حدیث نمبر: 284
«إذا أحب الله عبدا نادى جبريل: إني قد أحببت فلانا فأحبه فينادي في السماء ثم تنزل له المحبة في الأرض فذلك قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدّاً} » وإذا أبغض الله عبدا نادى جبريل إني أبغضت فلانا فينادي في السماء ثم تنزل له البغضاء في الأرض"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو پکار کر فرماتا ہے: میں نے فلاں سے محبت کی ہے تم بھی اس سے محبت کرو، تو وہ آسمان میں ندا دیتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے محبت اتار دی جاتی ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا﴾ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، عنقریب رحمٰن ان کے لیے (دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا۔ [سورة مريم: 96] اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبریل کو پکار کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں، پس وہ آسمان میں ندا دیتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے نفرت و بغض اتار دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الضعيفة ٢٢٠٧.