حدیث نمبر: 14930
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَرْحَمُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْقَهُهَا زَيْدُ بْنُ ثَاَبِتٍ ، وَقَدْ أُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً ، يَعْنِي : أَبَا الدَّرْدَاءِ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لئے میری امت میں سب سے رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، اور میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ مہربان عمر ہے ، اور میری امت میں حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے ، اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال اور حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ” رتوۃ“ ( یعنی نمایاں حیثیت والے ) کے طور پر آئے گا ، اور میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور سب سے زیادہ ( دین کی ) سمجھ بوجھ رکھنے والا زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت عطا کی گئی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں اس سے مراد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان سب حضرات پر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف