مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : خَلَوْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : أَيُّ أَصْحَابِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ حَتَّى أُحِبَّ مَنْ تُحِبُّ كَمَا أُحِبُّ ؟ قَالَ : " اكْتُمْ عَلَيَّ يَا عُبَادَةُ حَيَاتِي " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ عَلِيٌّ " . ثُمَّ سَكَتَ ، فَقُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ بَعْدَ هَؤُلَاءِ إِلَّا الزُّبَيْرُ ، وَطَلْحَةُ ، وَسَعْدٌ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ ، وَمُعَاذٌ ، وَأَبُو طَلْحَةَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ ، وَأَنْتَ يَا عُبَادَةُ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَابْنُ عَوْفٍ ، وَابْنُ عَفَّانَ ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ مِنَ الْمَوَالِي : سَلْمَانُ ، وَصُهَيْبٌ ، وَبِلَالٌ ، وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، هَؤُلَاءِ خَاصَّتِي ، وَكُلُّ أَصْحَابِي عَلَيَّ كَرِيمٌ ، إِلَيَّ حَبِيبٌ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : لَمْ تَذْكُرْ حَمْزَةَ وَلَا جَعْفَرًا ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ إِنَّهُمَا : كَانَا أُصِيبَا يَوْمَ سَأَلْتُ إِنَّمَا كَانَ بِأَخِرَةٍ ، أَوْ كَمَا قَالَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ذَكَرَهُ فِي الْمِيزَانِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلَامًا لِأَحَدٍ ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ أَنَّ لَهُ حَدِيثًا فِي الْفَضَائِلِ بَاطِلٌ ، وَلَمْ أَدْرِ مَا بُطْلَانُهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلا موجود تھا ، میں نے عرض کی : آپ کے اصحاب میں سے آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ تاکہ میں بھی اس سے محبت رکھوں جس سے آپ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبادہ ! میری زندگی میں تم نے یہ بات پوشیدہ رکھنی ہے ، میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر پھر عمر پھر علی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، میں نے دریافت کیا : پھر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے بعد اور کون ہو سکتا ہے ؟ زبیر ہے ، طلحہ ، سعد ، ابوعبیدہ ، معاذ ، ابوطلحہ ، ابوایوب اور اے عبادہ ! تم اور ابی بن کعب ، ابودرداء ، ابن مسعود ، ابن عوف ، ابن عفان اور موالی سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ ہیں ، سلمان ، صہیب ، بلال ، سالم مولی ابوحذیفہ یہ میرے خاص لوگ ہیں ، اور ویسے میرا ہر صحابی میرے نزدیک معزز ہے اور پسندیدہ ہے خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ؟ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت یہ لوگ شہید ہو چکے تھے جب میں نے یہ سوال کیا تھا ، یہ بعد کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ہے اس نے ابوقلابہ سے روایات نقل کی ہیں ، مصنف نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کسی کا کلام ذکر نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کے حوالے سے فضائل کے بارے میں ایک جھوٹی حدیث منقول ہے مصنف کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس کے جھوٹے ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔