مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ ، نُجَبَاءَ ، وُزَرَاءَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ : حَمْزَةُ ، وَجَعْفَرٌ ، وَعَلِيٌّ ، وَحَسَنٌ ، وَحُسَيْنٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَالْمِقْدَادُ ، وَحُذَيْفَةُ ، وَعَمَّارٌ ، وَسَلْمَانُ ، وَبِلَالٌ " . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ لِبَعْضِ رِوَايَاتِ التِّرْمِذِيِّ ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي نُسْخَتِي . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَزَادَ : " وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ " . وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَذَكَرَ فِيهِمْ فِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ " . وَفِيهِ كَثِيرٌ النَّوَّاءُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی نبی ہوا ہے اسے سات ایسے ساتھی دیے گئے ہیں جو نجباء اور وزراء ہوتے ہیں ، اور مجھے چودہ ایسے ساتھی دیے گئے ہیں ، حمزہ ، جعفر ، علی ، حسن ، حسین ، ابوبکر ، عمر ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر ، مقدار ، حذیفہ ، عمار ، سلمان اور بلال ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اطراف میں اس روایت کی نسبت ترمذی کی بعض روایات کی طرف کی گئی ہے لیکن میں نے اپنے پاس موجود نسخے میں یہ روایت نہیں پائی ہے یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : عبداللہ بن مسعود ، امام ترمذی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ انہوں نے بعض طرق میں ان افراد میں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر نواء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔