حدیث نمبر: 14933
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ الثَّنَاءَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : وَمَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " . ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى الْحَوَارِيِّينَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا ، إِنَّهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عُمَرَ النَّصِيبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

نافع ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ، ان سے کہا: گیا کہ آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بڑی تعریف کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں ایسا کیوں نہ کروں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن چار افراد سے سیکھو ، عبداللہ بن مسعود ، سالم مولیٰ ابوحذیفہ ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ وہ دونوں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی دین میں وہی حیثیت ہے جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمر نصیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14933
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً