مختلف حصوں پر ) اللہ کا ذکر ہونے لگا ، وہ بدزبانی کے مقابلے میں پروقار شخص تھے اور سختی اور آسانی ، ہر حال میں شکر کرنے والے تھے ، ہر وقت اور ہر گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ، جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ حسرت والے دن ( یعنی قیامت کے دن ) تک اس پر لعنت کرے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوعمرو ( یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ مددگاروں میں سب سے زیادہ معزز تھے ، اور مخلوق میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ، غازیوں میں سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے ، سحری کے وقت بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے ، اللہ کے ذکر کے وقت بکثرت آنسو بہانے والے تھے ، دن اور رات میں ضروری چیزوں کے بارے میں ہمیشہ غور و فکر کرنے والے تھے ، وہ بھلائی کی ہر چیز کی طرف تیزی کرنے والے تھے ، نجات دلانے والی ہر چیز کی طرف دوڑ کر جاتے تھے ، ہلاک کرنے والی ہر چیز سے دور بھاگنے والے تھے ، یہ وہ ایسے فرد تھے جنہوں نے لشکر ( یعنی جیش عسرت ، یعنی غزوہ تبوک کے موقع پر ) سامان فراہم کیا تھا ، یہ وہ فرد ہیں ، جنہوں نے کنواں ( یعنی بئر رومہ خرید کر وقف کیا ) تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں کی نسبت سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے ، جو شخص ان کو برا کہے گا : اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تک ندامت کا شکار رکھے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوالحسن ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ ہدایت کا نشان تھے ، اور پرہیزگاری کی پناہ گاہ تھے ، عقلمندی کا محل تھے ، اور سمجھداری کا ( یعنی تجربہ کاری کا ) پہاڑ تھے ، رات کی تاریکیوں میں سفر کرنے والوں کا نور تھے ، عظیم حجت کی طرف دعوت دینے والے تھے ، اور پہلے صحیفوں میں جو کچھ مذکور ہے ، اُس کا علم رکھنے والے تھے ( قرآن کی ) تفسیر اور نصیحت کو قائم رکھنے والے تھے ، ہدایت کے اسباب کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے ، ظلم اور اذیت پہنچانے کو ترک کرنے والے تھے ، برے راستوں سے ہٹ جانے والے تھے ، ایمان لانے والوں اور پرہیزگاری اختیار کرنے والوں میں سب سے بہتر تھے ، قمیص پہننے اور چادر اوڑھنے والوں ( یعنی سب لوگوں ) کے سردار تھے ، حج کرنے والوں اور سعی کرنے والوں میں سب سے افضل تھے ، عدل کرنے والوں اور برابری رکھنے والوں میں سب سے زیادہ نرم تھے ، انبیاء کرام علیہم السلام اور نبی مصطفی کے علاوہ اہل دنیا کے سب سے بڑے خطیب تھے ، انہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے ، تو کیا کوئی موحد اُن کا ہم پلہ ہو سکتا ہے ؟ وہ سب سے بہتر خاتون ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے شوہر تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) دو نواسوں ( سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ) کے والد تھے ، میری آنکھوں نے اُن جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، اور نہ ہی قیامت کے دن ، اور ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) حاضری کے دن تک ، اُن جیسا کوئی شخص دیکھ سکیں گی ، جو شخص اُن پر لعنت کرتا ہے ، اُس پر قیامت کے دن تک اللہ تعالیٰ اور سب بندوں کی لعنت ہو ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کی رحمت اُن دونوں پر نازل ہو ، اللہ کی قسم ! یہ دونوں پاکدامن ، نیک مسلمان تھے ، یہ دونوں پاک تھے ، پاکیزگی حاصل کرنے والے تھے ، دونوں شہید تھے ، دونوں عالم تھے ، یہ دونوں ایک لغزش کا شکار ہوئے ، تو ان کے پرانے مددگار ہونے اور قدیم صحابی ہونے اور ان کے ( دیگر ) اچھے افعال کی وجہ سے اگر اللہ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ سیدنا ابوالفضل ( سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی جگہ تھے اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے ، وہ لوگوں کے لئے پناہ گاہ تھے اور تمام چچاؤں کے سردار تھے ، امور کے بارے میں ان کی نگاہ بلند تھی اور انجام کے بارے میں نظر گہری تھی ، وہ علم سے آراستہ تھے اور ان کی فضیلت کے تذکرے کے وقت حسب فنا ہو جاتا ہے اور ان کے خاندان کے فخر کے وقت دوسرے نسب دور ہو جاتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو ، جبکہ ان کی تربیت اس فرد نے کی تھی ، جو زندہ اور مرحوم ، سب لوگوں سے زیادہ معزز ہیں ، اور وہ جناب عبدالمطلب ہیں ، قریش سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد پیدل چلتا ہے یا جو سوار ہوتا ہے ( یعنی قریش کے تمام تر افراد ) سے وہ زیادہ فخر والے ہیں ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : قریش کو قریش کا نام کیوں دیا گیا ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : سمندر میں موجود ایک جانور کے نام پر یہ نام رکھا گیا ہے ، جو سمندر کے تمام جانوروں سے زیادہ خطرناک ہے ، سمندر کا جو بھی جانور اُس کے سامنے آتا ہے ، یہ اس کو کھا جاتا ہے ، تو قریش کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے عربوں میں سب سے بڑے ہیں ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ اس بارے میں کوئی بات روایت کر سکتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ” جمحی “ کے یہ اشعار سنائے : ” قریش اس جانور کا نام ہے ، جو سمندر میں رہتا ہے اور اُسی کے نام پر قریش کا نام قریش رکھا گیا ہے ، وہ جانور کمزور اور موٹے ، ہر قسم کے جانور کو کھا جاتا ہے ، اور پروں والے کسی جانور کا کوئی پر بھی نہیں چھوڑتا ہے ، کتاب میں اسی طرح مذکور ہے ، قریش کا قبیلہ تمام شہروں کو یوں کھا جائے گا ، جیسے گھاس کھائی جاتی ہے ، اور قریش میں آخری زمانے میں ، ایک نبی پیدا ہوں گے ، اس وقت قریش میں قتل و غارتگری اور زخمی ہونا کثرت سے ہو گا ، اُس نبی کے گھڑ سوار اور پیادہ افراد زمین کو بھر دیں گے ، اور سواریوں کو تیزی سے اکٹھا کر لیں گے ۔ “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! آپ نے سچ کہا: ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنے اہل بیت کے ترجمان ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے تشریف لے گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے ان کے ساتھ ، جب بھی ، جس بارے میں بھی بات کی ہے تو انہیں ( جواب دینے کے لئے ) تیار پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔