کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا أحب أحدكم صاحبه فليأته في منزله فليخبره أنه يحبه لله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے دوست سے محبت کرے تو اسے چاہیے کہ اس کے گھر جا کر اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 281
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن أبي ذر. الصحيحة ٤١٨, ٧٩٧: ابن المبارك في الزهد, ابن وهب في الجامع.
«إذا أحب الله عبدا حماه في الدنيا كما يحمي أحدكم سقيمه الماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آفتوں اور برائیوں) سے اسی طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو (نقصان دہ) پانی سے بچاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك هب] عن قتادة بن النعمان. المشكاة ٥٢٥٠.
«إذا أحب الله عبدا نادى جبريل: إن الله يحب فلانا فأحبه فيحبه جبريل فينادي جبريل في أهل السماء: إن الله يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر جبریل آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 283
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. الضعيفة ٢٢٠٧: مالك, حم.
«إذا أحب الله عبدا نادى جبريل: إني قد أحببت فلانا فأحبه فينادي في السماء ثم تنزل له المحبة في الأرض فذلك قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدّاً} » وإذا أبغض الله عبدا نادى جبريل إني أبغضت فلانا فينادي في السماء ثم تنزل له البغضاء في الأرض"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو پکار کر فرماتا ہے: میں نے فلاں سے محبت کی ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو وہ آسمان میں ندا دیتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے محبت اتار دی جاتی ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا﴾ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، عنقریب رحمٰن ان کے لیے (دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا۔ [سورة مريم: 96] اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبریل کو پکار کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں، پس وہ آسمان میں ندا دیتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے نفرت و بغض اتار دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الضعيفة ٢٢٠٧.
«إذا أحب الله قوما ابتلاهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس هب الضياء] عن أنس. الصحيحة ١٤٦: ت, هـ وحم عن محمود بن لبيد.
«إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ثم لينصرف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کا نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ لے اور پھر (نماز چھوڑ کر وضو کے لیے) چلا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 286
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك حب هق] عن عائشة. المشكاة ١٠٠٧.
«إذا أحسن أحدكم إسلامه فكل حسنة يعملها يكتب له عشرة أمثالها إلى سبعمائة ضعف, وكل سيئة يعملها يكتب له مثلها حتى يلقى الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے، تو وہ جو بھی نیکی کرتا ہے اس کے لیے اس کی مثل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہے، اور وہ جو بھی برائی کرتا ہے اس کے لیے بس اسی کے برابر لکھی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 287
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«إذا اختلف البيعان فالقول قول البائع والمبتاع بالخيار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب بیچنے اور خریدنے والے آپس میں اختلاف کر بیٹھیں تو بات بیچنے والے کی مانی جائے گی، اور خریدار کو (سودا برقرار رکھنے یا منسوخ کرنے کا) اختیار ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 288
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هق] عن ابن مسعود. الإرواء ١٣٢٢.
«إذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة فهو ما يقول رب السلعة أو يتتاركان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب خریدنے اور بیچنے والے اختلاف کر بیٹھیں اور ان دونوں کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو فیصلہ وہی ہوگا جو سامان کا مالک کہے گا، یا پھر وہ دونوں سودا ترک کر دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك هق] عن ابن مسعود. الإرواء ١٣٢٢, الصحيحة ٧٩٨.
«إذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة والمبيع قائم بعينه فالقول ما قال البائع أو يتركان البيع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب خریدار اور بیچنے والا آپس میں اختلاف کر بیٹھیں، ان دونوں کے درمیان کوئی گواہ نہ ہو اور بیچی گئی چیز اپنی اصل حالت میں موجود ہو، تو بات وہی مانی جائے گی جو بیچنے والے نے کہی ہو، یا پھر وہ دونوں بیع (سودا) ترک کر دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 290
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن مسعود. الإرواء ١٢٢٣.
«إذا اختلفتم في الطريق فاجعلوه سبعة أذرع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم راستے (کی چوڑائی) کے بارے میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ مقرر کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 291
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن أبي هريرة [حم هـ هق] عن ابن عباس.
«إذا أخذت مضجعك من الليل فاقرأ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ثم نم على خاتمتها فإنها براءة من الشرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] پڑھو، پھر اس کے ختم ہونے پر سو جاؤ، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت ك هب] عن نوفل بن معاوية [ن البغوي ابن قانع الضياء] عن جبلة بن حارثة. المشكاة ٢١٦١.
«إذا أدخل أحدكم رجليه في خفيه وهما طاهرتان فليمسح عليهما ثلاثا للمسافر ويوما للمقيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے دونوں پاؤں پاک ہونے کی حالت میں موزوں میں داخل کرے، تو وہ ان پر مسح کرے، مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن (اور رات) مقرر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٠١ٍ.
"إذا أدرك أحدكم سجدة من صلاة العصر قبل أن
تغرب الشمس فليتم صلاته وإذا أدرك سجدة من صلاة الصبح قبل أن تطلع الشمس فليتم صلاته"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا ایک سجدہ (یعنی رکعت) پا لے تو وہ اپنی نماز پوری کرے، اور اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز کا ایک سجدہ پا لے تو وہ اپنی نماز پوری کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٦.
«أدى العبد حق الله وحق مواليه كان له أجران»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب غلام اللہ کا حق اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٢٨.
«إذا أذن ابن أم مكتوم فكلوا واشربوا وإذا أذن بلال فلا تأكلوا ولا تشربوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب ابن ام مکتوم اذان دیں تو کھاؤ اور پیو، اور جب بلال اذان دیں تو نہ کھاؤ اور نہ پیو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 296
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ابن خزيمة حب] عن أنيسة بن خبيب. صحيح السنن ٥٥٢/٨, الإرواء ٢١٩.
«إذا أذن المؤذن فلا يخرج أحد حتى يصلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مؤذن اذان دے دے تو کوئی شخص (مسجد سے) نہ نکلے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. الترغيب ٢٥٨/٢٦٠: الطيالسي, حم.
«إذا أذنت المغرب فاحدرها مع الشمس حدرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مغرب کی اذان دو تو اسے سورج (کے غروب ہوتے) ہی جلدی دے دیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 298
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي محذورة. مجمع الزوائد ١/٣١١.
«إذا أراد أحدكم أن يذهب إلى الخلاء وأقيمت الصلاة فليذهب إلى الخلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی قضاء حاجت کے لیے جانا چاہتا ہو اور نماز کھڑی ہو جائے، تو وہ پہلے قضاء حاجت کے لیے جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 299
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن هـ حب ك] عن عبد الله بن أرقم. صحيح السنن ٨٠.
«إذا أراد أحدكم أن يزوج ابنته فليستأمرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس سے اجازت طلب کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي موسى. الصحيحة ١٢٠٦.
«إذا أراد أحدكم من امرأته حاجته فليأتها وإن كانت على تنور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے اپنی حاجت پوری کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے پاس آئے، خواہ وہ تنور پر (روٹیاں ہی کیوں نہ پکا رہی) ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن طلق بن علي. الصحيحة ١٢٠٢.
"إذا أراد الله بالأمير خيرا جعل له وزير صدق إن نسي
ذكره وإن ذكر أعانه وإذا أراد به غير ذلك جعل له وزير سوء إن نسي لم يذكره وإن ذكر لم يعنه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی حکمران کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے ایک سچا وزیر مقرر کر دیتا ہے، اگر حکمران بھول جائے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ اس کے ساتھ اس کے برعکس ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے ایک برا وزیر مقرر کر دیتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو وہ اسے یاد نہیں دلاتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هب] عن عائشة. المشكاة ٣٧٠٧.
«إذا أراد الله بأهل بيت خيرا أدخل عليهم الرفق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی گھر والوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کے اندر نرمی اور شفقت داخل کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم تخ هب] عن عائشة [البزار] عن جابر. الصحيحة ١٢١٩.
«إذا أراد الله بعبد خيرا استعمله, قيل: ما يستعمله؟ قال: يفتح له عملا صالحا بين يدي موته حتى يرضي عليه من حوله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کام پر لگا دیتا ہے۔ (صحابہ نے) پوچھا: اسے کس کام پر لگاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی موت سے پہلے اس کے لیے کسی نیک عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے یہاں تک کہ اس کے آس پاس رہنے والے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 304
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن عمرو بن الحمق. الصحيحة ١١١٤: تخ, حب, الطحاوي السنة لابن أبي عاصم.
«إذا أراد بعبد خيرا استعمله قيل: كيف يستعمله؟ قال: يوفقه لعمل صالح قبل الموت ثم يقبضه عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب (اللہ تعالیٰ) کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کام پر لگا دیتا ہے۔ (صحابہ نے) پوچھا: وہ اسے کیسے کام پر لگاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: موت سے پہلے اسے نیک عمل کی توفیق دیتا ہے اور پھر اسی (نیک عمل کی) حالت میں اس کی روح قبض کر لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 305
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن أنس. الروض ٢/٨٧, المشكاة ٥٢٨٨.
«إذا أراد الله بعبد خيرا طهره قبل موته قالوا: وما طهور العبد؟ قال: عمل صالح يلهمه إياه حتى يقبضه عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے مرنے سے پہلے پاک کر دیتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: بندے کے پاک ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک نیک عمل ہے جس کا اللہ اسے الہام کر دیتا ہے (توفیق دے دیتا ہے) یہاں تک کہ اسی حالت میں اس کی روح قبض کر لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. فيض القدير.
«إذا أراد الله بعبد خيرا عسله قيل: وما عسله؟ ٢ قال: يفتح له عملا صالحا قبل موته ثم يقبضه عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے شہد کی طرح میٹھا کر دیتا ہے۔ (صحابہ نے) پوچھا: اس کے شہد کی طرح میٹھا ہونے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس کی موت سے پہلے اس کے لیے ایک نیک عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے پھر اسی حالت پر اس کی روح قبض کر لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي عنبة٣. السنة لابن أبي عاصم ١١١٤.
«إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا وإذا أراد بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافي به يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی جلد سزا دے دیتا ہے، اور جب وہ اپنے بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا کو روکے رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أنس [طب ك هب] عن عبد الله بن مغفل [طب] عن عمار بن ياسر [عد] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٢٠, رياض الصالحين ٤٤.
«إذا أراد الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم ثم بعثوا على أعمالهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب کا ارادہ فرماتا ہے تو ان میں موجود تمام لوگوں کو عذاب اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، پھر (قیامت کے دن) وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٩٤٩.
«إذا أراد الله خلق شيء لم يمنعه شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لے تو اسے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي سعيد.
«إذا أراد الله قبض عبد بأرض جعل له فيها حاجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی جان کسی (خاص) زمین میں قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہاں اس کی کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حم حل] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٢١: خد, حب.
«إذا أردت أن تبزق فلا تبزق عن يمينك ولكن عن يسارك إن كان فارغا فإن لم يكن فارغا فتحت قدمك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم تھوکنا چاہو تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکو بلکہ اپنی بائیں جانب تھوکو اگر وہ جگہ خالی ہو، اور اگر وہ جگہ خالی نہ ہو تو اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن طارق بن عبد الله. الصحيحة ١٢٢٣.
«إذا أرسلت كلابك المعلمة وذكرت اسم الله فكل مما أمسكن عليك وإن قتلن إلا أن يأكل الكلب فإني أخاف أن يكون إنما أمسكه على نفسه, وإن خالطها كلاب من غيرها فلا تأكل فإنك لا تدري أيها قتل, وإن رميت الصيد فوجدته بعد يوم أو يومين ليس به إلا أثر سهمك فكل, وإن وقع في الماء فلا تأكل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنے سدھائے ہوئے شکاری کتوں کو چھوڑو اور (چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لو، تو جو وہ تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں اسے کھا لو، خواہ وہ اسے مار ہی کیوں نہ ڈالیں، سوائے اس صورت کے کہ کتا اس میں سے کچھ کھا لے، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہوگا۔ اور اگر تمہارے کتوں کے ساتھ کوئی اور کتے بھی شامل ہو جائیں تو مت کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اسے مارا ہے۔ اور اگر تم شکار پر تیر پھینکو اور ایک یا دو دن بعد اسے اس حالت میں پاؤ کہ اس پر صرف تمہارے تیر کا نشان ہو تو اسے کھا لو، اور اگر وہ پانی میں گر جائے تو اسے مت کھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن عدي بن حاتم. الإرواء ٢٥٥١.
"إذا أرسلت كلبك المعلم فقتل فكل, وإذا أكل فلا تأكل فإنما أمسك على نفسه, وإن وجدت معه كلبا آخر فلا تأكل فإنما سميت على كلبك ولم تسم على كلب آخر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑو اور وہ (شکار کو) مار ڈالے تو اسے کھا لو، اور اگر وہ اس میں سے کچھ کھا لے تو مت کھاؤ کیونکہ پھر اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے۔ اور اگر تم اس کے ساتھ کوئی اور کتا پاؤ تو مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر (اللہ کا نام) پڑھا تھا کسی اور کتے پر نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن عدي بن حاتم. الإرواء ٢٥٥١ - ٢٥٥٤.
«إذا أرسلت كلبك المكلب وذكرت وسميت فكل ما أمسك عليك كلبك المكلب وإن قتل, وإن أرسلت كلبك الذي ليس بمكلب وأدركت ذكاته فكل وكل ما رد عليك سهمك وإن قتل وسم الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنا سدھایا ہوا شکاری کتا چھوڑو اور اللہ کا ذکر کرو اور اس کا نام لو، تو جو تمہارا سدھایا ہوا کتا تمہارے لیے پکڑ کر رکھے اسے کھا لو خواہ وہ اسے مار ہی ڈالے، اور اگر تم اپنا وہ کتا چھوڑو جو سدھایا ہوا نہ ہو اور تم اس (شکار) کو زندہ پا کر ذبح کر لو تو اسے کھا لو، اور جو تمہارا تیر تمہارے لیے لائے اسے کھا لو خواہ وہ مار ڈالے، بشرطیکہ تم نے (تیر چلاتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن أبي ثعلبة. مختصر مسلم ١٢٤١.
«إذا أرسلت كلبك فاذكر اسم الله فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه فإن أدركته قد قتله ولم يأكل منه فكله, وإن وجدت مع كلبك كلبا غيره قد قتل فلا تأكل فإنك لا تدري أيها قتله وإن رميت بسهمك فاذكر اسم الله فإن غاب عنك يوما فلم تجد فيه إلا أثر سهمك فكل إن شئت وإن وجدته غريقا في الماء فلا تأكل فإنك لا تدري الماء قتله أو سهمك؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنا شکاری کتا چھوڑو تو اللہ کا نام لو، پس اگر وہ تمہارے لیے (شکار کو) پکڑ کر رکھے اور تم اسے زندہ پالو تو اسے ذبح کر لو، اور اگر تم اسے اس حال میں پاؤ کہ اس نے اسے مار دیا ہے اور اس میں سے کچھ کھایا نہیں ہے تو اسے کھا لو۔ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار دیا ہو تو مت کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کس نے اسے مارا ہے۔ اور جب تم اپنا تیر پھینکو تو اللہ کا نام لو، پھر اگر وہ (شکار) ایک دن تم سے غائب رہے اور تمہیں اس پر صرف اپنے تیر کا نشان ملے تو اگر تم چاہو تو اسے کھا لو، اور اگر تم اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو مت کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے پانی نے مارا ہے یا تمہارے تیر نے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن عدي بن حاتم. مختصر مسلم ١٢٣٩.
«إذا أسأت فأحسن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم سے کوئی برائی سرزد ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هب] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٢٢٨.
«إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے چاہیے کہ وہ واپس لوٹ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 318
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د] عن أبي موسى وأبي سعيد معا [طب الضياء] عن جندب البجلي.
«إذا استأذنت أحدكم امرأته إلى المسجد فلا يمنعها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کی بیوی اس سے مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن ابن عمر. غاية المرام ٢٠١.
«إذا استأذن على الرجل وهو يصلي فإذنه التسبيح, وإذا استأذن على المرأة وهي تصلى فإذنها التصفيق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی مرد سے اجازت طلب کی جائے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینا «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہنا ہے، اور جب کسی عورت سے اجازت طلب کی جائے اور وہ نماز پڑھ رہی ہو تو اس کا اجازت دینا تالی بجانا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٩٧.