مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَغَيْرُهُمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . باب: صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت کا بیان ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات شامل ہیں
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَمَرَ الشُّورَى ، دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ابْنَتُهُ فَقَالَتْ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ جَعَلْتَهُمْ فِي الشُّورَى لَيْسَ هُمْ رِضًا ، قَالَ : أَسْنِدُونِي ، فَأَسْنَدُوهُ وَهُوَ لِمَا بِهِ ، فَقَالَ : مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عُثْمَانَ ؟ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَوْمَ يَمُوتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ " قُلْتُ : لِعُثْمَانَ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لِعُثْمَانَ خَاصَّةً " . ¤ قَالَ : مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؟ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاعَ جُوعًا شَدِيدًا فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِرَغِيفَيْنِ بَيْنَهُمَا إِهَالَةٌ ، فَوَضَعَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَفَاكَ اللَّهُ أَمْرَ دُنْيَاكَ ، فَأَمَّا الْآخِرَةُ فَأَنَا لَهَا ضَامِنٌ " . ¤ مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي طَلْحَةَ ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَقَطَ رَحْلُهُ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً فَقَالَ : " مَنْ يُسَوِّي رَحْلِي وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " فَابْتَدَى طَلْحَةُ الرَّحْلَ ، فَسَوَّاهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَكَ الْجَنَّةُ عَلَيَّ يَاطَلْحَةُ غَدًا " . ¤ مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي الزُّبَيْرِ ؟! فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ نَامَ فَلَمْ يَزَلْ يَذُبُّ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ تَزَلْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ : لَمْ أَزَلْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَقَالَ : " هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : عَلَيَّ أَنْ أَذُبَّ عَنْ وَجْهِكَ شَرَرَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عَلِيٍّ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا عَلِيُّ يَدُكَ مَعَ يَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُ حَيْثُ أَدْخُلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ تَكَلَّمَ فِيهِ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَنْسِبْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے شوریٰ قائم کرنے کی ہدایت کی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے شوریٰ میں شامل کیا ہے وہ لوگ پسندیدہ نہیں ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے ٹیک دو ، لوگوں نے انہیں ٹیک دی تو انہوں نے اس حال میں یہ فرمایا : تم لوگ عثمان کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہو ؟ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس دن عثمان مر جائے گا آسمان کے فرشتے اس کی نماز جنازہ ادا کریں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے مخصوص ہے یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ یہ عثمان کے لئے مخصوص ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو شدید بھوک لاحق تھی ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ دو روٹیاں لے کے آئے ، ان کے درمیان گوشت موجود تھا ۔ انہوں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہارے دنیاوی معاملے کے حوالے سے تمہاری کفایت کرے جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو اس کا میں ضامن ہوں ۔ “ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم لوگ طلحہ کے بارے میں بات کرتے ہو ، میں نے اللہ کے رسول کو دیکھا کہ آپ ایک مرتبہ رات کے وقت اپنی سواری سے گر گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون شخص میرے پالان کو ٹھیک کرے گا ؟ اُسے جنت ملے گی ؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ لپک کر پالان کی طرف گئے اور اُسے ٹھیک کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے طلحہ ! کل کو تمہیں جنت دینا میرے ذمہ ہے ۔ “ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم لوگ زبیر کے بارے میں بات چیت کرو گے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مسلسل آپ کے چہرے سے مکھیاں ہٹا رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ بیدار ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم اسی طرح کرتے رہے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں ایسا ہی کرتا رہا ہوں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے اور یہ تمہیں یہ کہہ رہا ہے کہ میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن میں تمہارے چہرے سے جہنم کے شرارے پیچھے کروں ۔ “ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ) تم لوگ علی کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو ؟ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے علی ! قیامت کے دن تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور تم وہاں جاؤ گے جہاں میں جاؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن سلیمان خراسانی ہے ، جس کے بارے میں امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے اپنی طرف سے کلام کیا ہے ۔ انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔