کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إياكم والدخول على النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نامحرم عورتوں کے پاس (تنہائی میں) جانے سے بچو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن عقبة بن عامر. غاية المرام ١٨١.
«إياكم والشح فإنما هلك من كان قبلكم بالشح أمرهم بالبخل فبخلوا وأمرهم بالقطيعة فقطعوا وأمرهم بالفجور ففجروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بخل و تنگ دلی سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بخل ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے، بخل نے انہیں بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا، اس نے انہیں رشتہ داریاں توڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے رشتہ داریاں توڑ دیں، اور اس نے انہیں بدکاری کا حکم دیا تو انہوں نے بدکاری کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٤٦٢.
"إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث ولا
تجسسوا ولا تحسسوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا ولا يخطب الرجل على خطبة أخيه حتى ينكح أو يترك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے، اور نہ کسی کے عیوب تلاش کرو، نہ کان لگا کر باتیں سنو، نہ آپس میں حسد کرو، نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو، اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کر لے یا اسے چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ت] عن أبي هريرة. غاية المرام ٤١٧.
«إياكم والغلو في الدين فإنما هلك من كان قبلكم بالغلو في الدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دین میں غلو (حد سے بڑھنے) سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ ك] عن ابن عباس. الصحيحة ١٢٨٣، السنة ٩٨: ابن خزيمة، ابن حبان، حم، الضياء.
«إياكم والوصال إنكم لستم في ذلك مثلي إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني فاكلفوا من العمل ما تطيقون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صومِ وصال (لگاتار بغیر کچھ کھائے پیے روزے رکھنے) سے بچو، یقیناً تم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہو، میں رات اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، لہٰذا تم اعمال کا اتنا ہی بوجھ اٹھاؤ جتنی تم میں طاقت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة.
«إياكم ودعوة المظلوم وإن كانت من كافر فإنه ليس لها حجاب دون الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مظلوم کی بددعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس (کی آہ) اور اللہ عزوجل کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [سمويه] عن أنس. الصحيحة ٧٦٧: ابن معين في [التاريخ] ، الدولابي، القضاعي.
«إياكم وسوء ذات البين فإنها الحالقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باہمی تعلقات کی خرابی اور آپس کی رنجشوں سے بچو، کیونکہ بے شک یہ (دین کو) مونڈ دینے والی (یعنی تباہ کر دینے والی) خصلت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٠٤١.
«إياكم وكثرة الحديث عني فمن قال علي فليقل حقا أو صدقا ومن تقول علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری طرف منسوب کر کے کثرت سے حدیثیں بیان کرنے سے بچو، پس جو شخص میری طرف کوئی بات منسوب کرے تو اسے چاہیے کہ وہ صرف حق اور سچ کہے، اور جس شخص نے مجھ پر کوئی ایسی بات گھڑی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ك] عن أبي قتادة. الصحيحة ١٧٥٣: الدارمي، ابن ماجه، الطحاوي.
«إياكم وكثرة الحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خرید و فروخت میں کثرت سے قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ یہ (قسم وقتی طور پر) سامان تو بکوا دیتی ہے لیکن پھر (کاروبار کی) برکت کو مٹا دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن أبي قتادة. بيوع الموسوعة، مختصر مسلم ٩٥٨.
"إياكم ومحقرات الذنوب فإنما مثل محقرات الذنوب
كمثل قوم نزلوا بطن واد فجاء ذا بعود وجاء ذا بعود حتى حملوا ما أنضجوا به خبزهم وإن محقرات الذنوب متى يؤخذ بها صاحبها تهلكه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گناہوں کو حقیر سمجھنے سے بچو، کیونکہ ان چھوٹے گناہوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو کسی وادی میں اترے، پھر ایک شخص لکڑی لایا، دوسرا شخص لکڑی لایا، یہاں تک کہ انہوں نے اتنی لکڑیاں جمع کر لیں جن سے انہوں نے اپنی روٹی پکا لی، اور بلاشبہ حقیر سمجھے جانے والے گناہ جب اپنے کرنے والے کو پکڑیں گے تو اسے ہلاک کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب هب الضياء] عن سهل بن سعد. الروض النضير ٣٥١، الصحيحة ٣٨٩: الروياني.
«إياكم ومحقرات الذنوب فإنهن يجتمعن على الرجل حتى يهلكنه كرجل كان بأرض فلاة فحضر صنيع القوم فجعل الرجل يجيء بالعود والرجل يجيء بالعود حتى جمعوا من ذلك سوادا وأججوا نارا فأنضجوا ما فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھنے سے بچو، کیونکہ وہ آدمی پر جمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے ہلاک کر دیتے ہیں، ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کسی چٹیل میدان میں تھا، پھر لوگوں کے کھانا پکانے کا وقت آیا تو ایک شخص لکڑی لانے لگا اور دوسرا شخص لکڑی لانے لگا، یہاں تک کہ انہوں نے اس سے ایک ڈھیر جمع کر لیا اور آگ بھڑکا دی، پھر اس میں جو کچھ تھا اسے پکا لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن مسعود. الروض النضير ٣٥١.
«إياكم وهاتين البقلتين المنتنتين أن تأكلوهن وتدخلوا مساجدنا فإن كنتم لا بد آكليهما فاقتلوهما بالنار قتلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان دو بدبودار سبزیوں (یعنی کچے لہسن اور پیاز) کو کھا کر ہماری مسجدوں میں داخل ہونے سے بچو، اور اگر تمہارے لیے انہیں کھانا ناگزیر ہی ہو تو انہیں آگ پر پکا کر ان کی بدبو ختم کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أنس. صحيح الترغيب ٣٣٠.
«أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایامِ تشریق (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ) کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن نبيشة. الروض النضير ٢/٢٥٠.
«أيام منى أيام أكل وشرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”منیٰ کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٨٢: الطحاوي، حم.
«إياي أن تتخذوا ظهور دوابكم منابر فإن الله تعالى إنما سخرها لكم لتبلغكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس وجعل لكم الأرض فعليها فاقضوا حاجاتكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس بات سے بچو کہ تم اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو منبر بناؤ (یعنی ان پر بیٹھے بیٹھے خطبہ دو یا لمبی گفتگو کرو)، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے لیے صرف اس لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایسے شہروں تک پہنچا دیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے، اور اس نے تمہارے لیے زمین کو (ٹھہرنے کی جگہ) بنایا ہے، لہٰذا تم اسی پر اپنی ضرورتیں پوری کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢: هق، ابن عساكر.
«إياي والفرج» - يعني في الصلاة -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(نماز کی صفوں میں) خالی جگہوں سے بچو۔“ (راوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز میں صفوں کا درمیانی خلا ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٧٥٧.
«أيتكن أرادت المسجد فلا تقربن طيبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم عورتوں میں سے جو کوئی مسجد جانے کا ارادہ کرے تو وہ ہرگز خوشبو کے قریب نہ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن زينب الثقفية. الصحيحة ١٠٩٣١: م.
«أيكم خلف الخارج في أهله وماله بخير كان له مثل نصف أجر الخارج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے جو کوئی (جہاد کے لیے) نکلنے والے کے پیچھے اس کے اہل و عیال اور مال میں بھلائی کے ساتھ اس کی جانشینی (نگہداشت) کرے گا، تو اس کے لیے نکلنے والے کے اجر کا آدھا حصہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ١١١٢.
«أيكم كانت له أرض أو نخل فلا يبعها حتى يعرضها على شريكه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے جس کی کوئی زمین یا کھجوروں کا باغ (کسی کے ساتھ مشترک) ہو تو وہ اسے اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک کہ اسے اپنے شریک پر پیش نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن جابر. الصحيحة ١٤٠١: حم، ابن الجارود.
«أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله؟ فإن ماله ما قدم ومال وارثه ما أخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ بلاشبہ اس کا اپنا مال تو وہ ہے جو اس نے (اللہ کی راہ میں خرچ کر کے) آگے بھیج دیا، اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو اس نے (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن ابن مسعود. تخريج مشكلة الفقر ١١٤، الصحيحة ١٤٨٦: حم.
«أيكم يحب أن يغدو كل يوم إلى بطحان أو إلى العقيق فيأتي منه بناقتين كوماوين زهراوين في غير إثم ولا قطع رحم فلأن يغدو أحدكم إلى المسجد فيتعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله خير له من ناقتين وثلاث خير له من ثلاث وأربع خير له من أربع ومن أعدادهن من الإبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز صبح بطحان یا عقیق (مدینہ کی وادیوں) کی طرف جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو موٹی تازی اور خوبصورت اونٹنیاں لے کر آئے؟ تو یقیناً تم میں سے کسی کا صبح سویرے مسجد کی طرف جانا اور اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھنا یا پڑھنا اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، اور تین آیتیں تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اور چار آیتیں چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اور اسی طرح جتنی آیتیں ہوں گی وہ اتنے ہی اونٹوں سے بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن عقبة بن عامر. صحيح أبي داود ١٣٠٩.
«أيما امرئ قال لأخيه: كافر فقد باء بها أحدهما إن كان كما قال وإلا رجعت إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے بھی اپنے (مسلمان) بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک اس (کفر) کے ساتھ لوٹا، اگر وہ (جسے کافر کہا گیا) ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا (تو ٹھیک ہے)، ورنہ وہ (کفر کا فتویٰ) اسی کہنے والے کی طرف پلٹ آئے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن ابن عمر.
"أيما امرئ مات وعنده مال امرئ بعينه
اقتضى منه شيئا أو لم يقتض فهو أسوة الغرماء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وفات پا جائے اور اس کے پاس کسی دوسرے شخص کا بعینہ وہی مال موجود ہو، خواہ اس (قرض خواہ) نے اس میں سے کچھ وصول کر لیا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ (مالک) دیگر قرض خواہوں کے برابر ہی سمجھا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ١٤٣٢.
«أيما امرئ مسلم أعتق امرءا مسلما فهو فكاكه من النار يجزي بكل عظم منه عظما منه وأيما امرأة مسلمة أعتقت امرأة مسلمة فهي فكاكها من النار يجزي بكل عظم منها عظما منها وأيما امرئ مسلم أعتق امرأتين مسلمتين فهما فكاكه من النار يجزي بكل عظمين منهما عظما منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اس (غلام) کی ہر ہڈی کے بدلے اس (آزاد کرنے والے) کی ایک ہڈی کو دوزخ سے بچائے گا، اور جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائے گی، اللہ تعالیٰ اس (لونڈی) کی ہر ہڈی کے بدلے اس (آزاد کرنے والی عورت) کی ایک ہڈی کو آگ سے بچائے گا، اور جس مسلمان مرد نے دو مسلمان عورتوں کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے آگ سے آزادی کا باعث ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان دونوں کی ہر دو ہڈیوں کے بدلے اس کی ایک ہڈی کو آگ سے بچائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الرحمن بن عوف [د هـ طب] عن مرة بن كعب [ت] عن أبي أمامة. الترغيب ٣/٦١.
«أيما امرأة استعطرت ثم خرجت فمرت على قوم ليجدوا ريحها فهي زانية وكل عين زانية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی عورت خوشبو لگا کر نکلے، پھر وہ لوگوں (غیر محرم مردوں) کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں، تو وہ زانیہ ہے، اور (اسے ہوس کی نگاہ سے دیکھنے والی) ہر آنکھ زانیہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن ك] عن أبي موسى. إيمان أبي عبيدة ٤٦/١١٠، المشكاة ١٠٦٥: د، ت، الطحاوي، ابن خزيمة، ابن حبان، هب.
«أيما امرأة أصابت بخورا فلا تشهد معنا العشاء الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت (خوشبو کی) دھونی لے، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن أبي هريرة. المشكاة ١٠٦١.
«أيما امرأة تطيبت ثم خرجت إلى المسجد لم تقبل لها صلاة حتى تغتسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت خوشبو لگا کر مسجد کی طرف نکلے، اس کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ (خوشبو کا اثر زائل کرنے کے لیے غسلِ جنابت کی طرح) غسل نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٠٣١.
«أيما امرأة توفي عنها زوجها فتزوجت بعده فهي لآخر أزواجها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور وہ اس کے بعد (کسی اور سے) نکاح کر لے، تو وہ (جنت میں) اپنے آخری شوہر کے لیے ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. الصحيحة ١٢٨١.
«أيما امرأة زادت في رأسها شعرا ليس منه فإنه زور تزيد فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت نے اپنے سر میں ایسے بال ملائے جو اس کے (اپنے) نہیں ہیں، تو بے شک یہ سراسر فریب ہے جس کا وہ اضافہ کر رہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن معاوية. الترغيب ٣/١١٥: حم.
«أيما امرأة سألت زوجها الطلاق من غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو عورت بغیر کسی شرعی عذر اور مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ت حب ك] عن ثوبان. الإرواء ٢٠٣٥.
«أيما امرأة مات لها ثلاثة من الولد كن لها حجابا من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ (اور ڈھال) بن جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي سعيد.
«أيما امرأة نزعت ثيابها في غير بيتها خرق الله عز وجل عنها ستره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت نے اپنے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ (بغیر کسی شرعی ضرورت کے) اپنے کپڑے اتارے، تو اللہ عزوجل اس پر سے اپنا پردہ ہٹا دے گا (یعنی اس کی حفاظت اور پردہ پوشی ختم کر دے گا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك هب] عن أم سلمة. صحيح الترغيب ١٦٦ و١٦٤ عن أم الدرداء: عد – معاذ بن أنس.
«أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ پس اگر اس (مرد) نے اس کے ساتھ خلوت (ہمبستری) کر لی تو اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض اس عورت کے لیے مہر لازم ہے۔ پھر اگر ان (ولیوں) کا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، مسلمان حکمران اس کا ولی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت هـ ك] عن عائشة. الإرواء ١٨٤٠.
«أيما امرأة وضعت ثيابها في غير بيت زوجها فقد هتكت ستر ما بينها وبين الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے، تو تحقیق اس نے اپنے اور اللہ عزوجل کے درمیان موجود پردے کو چاک کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك] عن عائشة. صحيح الترغيب ١٦٥.
«أيما إهاب دبغ فقد طهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس (مردار کے) چمڑے کو دباغت دے دی جائے (کما لیا جائے)، تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ] عن ابن عباس. الروض النضير ٤١٣، غاية المرام ٢٨.
"أيما داع دعا إلى ضلالة فاتبع فإن عليه مثل أوزار من
اتبعه ولا ينقص من أوزارهم شيئا وأيما داع دعا إلى هدى فاتبع فإن له مثل أجور من اتبعه ولا ينقص من أجورهم شيئا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی بلانے والا کسی گمراہی کی طرف بلائے اور اس کی پیروی کی جائے، تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی، اور ان (پیروی کرنے والوں) کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور جو کوئی بلانے والا کسی ہدایت کی طرف بلائے اور اس کی پیروی کی جائے، تو اس کے لیے ان تمام لوگوں کے ثواب کے برابر اجر ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی، اور ان (پیروی کرنے والوں) کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أنس. صحيح الترغيب ٦٠ نحوه عن جرير.
«أيما راع غش رعيته فهو في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو بھی نگران (یا حاکم) اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی (اور خیانت) کرے گا، وہ جہنم کی آگ میں جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن معقل بن يسار. الصحيحة ١٧٥٧: حم، م.
«أيما رجل آتاه الله علما فكتمه ألجمه الله يوم القيامة بلجام من نار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا اور اس نے اسے (لوگوں سے) چھپایا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. صحيح الترغيب ١١٦.
«أيما رجل أعمر رجلا عمرى له ولعقبه فهي له ولمن يرثه من عقبه موروثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز عمریٰ (زندگی بھر کے لیے عطیہ) کے طور پر دی کہ یہ تیرے اور تیری اولاد کے لیے ہے، تو وہ چیز اسی کی ہے اور اس کی اولاد میں سے اس کے وارثوں کی ہے، جو ان میں بطورِ وراثت تقسیم ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن الزبير. الإرواء ١٦٠٧.
«أيما رجل أعمر عمرى لرجل له ولعقبه فإنها للذي أعطيها لا ترجع إلى الذي أعطاها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز عمریٰ کے طور پر دی کہ یہ تیرے اور تیری اولاد کے لیے ہے، تو بے شک وہ چیز اسی کی ہو جائے گی جسے دی گئی ہے، وہ دینے والے کی طرف واپس نہیں لوٹے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٣] عن جابر. الإرواء ١٦٠٧.