حدیث نمبر: 14935
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ ، فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَنَا آخُذُهَا ، وَأَنَا أَحَقُّ بِهَا ، بِنْتُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا ، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ . فَقَالَ عَلِيٌّ : بَلْ أَنَا أَحَقُّ بِهَا مِنْكُمَا ; بِنْتُ عَمِّي ، وَعِنْدِي بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا . وَأَنَا أَرْفَعُ صَوْتِي أُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُجَّتِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ . فَقَالَ زَيْدٌ : بَلْ أَنَا أَحَقُّ بِهَا ، خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ ، وَجِئْتُ بِهَا . قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " . فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ فَلِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ " . قُلْتُ : نَزَلَ الْقُرْآنُ فِي رَفْعِنَا أَصْوَاتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدٍ : " أَمَّا أَنْتَ فَمَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا " . قَالَ : قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . " وَأَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَأَنْتَ مِنْ شَجَرَتِي الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا " . قَالَ : قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . " وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَصَفِيِّي وَأَمِينِي " . قَالَ : رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . " وَأَمَّا الْجَارِيَةُ ; فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا ، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ " . قَالَ : قَدْ سَلَّمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زید بن حارثہ مکہ سے نکلے تو وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو بھی لے آئے ، سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بچی کو لوں گا ، کیونکہ میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ، اور خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ دونوں کے مقابلے میں ، میں اس بچی کا زیادہ حق رکھتا ہوں ، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اللہ کے رسول کی صاحبزادی میری بیوی ہے ، اور وہ اس کا زیادہ حق رکھتی ہے ، میں نے اپنی آواز بلند کی تھی تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر تشریف لانے سے پہلے میری دلیل کا پتہ چل جائے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ میں اس بچی کا زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میں اس کے لئے نکل کے گیا تھا اور میں نے سفر کیا اور اسے لے کر آیا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کا معاملہ کیا ہے ؟ لوگوں نے اپنا اپنا موقف آپ کے سامنے دہرا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کے درمیان فیصلہ دے دیتا ہوں ، اس بارے میں اور اس کے علاوہ کے بارے میں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمارے آواز بلند کرنے کے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے اور اس بچے کے مولیٰ ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بچی سے راضی ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جعفر جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے تم مجھ سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو اور تم میرے اسی شجرے سے تعلق رکھتے ہو جس سے مجھے پیدا کیا گیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے راضی ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے خاص ساتھی اور میرے امین ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں راضی ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک بچی کا تعلق ہے تو میں اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ وہ جعفر کو ملے گی اور اپنی خالہ کے ساتھ رہے گی کیونکہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اس کو تسلیم کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2610) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (665)»