مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَرْحَمُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْقَهُهَا زَيْدُ بْنُ ثَاَبِتٍ ، وَقَدْ أُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً ، يَعْنِي : أَبَا الدَّرْدَاءِ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لئے میری امت میں سب سے رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، اور میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ مہربان عمر ہے ، اور میری امت میں حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے ، اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال اور حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ” رتوۃ“ ( یعنی نمایاں حیثیت والے ) کے طور پر آئے گا ، اور میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور سب سے زیادہ ( دین کی ) سمجھ بوجھ رکھنے والا زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت عطا کی گئی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں اس سے مراد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان سب حضرات پر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔