حدیث نمبر: 14941
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَرْدَانَ الْكِنْدِيِّ قَالَ : كُنَّا ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ عَلِيٍّ فَوَافَقَ النَّاسُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ وَمِزَاجٍ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِكَ . قَالَ : عَنْ أَيِّ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُلُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابِي فَعَنْ أَيِّهِمْ تَسْأَلُونَ ؟ قَالُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَلِمَ السُّنَّةَ وَكَفَى بِذَلِكَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ : " وَكَفَى بِذَلِكَ " ، كَفَى الْقِرَاءَةُ الْقُرْآنَ ، وَعِلْمُ السُّنَّةِ ، أَوْ كَفَى بِعَبْدِ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : فَسُئِلَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ؟ قَالَ : كَانَ يُكْثِرُ السُّؤَالَ فَيُعْطِي وَيَمْنَعُ وَكَانَ حَرِيصًا شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، حَرِيصًا عَلَى الْعِلْمِ ، بَحْرٌ قَدْ مُلِئَ لَهُ فِي وِعَائِهِ حَتَّى امْتَلَأَ . ¤ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ؟ قَالَ : عَلِمَ أَسْمَاءَ الْمُنَافِقِينَ ، وَسَأَلَ عَنْ الْمُعْضِلَاتِ حَتَّى عَقَلَ عَنْهَا ، تَجِدُوهُ بِهَا عَالِمًا . ¤ قَالَ : فَحَدِّثْنَا عَنْ سَلْمَانَ . قَالَ : مَنْ لَكُمْ بِمِثْلِ لُقْمَانَ الْحَكِيمِ امْرُؤٌ مِنَّا وَإِلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ وَالْعِلْمَ الْآخِرَ . وَقَرَأَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ بَحْرًا لَا سَرَفَ . قُلْنَا : حَدِّثْنَا عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . قَالَ : امْرُؤٌ خُلِطَ الْإِيمَانُ بِلَحْمِهِ ، وَدَمِهِ ، وَشَعْرِهِ ، وَبَشَرِهِ ، حَيْثُ زَالَ زَالَ مَعَهُ ، لَا يَنْبَغِي لِلنَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ شَيْئًا . قُلْنَا : فَحَدِّثْنَا عَنْ نَفْسِكَ ! قَالَ : مَهْلًا نَهَى اللَّهُ عَنِ التَّزْكِيَةِ . قَالَ لَهُ رَجُلٌ : فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ) . قَالَ : فَإِنِّي أُحَدِّثُ بِنِعْمَةِ رَبِّي ، كُنْتُ وَاللَّهِ إِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتُدِئْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِي أَحْسَنِهِمَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابواسود وردان کندی بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، لوگوں کو ان کا مزاج خوشگوار محسوس ہوا تو کسی نے کہا: امیر المؤمنین آپ ہمیں اپنے اصحاب کے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اپنے اصحاب میں سے کس کے بارے میں ؟ اس شخص نے کہا: سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب کے بارے میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تمام اصحاب میرے بھی اصحاب ہیں ، تم ان میں سے کس کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمائیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے قرآن کو پڑھا اور سنت کا علم حاصل کیا اور یہ اس کے لئے کافی ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہمیں ان کی بات کے مفہوم کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ اس کے لئے کافی ہے ، اس سے مراد کیا ہے ، کیا قرآن کا علم حاصل ہونا اور سنت کا علم حاصل ہونا کافی ہے یا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لئے یہ چیز کافی ہے ، راوی کہتے ہیں : ان سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ بکثرت سوال کرتا تھا ، کبھی اسے جواب دے دیا جاتا تھا اور کبھی اسے جواب نہیں دیا جاتا تھا ، وہ اپنے دین کے بارے میں بہت حریص اور لالچی تھا ، علم کے بارے میں حریص تھا ، وہ ایک ایسا سمندر ہے کہ اس کے لئے برتن بھرا گیا ، اور وہ بھر گیا ، ہم نے کہا: آپ ہمیں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا : وہ منافقین کے اسماء کا علم رکھتا تھا ، اس نے پیچیدہ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں سمجھ لیا ، تم ان چیزوں کے حوالے سے اسے عالم پاؤ گے ، راوی نے کہا: آپ ہمیں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کون لقمان حکیم کی مانند ہو سکتا ہے ، سلمان ہم میں سے ایک فرد تھا ، جو اہل بیت کا ایک فرد تھا ، اس نے پہلے والا اور بعد والا علم حاصل کیا ، پہلے والی اور بعد والی کتاب کا علم حاصل کیا ، وہ ایک سمندر تھا ، جو ختم نہیں ہوتا ، ہم نے کہا: آپ ہمیں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا کہ ایمان اس کے گوشت ، اس کے خون ، اس کے بالوں ، اس کی جلد میں رچ بس گیا ، جہاں وہ ہوتا تھا ، ایمان اس کے ساتھ ہوتا تھا ، آگ کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس میں سے کچھ کھائے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رک جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کرنے سے منع کیا ہے ، تو ایک شخص نے ان سے کہا: لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” جہاں تک تمہارے پروردگار کی نعمت کا تعلق ہے تو اسے بیان کرو ۔ “ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کی نعمت کو بیان کرنے کے حوالے سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ کی قسم ! میں ایک ایسا فرد تھا کہ میں کوئی چیز مانگتا تھا تو مجھے دی جاتی تھی اور جب میں خاموش رہتا تھا ، تو مجھے ویسے ہی پہل کر دی جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان میں سے جو روایت زیادہ اچھی ہے اس میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف