حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، مِنْ بَنِي امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ»
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والے انصار کے ناموں کے ذکر میں بیان کرتے ہیں: پھر بنو حارث بن خزرج میں سے، بنو امرئ القیس بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج میں سے، عبداللہ بن رواحہ بن امرئ القیس (رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے)۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ»
ترجمہ
ابن شہاب رحمہ اللہ بدر میں شریک ہونے والے انصار کے ناموں کے ذکر میں بیان کرتے ہیں: بنو حارث بن خزرج میں سے عبداللہ بن رواحہ بن امرئ القیس رضی اللہ عنہ (بھی شریک تھے)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... قَدْ أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ
بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ "
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... قَدْ أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ
بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ "
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے موقع پر (مکہ میں) داخل ہوئے، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے یہ رجز کہہ رہے تھے: ”اے کافروں کی اولاد! اس (رسول اللہ ﷺ) کا راستہ چھوڑ دو، بےشک رحمٰن نے اپنی نازل کردہ کتاب میں یہ بتایا ہے کہ اس کی راہ میں مارا جانا سب سے بہتر موت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ مَشْي عَبْدَ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... الْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
قَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَرَمِ اللهِ تَقُولُ الشَّعْرَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ السُّيُوفِ»
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... الْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
قَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَرَمِ اللهِ تَقُولُ الشَّعْرَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ السُّيُوفِ»
ترجمہ
… (اس کی بات) پر، اور وہ دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دیتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر کہتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! اسے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (اشعار) ان (کفار) پر تلواروں کی ضربوں سے بھی زیادہ کاری ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي تِلْكَ الْعُمْرَةِ دَخَلَهَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهْ ... إِنِّي شَهِيدٌ أَنَّهُ رَسُولُهْ
خَلُّوا فَكُلُّ الْخَيْرِ فِي رَسُولِهْ ... يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهْ
أَعْرِفُ حَقَّ اللهِ فِي قَبُولِهْ ... نَحْنُ قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهْ
كَمَا قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهْ ... ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهْ
وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهْ "
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهْ ... إِنِّي شَهِيدٌ أَنَّهُ رَسُولُهْ
خَلُّوا فَكُلُّ الْخَيْرِ فِي رَسُولِهْ ... يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهْ
أَعْرِفُ حَقَّ اللهِ فِي قَبُولِهْ ... نَحْنُ قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهْ
كَمَا قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهْ ... ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهْ
وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهْ "
ترجمہ
عبداللہ بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اس عمرے میں مکہ میں داخل ہوئے تو عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے یہ رجز کہہ رہے تھے: ”اے کافروں کی اولاد! راستہ چھوڑ دو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ راستہ چھوڑ دو، ساری بھلائی اسی کے رسول میں ہے، اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں اسے قبول کرنے میں اللہ کا حق پہچانتا ہوں، ہم نے (پہلے) تمہیں اس کی تنزیل (کے انکار) پر قتل کیا تھا اور اب اس کی تاویل (میں اختلاف) پر بھی قتل کریں گے، ایسی ضرب لگا کر جو سروں کو ان کی جگہ سے جدا کر دے، اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: «اكْشِفُوا عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَاسْعَوْا فِي الطَّوَافِ» ، لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ وَقُوَّتَهُمْ، وَكَانَ يَكِيدُهُمْ بِكُلِّ مَا اسْتَطَاعَ، فَانْكَفَأَ أَهْلُ مَكَّةَ الرِّجَالُ مِنْهُمْ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَرْتَجِزُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ، يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... أَنَا الشَّهِيدُ أَنَّهُ رَسُولُهُ
قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ... فِي صُحُفٍ يُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ
فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ... كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْظًا، وَحَنَقًا، ونفاسة وَحَسَدًا، خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسُكَهُ فَأَقَامَ ثَلَاثًا
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... أَنَا الشَّهِيدُ أَنَّهُ رَسُولُهُ
قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ... فِي صُحُفٍ يُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ
فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ... كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْظًا، وَحَنَقًا، ونفاسة وَحَسَدًا، خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسُكَهُ فَأَقَامَ ثَلَاثًا
ترجمہ
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا: ”کندھے کھلے رکھو اور طواف میں تیز چلو (رمل کرو)“ تاکہ مشرکین ان کی قوت اور مضبوطی دیکھ لیں، اور آپ ﷺ ہر ممکن طریقے سے ان کے خلاف تدبیر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اہلِ مکہ، مرد، عورتیں اور بچے سب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھنے کے لیے امڈ آئے، اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تلوار حمائل کیے رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے یہ رجز پڑھ رہے تھے: ”اے کافروں کی اولاد! راستہ چھوڑ دو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ رحمٰن نے اپنی نازل کردہ کتاب میں، ان صحیفوں میں جو اس کے رسول پر پڑھے جاتے ہیں، یہ بات نازل فرمائی ہے۔ آج ہم تمہیں اس کی تاویل پر اسی طرح ماریں گے جیسے تمہیں اس کی تنزیل پر مارا تھا، ایسی ضرب لگا کر جو سروں کو ان کی جگہ سے جدا کر دے، اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے۔“ مشرکین کے بعض سردار غصے، رنج، حسد اور جلن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو دیکھنا پسند نہ کرتے ہوئے چھپ گئے اور مکہ کے اطراف میں نکل گئے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مناسک پورے کیے اور تین دن قیام فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ» يَعْنِي: الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا، وَيُكْنَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ تُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدَعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصُ، فَقَالَ فِي ذَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا إِلَى حَزْرِ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تو ان پر یہ شرط رکھی کہ زمین اور ہر پیلی اور سفید چیز (یعنی سونا چاندی) آپ کی ہوگی، اہلِ خیبر نے عرض کیا: ہم زمین کو بہتر جانتے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے وہ زمین انہیں اس شرط پر دے دی کہ وہ اس پر کام کریں گے اور پیداوار کا نصف ہمارا اور نصف ان کا ہوگا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں اسی شرط پر (زمین) دی۔ چنانچہ جب کھجوریں کاٹنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے ان کی طرف ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا، اور اسی کو اہلِ مدینہ ’خرص‘ کہتے ہیں۔ انہوں نے (تخمینے میں) اتنی اتنی مقدار بتائی تو انہوں (اہلِ خیبر) نے کہا: اے ابن رواحہ! آپ نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں اپنے تخمینے پر قائم ہوں، اور تمہیں یہ اختیار دیتا ہوں کہ جو مقدار میں نے بتائی ہے اسی کے مطابق (اپنا حصہ) لے لو۔ انہوں نے کہا: یہ حق بات ہے، اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم اسی پر راضی ہیں جو آپ نے کہا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ، وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: «فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَحْزُرُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَوْ يَدْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَيُفَرَّقَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کا معاملہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کی طرف بھیجا کرتے تھے، وہ کھجوریں پکنے کے وقت، کھائے جانے سے پہلے، ان کا تخمینہ لگاتے، پھر یہود کو اختیار دیا جاتا کہ وہ اسی تخمینے پر (پھل) خود لے لیں یا اسی تخمینے پر (نصف حصہ مسلمانوں کے) حوالے کر دیں۔ نبی کریم ﷺ نے تخمینہ لگانے کا حکم اس لیے دیا تھا تاکہ پھل کھائے اور تقسیم ہونے سے پہلے زکوٰۃ کا حساب ہو سکے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنُّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا التَّمْرَ، وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا تخمینہ چالیس ہزار وسق لگایا، اور ان کا کہنا ہے کہ جب ابن رواحہ نے یہود کو اختیار دیا تو انہوں نے کھجوریں (خود) لے لیں اور ان پر (مسلمانوں کے حصے کے) بیس ہزار وسق (دینا) لازم ہوا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِسْطَاسَ، عَنْ جُبَيْرٍ، قَالَ: " فَتَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ جَمْعًا لَهُ حَرْثُهَا وَنَخْلُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ رَقِيقٌ، فَصَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ عَلَى أَنَّهُمْ يَكْفُونَا الْعَمَلَ، وَلَكُمْ شَطْرُ التَّمْرِ، عَلَى أَنِّي أُقِرُّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَذَلِكَ حِينَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ رَوَاحَةَ يَخْرِصُ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا خَيَّرَهُمْ أَخَذَتْ يَهُودُ التَّمْرَ، فَلَمْ يَزَلْ خَيْبَرُ بِيَدِ الْيَهُودِ عَلَى صُلْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَأَخْرَجَهُمْ، فَقَالَتْ يَهُودُ: أَلَمْ يُصَالِحْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَلَى كَذَا وَكَذَا؟، قَالَ: بَلَى، عَلَى أَنَّهُ يُقِرُّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهَذَا حِينَ بَدَا لِي أَنْ أُخْرِجَكُمْ، فَأَخْرَجَهُمْ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِي افْتَتَحُوهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعْطِ مِنْهَا أَحَدًا لَمْ يَحْضُرِ افْتِتَاحَهَا، قَالَ: فَأهْلُهَا الْآنَ الْمُسْلِمُونَ لَيْسَ فِيهَا يَهُودُ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتَفَرَّقَ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ "
ترجمہ
جبیر بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اسے (خیبر کو) فتح کیا، اور یہ (زمین) آپ ہی کی جمع کردہ تھی، اس کی کھیتی اور کھجوریں (بھی)، اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس (وہاں کے لیے) کوئی غلام نہ تھے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے یہود سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کام کی ذمہ داری اٹھائیں گے اور کھجور کا نصف حصہ ان کا ہوگا، اس شرط پر کہ میں تمہیں اس وقت تک رہنے دوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کو مناسب معلوم ہو۔ اسی موقع پر نبی کریم ﷺ نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ ان پر تخمینہ لگائیں، جب انہوں نے یہود کو اختیار دیا تو یہود نے کھجوریں (خود) لے لیں۔ خیبر ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی اسی صلح پر یہود کے پاس رہا یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے انہیں نکال دیا۔ یہود نے کہا: کیا نبی کریم ﷺ نے ہم سے فلاں فلاں شرط پر صلح نہیں کی تھی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں، اس شرط پر کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کو مناسب معلوم ہو تمہیں رہنے دیا جائے گا، سو اب مجھے مناسب معلوم ہوا ہے کہ تمہیں نکال دوں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں نکال دیا، پھر اسے ان مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اسے فتح کیا تھا، اور جو اس کی فتح کے وقت موجود نہ تھا اسے کچھ نہ دیا۔ (راوی کہتے ہیں:) اب اس کے مالک مسلمان ہیں، اس میں کوئی یہودی نہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے تخمینہ لگانے کا حکم اسی لیے دیا تھا تاکہ پھل کھائے اور تقسیم ہونے سے پہلے زکوٰۃ کا حساب ہو سکے، اور وہ اسی پر عمل کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنَ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَنَا نِصْفَ الثَّمَرِ، وَلَكُمْ نِصْفَهُ، وَتَكْفُونَا الْعَمَلَ حَتَّى إِذَا طَابَ ثَمَرُهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ ثَمَرَنَا قَدْ طَابَ فَابْعَثْ خَارِصًا يَخْرُصُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا طَافَ فِي نَخْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، قَالَ: وَاللهِ مَا أَعْلَمُ مِنْ خَلْقِ اللهِ أَحَدًا أَعْظَمَ فِرْيَةً عَلَى اللهِ وَأَعْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، وَاللهِ مَا خَلَقَ اللهُ أَحَدًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكُمْ، وَاللهِ مَا يَحْمِلُنِي ذَلِكَ أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْرَ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ وَأَنَا أَعْلَمُهَا، قَالَ: ثُمَّ خَرَصَهَا جَمِيعًا الَّذِي لَهُمْ، وَالَّذِي لِيَهُودَ ثَمَانِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، فَقَالَ الْيَهُودُ: خَيَّرْتَنَا، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: إِنْ شِئْتُمْ، فَأَعْطُونَا أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَتَخْرُجُونَ عَنَّا، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَبِهَذَا يَغْلِبُونَكُمْ
ترجمہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ نبی کریم ﷺ کی یہود خیبر سے اس صلح کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لیے آدھا پھل اور تمہارے لیے آدھا، اور تم کام کی ذمہ داری اٹھاؤ گے، یہاں تک کہ جب ان کا پھل پک گیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارا پھل پک چکا ہے، آپ کوئی تخمینہ لگانے والا بھیج دیں جو ہمارے اور آپ کے درمیان تخمینہ لگائے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ جب انہوں نے ان کی کھجوروں میں گھوم کر دیکھا تو فرمایا: اللہ کی قسم! میں اللہ کی مخلوق میں تم سے بڑھ کر اللہ پر جھوٹ باندھنے والا اور رسول اللہ ﷺ کا دشمن کسی کو نہیں جانتا، اللہ کی قسم! اللہ نے تم سے زیادہ مجھے ناپسندیدہ کوئی مخلوق پیدا نہیں کی، (لیکن) اللہ کی قسم! یہ بات مجھے ہرگز اس پر آمادہ نہیں کرے گی کہ میں تم پر ذرہ برابر بھی زیادتی کروں جبکہ مجھے اس کا علم ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے مجموعی طور پر (پیداوار کا) تخمینہ لگایا، جو یہود کا حصہ تھا وہ اسّی ہزار وسق تھا۔ یہود نے کہا: آپ نے ہمیں اختیار دیا ہے (کہ اپنا حصہ لے لیں یا حوالے کر دیں)؟ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو ہمیں چالیس ہزار وسق دے دو اور (اپنا حصہ لے کر) ہم سے الگ ہو جاؤ۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر بولے: اسی (انصاف) سے آسمان و زمین قائم ہیں، اور اسی سے تم ان (مسلمانوں) پر غالب آؤ گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بَعَثَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ وَجَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلًا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ، فَلَا أَرَبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ، فَخَرَصَ النَّخْلَ فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُ عَلَيْهِ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا، وَتَعْمَلُونَ بِهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ، وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَمْ يَشْرَكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ "
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کیا تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کے ساتھ (پیداوار) تقسیم کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ ان کے لیے کھانے کے تحفے بھیجنے لگے، انہوں نے ان سے کچھ لینا پسند نہ کیا اور فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کرنے کے لیے بھیجا ہے، مجھے تمہارے تحفے کی کوئی خواہش نہیں۔ چنانچہ انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا، جب تخمینہ مکمل کر لیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا اور فرمایا: اگر چاہو تو میں تمہارا حصہ ضامن بن کر تمہیں دلا دوں اور خود اس (پیداوار) کی نگرانی کروں، اور اگر چاہو تو تم ہمارا حصہ ضامن بن کر ہمیں دلا دو اور خود اس کی نگرانی کرو۔ انہوں نے یہی پسند کیا کہ وہ ضامن بنیں اور خود نگرانی کریں، اور کہا: اے ابن رواحہ! یہ جو تم ہمیں پیش کرتے ہو اور جس (انصاف) پر عمل کرتے ہو، اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں، اور وہ دونوں صرف حق ہی سے قائم رہتے ہیں۔ اور خیبر ان لوگوں کے لیے مخصوص تھا جو حدیبیہ میں حاضر تھے، اس میں ان کے ساتھ کوئی اور شریک نہ ہوا، اور ان میں سے کوئی اس سے پیچھے نہ رہا، اور ان کے سوا کوئی اور اس میں حاضر نہ ہوا، اور رسول اللہ ﷺ نے کسی ایسے شخص کو خیبر میں شرکت کی اجازت نہ دی جو حدیبیہ کی طرف روانگی سے پیچھے رہ گیا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي فَتْحِ خَيْبَرَ، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، وَيُكَلِّمُونَهُ، وَجَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَتَخَفَّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ إِنَّكُمْ وَاللهِ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلًا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، فَلَا أَرَبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ، وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ، وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبِنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ، بِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ
ترجمہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فتحِ خیبر کے بیان میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کے ساتھ پھل تقسیم کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ ان کے لیے کھانے کے تحفے بھیجنے لگے اور ان سے (نرمی سے) بات کرنے لگے، اور اپنی عورتوں کے زیورات میں سے کچھ زیورات جمع کر کے ان کے سامنے رکھے اور کہا: یہ آپ کے لیے ہے، ہم پر نرمی کریں اور درگزر فرمائیں۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے یہود کی جماعت! اللہ کی قسم تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ ناپسند ہو، مجھے رسول اللہ ﷺ نے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کرنے کے لیے بھیجا ہے، مجھے تمہاری دنیا کی کوئی خواہش نہیں، اور میں تم پر ہرگز زیادتی نہیں کروں گا، اور تم نے جو مجھے پیش کیا ہے وہ حرام رشوت ہے، اور ہم اسے نہیں کھاتے۔ چنانچہ انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا، جب تخمینہ مکمل کر لیا تو انہیں اختیار دیا اور فرمایا: اگر چاہو تو میں تمہارا حصہ ضامن بن کر دلا دوں، اور اگر چاہو تو تم ہمارا حصہ ضامن بن کر ہمیں دلا دو اور خود نگرانی کرو۔ انہوں نے یہی پسند کیا کہ وہ ضامن بنیں اور خود نگرانی کریں، اور کہا: اے ابن رواحہ! یہ جو تم عمل کرتے ہو، اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں، اور وہ دونوں صرف حق ہی سے قائم رہتے ہیں۔
ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ، خَرَصَهُمْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَنِي عَنِ ابْنِ رَوَاحَةَ: أَنَّهُ خَرَصَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: إِنْ شِئْتُمْ فَلَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ
ترجمہ
ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا یہ تخمینہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں لگایا گیا تھا؟ تو انہوں نے مجھے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور یہود کے درمیان تخمینہ لگایا، اور کہا: اگر چاہو تو یہ ہمارا ہوگا، اور اگر چاہو تو تمہارا۔ انہوں (یہود) نے کہا: اسی (انصاف) سے آسمان و زمین قائم ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " لَمَّا أَتَاهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ جَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَأَهْدَوْهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ إِنَّكُمْ لَأَبْغَضُ خَلْقِ اللهِ إِلَيَّ وَمَا ذَلِكَ بِحَامِلِي أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، أَمَّا مَا عَرَضْتُمْ عَلَيْنَا مِنْ هَذِهِ الرِّشْوَةِ، فَإِنَّهَا سُحْتٌ وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهَا، ثُمَّ خَرَصَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا أَوْ يَأْخُذَهَا هُوَ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، فَأَخَذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ "
ترجمہ
زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب ابن رواحہ رضی اللہ عنہ ان (یہود) کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی عورتوں کے زیورات میں سے کچھ زیورات جمع کر کے انہیں تحفے میں پیش کیے، انہوں نے فرمایا: اے یہود کی جماعت! تم مجھے اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسند ہو، اور یہ بات مجھے تم پر زیادتی کرنے پر آمادہ نہیں کرے گی، رہی یہ جو تم نے ہمیں رشوت پیش کی ہے، تو یہ حرام ہے اور ہم اسے نہیں کھاتے۔ پھر انہوں نے ان پر تخمینہ لگایا، پھر انہیں اختیار دیا کہ وہ خود لے لیں یا وہ (ابن رواحہ) خود لے لیں۔ انہوں نے کہا: اسی (انصاف) سے آسمان و زمین قائم ہیں، چنانچہ انہوں نے اسی تخمینے پر (پھل) لے لیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَّالًا يَعْمَلُونَ بِهَا عَلَى نَخْلِ خَيْبَرَ وَزَرْعِهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ خَيْبَرَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا عَلَى النِّصْفِ، فَيُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُقِرُّكُمْ فِيهَا مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ» ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَوْ يَدْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ
ترجمہ
… (نبی کریم ﷺ نے) خیبر انہیں اس شرط پر دیا کہ وہ اس پر آدھے حصے پر کام کریں گے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے حصے کی ادائیگی کریں گے، اور نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمہیں اس میں اس وقت تک رہنے دوں گا جب تک اللہ تمہیں رہنے دے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے، وہ کھجوریں پکنے کے آغاز میں، کھائے جانے سے پہلے، ان کا تخمینہ لگاتے، پھر یہود کو اختیار دیتے کہ وہ اسی تخمینے پر (پھل) خود لے لیں یا اسی تخمینے پر ان (مسلمانوں) کے حوالے کر دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى مُؤْتَةَ فِي جُمَادَى الْأُولَى مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى النَّاسِ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ عَلَى النَّاسِ» . فَتَجَهَّزَ النَّاسُ، ثُمَّ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ وَهُمْ ثَلَاثَةُ آلَافٍ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجَهُمْ وَدَّعَ النَّاسُ أُمَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا وَدَّعَ عَبْدُ اللهِ مَعَ مَنْ وَدَّعَ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ؟، قَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا بِي حُبُّ الدُّنْيَا وَصَبَابَةٌ بِكُمْ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ يَذْكُرُ فِيهَا النَّارَ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} [مريم: ٧١] ، فَلَسْتُ أَدْرِي كَيْفَ بِالصَّدْرِ بَعْدَ الْوُرُودِ؟، فَقَالَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ: صَحِبَكُمُ اللهُ وَدَفَعَ عَنْكُمْ فَرَدَّكُمْ إِلَيْنَا صَالِحَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
[البحر البسيط]
لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً ... وَضَرْبَةً ذَاتَ فَرْغٍ تَقْذِفُ الزَّبَدَا
أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ خَرَّانَ مُجْهِزَةً ... بِحَرْبَةٍ تُنْفِذُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا
حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَثِي ... أَرْشَدَكَ اللهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشَدَا
ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُهُ، فَقَالَ:
فثَبَّتَ اللهُ مَا آتَاكُمْ مِنْ حَسَنٍ ... تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا
إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ نَافِلَةً ... فِرَاسَةً خَالَفْتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا
أَنْتَ الرَّسُولُ فَمَنْ يُحْرَمْ نَوَافِلَهُ ... وَالْوَجْهَ مِنْهُ فَقَدْ أَزْرَى بِهِ الْقَدَرُ
ثُمَّ خَرَجَ الْقَوْمُ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَيِّعُهُمْ حَتَّى إِذَا وَدَّعَهُمْ وَانْصَرَفَ عَنْهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
[البحر الكامل]
خَلَفَ السَّلَامُ عَلَى امْرِئٍ وَدَّعْتُهُ ... فِي النَّخْلِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَكَلِيلِ
ثُمَّ مَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِمَعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، فَبَلَغَ النَّاسُ أَنَّ هِرَقْلَ قَدْ نَزَلَ مَاءً مِنْ أَرْضِ الْبَلْقَاءِ فِي مئةِ أَلْفٍ مِنَ الرُّومِ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ الْمُسْتَعْرِبَةُ مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَبِلْقَيْنَ، وَبَهْرَامَ، وَبَلِيٍ فِي مئةِ أَلْفٍ مِنْهُمْ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ بَلِيٍّ أَحَدُ إِرَاشَةٍ، يُقَالُ لَهُ: مَالِكُ بْنُ زَافِلَةَ، فلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ أَقَامُوا بِمَعَانَ لَيْلَتَيْنِ يَنْظُرُونَ فِي أَمْرِهِمْ، وَقَالُوا: نَكْتُبُ إِلَى رَسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرُهُ بِعَدَدِ عَدُوِّنَا، فَإِمَّا أَنْ يُمِدَّنَا بِرِجَالٍ وَإِمَّا أَنْ يَأْمُرَنَا بِأَمْرِهِ فَنَمْضِي لَهُ، فَشَجَّعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ النَّاسَ، وَقَالَ: يَا قَوْمُ وَاللهِ إِنَّ الَّذِي تَكْرَهُونَ لَلَّذِي خَرَجْتُمْ لَهُ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةَ، وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ، وَلَا قُوَّةٍ، وَلَا كَثْرَةٍ، إِنَّمَا نُقَاتِلُهُمْ بِهَذَا الدِّينَ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللهُ بِهِ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إِمَّا ظُهُورٌ، وَإِمَّا شَهَادَةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ:
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ يَتِيمًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ فِي حِجْرِهِ فِي سَفْرَتِهِ تِلْكَ مُرْدِفِي عَلَى حَقِيبَةِ رَاحِلَتِهِ فَوَاللهِ إِنَّا لَنَسِيرُ لَيْلَةً إِذْ سَمِعْتُهُ يَتَمَثَّلُ بِبَيْتِهِ هَذَا:
[البحر الوافر]
إِذَا أَدَّيْتَنِي وَحَمَلْتَ رَحْلِي ... مَسِيرَةَ أَرْبَعٍ بَعْدَ الْحِسَاءِ
فَلَمَّا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَكَيْتُ، فَخَفَقَنِي بِالدِّرَّةِ، وَقَالَ: مَا عَلَيْكَ يَا لُكَعُ إِنْ يَرْزُقَنِي اللهُ الشَّهَادَةَ وَتَرْجِعُ بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّحْلِ، ثُمَّ مَضَى النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِتُخُومِ الْبَلْقَاءِ، لَقِيَتْهُمْ جُمُوعُ هِرَقْلَ مِنَ الرُّومِ، وَالْعَرَبِ بِقَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ، يُقَالُ لَهَا مَشَارِفُ، ثُمَّ دَنَا الْمُشْرِكُونَ، وَانْحَازَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى قَرْيَةٍ، يُقَالُ لَهَا مُؤْتَةُ، فَالْتَقَى النَّاسُ عِنْدَهَا وَتَعَبَّأَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا عَلَى مَيْمَنَتِهِمْ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، يُقَالُ لَهُ قُطْبَةُ بْنُ قَتَادَةَ، وَعَلَى مَيْسَرَتِهِمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ عَبَايَةُ بْنُ مَالِكٍ، ثُمَّ الْتَقَى النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا، فَقَاتَلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِرَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى شَاطَ فِي رماحِ الْقَوْمِ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَلْحَمَهُ الْقِتَالُ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، وَكَانَ جَعْفَرٌ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَقَرَ فِي الْإِسْلَامِ "
[البحر البسيط]
لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً ... وَضَرْبَةً ذَاتَ فَرْغٍ تَقْذِفُ الزَّبَدَا
أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ خَرَّانَ مُجْهِزَةً ... بِحَرْبَةٍ تُنْفِذُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا
حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَثِي ... أَرْشَدَكَ اللهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشَدَا
ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُهُ، فَقَالَ:
فثَبَّتَ اللهُ مَا آتَاكُمْ مِنْ حَسَنٍ ... تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا
إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ نَافِلَةً ... فِرَاسَةً خَالَفْتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا
أَنْتَ الرَّسُولُ فَمَنْ يُحْرَمْ نَوَافِلَهُ ... وَالْوَجْهَ مِنْهُ فَقَدْ أَزْرَى بِهِ الْقَدَرُ
ثُمَّ خَرَجَ الْقَوْمُ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَيِّعُهُمْ حَتَّى إِذَا وَدَّعَهُمْ وَانْصَرَفَ عَنْهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
[البحر الكامل]
خَلَفَ السَّلَامُ عَلَى امْرِئٍ وَدَّعْتُهُ ... فِي النَّخْلِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَكَلِيلِ
ثُمَّ مَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِمَعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، فَبَلَغَ النَّاسُ أَنَّ هِرَقْلَ قَدْ نَزَلَ مَاءً مِنْ أَرْضِ الْبَلْقَاءِ فِي مئةِ أَلْفٍ مِنَ الرُّومِ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ الْمُسْتَعْرِبَةُ مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَبِلْقَيْنَ، وَبَهْرَامَ، وَبَلِيٍ فِي مئةِ أَلْفٍ مِنْهُمْ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ بَلِيٍّ أَحَدُ إِرَاشَةٍ، يُقَالُ لَهُ: مَالِكُ بْنُ زَافِلَةَ، فلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ أَقَامُوا بِمَعَانَ لَيْلَتَيْنِ يَنْظُرُونَ فِي أَمْرِهِمْ، وَقَالُوا: نَكْتُبُ إِلَى رَسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرُهُ بِعَدَدِ عَدُوِّنَا، فَإِمَّا أَنْ يُمِدَّنَا بِرِجَالٍ وَإِمَّا أَنْ يَأْمُرَنَا بِأَمْرِهِ فَنَمْضِي لَهُ، فَشَجَّعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ النَّاسَ، وَقَالَ: يَا قَوْمُ وَاللهِ إِنَّ الَّذِي تَكْرَهُونَ لَلَّذِي خَرَجْتُمْ لَهُ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةَ، وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ، وَلَا قُوَّةٍ، وَلَا كَثْرَةٍ، إِنَّمَا نُقَاتِلُهُمْ بِهَذَا الدِّينَ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللهُ بِهِ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إِمَّا ظُهُورٌ، وَإِمَّا شَهَادَةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ:
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ يَتِيمًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ فِي حِجْرِهِ فِي سَفْرَتِهِ تِلْكَ مُرْدِفِي عَلَى حَقِيبَةِ رَاحِلَتِهِ فَوَاللهِ إِنَّا لَنَسِيرُ لَيْلَةً إِذْ سَمِعْتُهُ يَتَمَثَّلُ بِبَيْتِهِ هَذَا:
[البحر الوافر]
إِذَا أَدَّيْتَنِي وَحَمَلْتَ رَحْلِي ... مَسِيرَةَ أَرْبَعٍ بَعْدَ الْحِسَاءِ
فَلَمَّا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَكَيْتُ، فَخَفَقَنِي بِالدِّرَّةِ، وَقَالَ: مَا عَلَيْكَ يَا لُكَعُ إِنْ يَرْزُقَنِي اللهُ الشَّهَادَةَ وَتَرْجِعُ بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّحْلِ، ثُمَّ مَضَى النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِتُخُومِ الْبَلْقَاءِ، لَقِيَتْهُمْ جُمُوعُ هِرَقْلَ مِنَ الرُّومِ، وَالْعَرَبِ بِقَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ، يُقَالُ لَهَا مَشَارِفُ، ثُمَّ دَنَا الْمُشْرِكُونَ، وَانْحَازَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى قَرْيَةٍ، يُقَالُ لَهَا مُؤْتَةُ، فَالْتَقَى النَّاسُ عِنْدَهَا وَتَعَبَّأَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا عَلَى مَيْمَنَتِهِمْ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، يُقَالُ لَهُ قُطْبَةُ بْنُ قَتَادَةَ، وَعَلَى مَيْسَرَتِهِمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ عَبَايَةُ بْنُ مَالِكٍ، ثُمَّ الْتَقَى النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا، فَقَاتَلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِرَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى شَاطَ فِي رماحِ الْقَوْمِ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَلْحَمَهُ الْقِتَالُ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، وَكَانَ جَعْفَرٌ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَقَرَ فِي الْإِسْلَامِ "
ترجمہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سنہ آٹھ ہجری کے جمادی الاول میں مؤتہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، اور فرمایا: ”اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب لوگوں پر امیر ہوں گے، اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ لوگوں پر امیر ہوں گے۔“ چنانچہ لوگوں نے تیاری کی اور روانگی کے لیے تیار ہو گئے، وہ تین ہزار افراد تھے۔ جب روانگی کا وقت آیا تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ امراء کو رخصت کیا اور انہیں سلام کیا۔ جب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دوسروں کے ساتھ رخصتی کی تو رو پڑے۔ ان سے کہا گیا: اے ابن رواحہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے دنیا کی محبت اور تم سے جدائی کا غم نہیں رلا رہا، بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی کتاب کی ایک آیت پڑھتے سنا تھا جس میں جہنم کا ذکر تھا: ”اور تم میں سے ہر ایک کو ضرور اس (جہنم) پر سے گزرنا ہے، یہ تیرے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورۃ مریم: 71]۔ سو مجھے معلوم نہیں کہ اس پر گزرنے کے بعد (میرے) سینے کا کیا حال ہوگا۔ مسلمانوں نے ان سے کہا: اللہ تمہارا ساتھی ہو اور تمہاری حفاظت فرمائے اور تمہیں ہمارے پاس صحیح سلامت واپس لائے۔ اس پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے (یہ اشعار) کہے: ”لیکن میں رحمٰن سے بخشش مانگتا ہوں، اور ایسی ضرب مانگتا ہوں جس سے (خون کا) جھاگ نکل پڑے، یا کسی نیزہ بردار کے ہاتھوں ایسا کاری وار مانگتا ہوں جو پیٹ اور جگر کو چیر ڈالے، تاکہ جب لوگ میری قبر کے پاس سے گزریں تو کہیں: اللہ نے تجھے ہدایت دی، تو ایک ایسا غازی تھا جسے ہدایت مل گئی۔“ پھر جب لوگ روانگی کے لیے تیار ہو گئے تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رخصت ہونے آئے تو عرض کیا: ”اللہ تمہیں جو بھلائی عطا کرے اسے ثابت رکھے، جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ثابت رکھا اور جیسی مدد انہیں دی گئی ویسی ہی مدد تمہیں دے۔ میں نے تم میں اضافی طور پر بھلائی کا فراست بھرا اندازہ لگایا، ایسا اندازہ جس میں، میں نے ان (لوگوں) سے مختلف رائے قائم کی جو انہوں نے دیکھا۔ تم اللہ کے رسول ہو، تو جو تمہاری عطاؤں اور تمہارے چہرے (کی برکت) سے محروم رہ جائے تو تقدیر نے اسے ذلیل کر دیا۔“ پھر لوگ روانہ ہو گئے، اور رسول اللہ ﷺ انہیں الوداع کرنے کے لیے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب آپ نے انہیں رخصت کیا اور واپس پلٹے تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سلام ہو اس شخص پر جسے میں نے کھجوروں میں الوداع کیا، نہ وہ بےوداع رہا اور نہ تھکا ہوا۔“ پھر وہ چلتے رہے یہاں تک کہ شام کی سرزمین میں معان کے مقام پر اترے۔ لوگوں کو خبر ملی کہ ہرقل بلقاء کی سرزمین کے ایک چشمے پر ایک لاکھ رومیوں کے ساتھ اترا ہے، اور اس کے پاس لخم، جذام، بلقین، بہراء اور بلی قبیلوں کے عرب النسل عیسائی بھی ایک لاکھ کی تعداد میں جمع ہو چکے ہیں، جن پر قبیلہ بلی کے ارأشہ خاندان کا ایک شخص، مالک بن زافلہ نامی، امیر تھا۔ جب یہ خبر مسلمانوں کو پہنچی تو وہ معان میں دو راتیں ٹھہر کر اپنے معاملے پر غور کرنے لگے، اور کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کو خط لکھ کر دشمن کی تعداد سے آگاہ کرتے ہیں، یا تو آپ ہمیں مزید فوج بھیجیں گے، یا ہمیں اپنا حکم دیں گے اور ہم اس پر عمل کریں گے۔ اس پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حوصلہ دیا اور فرمایا: اے قوم! اللہ کی قسم، جس چیز کو تم ناپسند کر رہے ہو وہی وہ چیز ہے جس کے لیے تم نکلے تھے، یعنی شہادت کی طلب، اور ہم لوگوں سے تعداد، طاقت یا کثرت کی بنا پر نہیں لڑتے، بلکہ ہم انہی سے اسی دین کی بنا پر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہمیں عزت بخشی ہے۔ سو چلو، کیونکہ یہ تو دو بھلائیوں میں سے ایک ہے: یا تو غلبہ ہوگا یا شہادت۔ اس موقع پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے (مزید اشعار) کہے۔ (پھر راوی زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ) وہ کہتے ہیں: میں اس سفر میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں ایک یتیم تھا، وہ مجھے اپنی سواری کے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ اللہ کی قسم، ہم ایک رات چل رہے تھے کہ میں نے انہیں یہ شعر پڑھتے سنا: ”جب تو مجھے (میری منزل تک) پہنچا دے اور میرا سامان لاد کر حساء کے بعد چار دن کی مسافت طے کرا دے (تو پھر میری بلا سے)۔“ جب میں نے یہ ان سے سنا تو رو پڑا، تو انہوں نے مجھے کوڑے سے مارا اور فرمایا: تجھے کیا ہوا اے نادان! اگر اللہ مجھے شہادت عطا فرما دے اور تو سواری کے دونوں پہلوؤں کے درمیان (زندہ سلامت) واپس چلا جائے (تو اس میں تیرا کیا نقصان ہے)؟ پھر لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ جب وہ بلقاء کی سرحد پر پہنچے تو ہرقل کے رومی اور عرب لشکر بلقاء کی ایک بستی میں، جسے مشارف کہا جاتا تھا، ان سے آ ملے۔ پھر مشرکین قریب آئے اور مسلمان مؤتہ نامی ایک بستی کی طرف پیچھے ہٹ گئے، وہیں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور مسلمانوں نے صف بندی کی، انہوں نے اپنے دائیں بازو پر بنو عذرہ کے ایک شخص، قطبہ بن قتادہ کو، اور اپنے بائیں بازو پر انصار میں سے ایک شخص، عبایہ بن مالک کو مقرر کیا۔ پھر دونوں فوجیں آپس میں جا ملیں اور لڑائی ہوئی۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا لے کر لڑتے رہے یہاں تک کہ دشمن کے نیزوں میں گھِر کر شہید ہو گئے۔ پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور لڑتے رہے، یہاں تک کہ جب لڑائی نے انہیں گھیر لیا تو وہ اپنے سرخی مائل گھوڑے سے کود پڑے اور اسے (تاکہ دشمن کے کام نہ آئے) کاٹ ڈالا، پھر لوگوں سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، اور جعفر رضی اللہ عنہ اسلام میں سب سے پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے (اپنے گھوڑے کی) کونچیں کاٹیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي، وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، قَالَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ، ثُمَّ عَقَرَهَا، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمَّا قُتِلَ جَعْفَرٌ أَخَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ الرَّايَةَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بِهَا، وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، فَجَعَلَ يَسْتَنْزِلُ نَفْسَهُ، وَيَتَرَدَّدُ بَعْضَ التَّرَدُّدِ، ثُمَّ قَالَ:
[البحر الرجز]
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ ... لَتَنْزِلِنَّ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ
مَالِي أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهُ ... إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّهُ
لَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهُ ... هَلْ أَنْتِ إِلَّا نُطْفَةٌ فِي شَنَّهُ
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
يَا نَفْسُ إِنْ لَمْ تُقْتَلِي تَمُوتِي ... هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلَيْتِ
وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ أُعْطِيتِ ... إِنْ تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيتِ
يَعْنِي: صَاحِبَيْهِ زَيْدًا وَجَعْفَرًا، ثُمَّ نَزَلَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَتَاهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ بِعَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ، فَقَالَ: اشْدُدْ بِهَذَا صُلْبَكَ، فَإِنَّكَ قَدْ لَقِيتَ أَيَّامَكَ هَذِهِ مَا قَدْ لَقِيتَ، فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِهِ فَانْتَهَسَ مِنْهُ نَهْسَةً، ثُمَّ سَمِعَ الْحَطْمَةَ فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ، فَقَالَ: وَأَنْتَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ أَخَذَ سَيْفَهُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ أَحَدُ بَلْعَجْلَانَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ، قَالُوا: أَنْتَ، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَلَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ دَافَعَ الْقَوْمَ ثُمَّ انْحَازَ حَتَّى انْصَرَفَ بِالنَّاسِ، وَلَمَّا أُصِيبُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا» ، ثُمَّ صَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْأَنْصَارِ وَظَنُّوا أَنَّهُ كَانَ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ بَعْضُ مَا يَكْرَهُونَ، قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا» ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ رُفِعُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ عَلَى سُرَرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَأَيْتُ فِي سَرِيرِ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ ازْوِرَارًا عَنْ سَرِيرِ صَاحِبَيْهِ، فَقُلْتُ: بِمَ هَذَا، فَقِيلَ لِي: مَضَيَا، وَتَرَدَّدَ عَبْدُ اللهِ بَعْضَ التَّرَدُّدِ وَمَضَى "
[البحر الرجز]
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ ... لَتَنْزِلِنَّ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ
مَالِي أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهُ ... إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّهُ
لَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهُ ... هَلْ أَنْتِ إِلَّا نُطْفَةٌ فِي شَنَّهُ
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
يَا نَفْسُ إِنْ لَمْ تُقْتَلِي تَمُوتِي ... هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلَيْتِ
وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ أُعْطِيتِ ... إِنْ تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيتِ
يَعْنِي: صَاحِبَيْهِ زَيْدًا وَجَعْفَرًا، ثُمَّ نَزَلَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَتَاهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ بِعَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ، فَقَالَ: اشْدُدْ بِهَذَا صُلْبَكَ، فَإِنَّكَ قَدْ لَقِيتَ أَيَّامَكَ هَذِهِ مَا قَدْ لَقِيتَ، فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِهِ فَانْتَهَسَ مِنْهُ نَهْسَةً، ثُمَّ سَمِعَ الْحَطْمَةَ فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ، فَقَالَ: وَأَنْتَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ أَخَذَ سَيْفَهُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ أَحَدُ بَلْعَجْلَانَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ، قَالُوا: أَنْتَ، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَلَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ دَافَعَ الْقَوْمَ ثُمَّ انْحَازَ حَتَّى انْصَرَفَ بِالنَّاسِ، وَلَمَّا أُصِيبُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا» ، ثُمَّ صَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْأَنْصَارِ وَظَنُّوا أَنَّهُ كَانَ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ بَعْضُ مَا يَكْرَهُونَ، قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا» ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ رُفِعُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ عَلَى سُرَرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَأَيْتُ فِي سَرِيرِ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ ازْوِرَارًا عَنْ سَرِيرِ صَاحِبَيْهِ، فَقُلْتُ: بِمَ هَذَا، فَقِيلَ لِي: مَضَيَا، وَتَرَدَّدَ عَبْدُ اللهِ بَعْضَ التَّرَدُّدِ وَمَضَى "
ترجمہ
… پھر لوگ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (کو امیر بنانے) پر متفق ہو گئے، جب انہوں نے جھنڈا سنبھالا تو دشمن کو روکے رکھا، پھر پیچھے ہٹ کر لوگوں کو لے کر واپس آ گئے۔ اور جب یہ لوگ (شہید) ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زید بن حارثہ نے جھنڈا سنبھالا اور اس کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر جعفر نے اسے سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔“ پھر نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ انصار کے چہرے متغیر ہو گئے اور انہیں یہ خیال ہوا کہ شاید آپ ﷺ کے دل میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی ناپسندیدہ بات ہے۔ (پھر) آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے سنبھالا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔“ پھر فرمایا: ”مجھے خواب میں جنت میں یہ تینوں سونے کے تختوں پر دکھائے گئے، میں نے عبداللہ بن رواحہ کے تخت کو ان کے دونوں ساتھیوں کے تختوں سے ذرا ہٹا ہوا دیکھا، میں نے پوچھا: یہ کیوں ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ وہ دونوں (سیدھے) آگے بڑھ گئے، اور عبداللہ کچھ دیر ہچکچائے پھر آگے بڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: «ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَإِنَّ أَمِيرَهُمْ جَعْفَرٌ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَمِيرُهُمْ، فَخَرَجُوا قِبَلَ الشَّامِ نَحْوَ مُؤْتَةَ فَأُصِيبَ أُمَرَاؤُهُمُ الَّذِينَ أَمَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّايَةَ فَاصْطَلَحَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ فَهَزَمَ اللهُ الْعَدُوَّ»
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، (اور فرمایا) اگر زید شہید ہو جائیں تو ان کے امیر جعفر ہوں گے، اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری ان کے امیر ہوں گے۔ چنانچہ وہ شام کی طرف مؤتہ کی جانب روانہ ہوئے، پھر رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ امراء شہید ہو گئے، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا، مسلمان ان پر متفق ہو گئے، چنانچہ اللہ نے دشمن کو شکست دی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُثِّلُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى سَرِيرٍ» فَرَأَيْتُ زَيْدًا وَابنَ رَوَاحَةَ أَعْنَاقُهُمَا صُدُودًا وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَهُوَ مُسْتَقِيمٌ لَيْسَ فِيهِ صُدُودٌ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أَوْ قَالَ قِيلَ لِي: إِنَّهُمَا حِينَ غَشِيَهُمَا الْمَوْتُ كَأَنَّمَا أَعْرَضَا أَوْ كَأَنَّمَا صَدَّا بِوُجُوهِهِمَا، وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ ابْنُ رَوَاحَةَ:
[البحر الرجز]
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ ... بِطَاعَةٍ مِنْكِ لَتُكْرَهِنَّهْ
فَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهُ
قَالَ جَعْفَرٌ: مَا أَطْيَبَ رِيحَ الْجَنَّةِ
[البحر الرجز]
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ ... بِطَاعَةٍ مِنْكِ لَتُكْرَهِنَّهْ
فَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهُ
قَالَ جَعْفَرٌ: مَا أَطْيَبَ رِيحَ الْجَنَّةِ
ترجمہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ تینوں جنت میں ایک موتی کے خیمے میں دکھائے گئے، ہر ایک تخت پر (بیٹھا) تھا۔“ میں نے زید اور ابن رواحہ کی گردنیں (تخت سے) ہٹی ہوئی دیکھیں، جبکہ جعفر بالکل سیدھے تھے، ان میں کوئی جھکاؤ نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: (نبی کریم ﷺ نے) پوچھا، یا کہا: مجھے بتایا گیا کہ ان دونوں کو جب موت نے آ گھیرا تو گویا انہوں نے (پہلے لمحے) اپنے چہرے موڑ لیے تھے، جبکہ جعفر نے ایسا نہیں کیا۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہی وہ موقع ہے جہاں ابن رواحہ نے کہا تھا: ”اے نفس! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ضرور (میدان میں) اترے گا، خواہ ناپسندیدگی کے ساتھ ہی اطاعت کیوں نہ کرے، تو بہت عرصے سے مطمئن بیٹھا رہا ہے۔“ اور جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: جنت کی خوشبو کیا ہی خوب ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ فَجَعْفَرُ بنُ أَبِي طَالِبٍ أَمِيرُهُمْ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ أَمِيرُهُمْ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا ابْنَ أَبِي سَبْرَةَ الْغَسَّانِيَّ بِمُؤْتَةَ، وَبِهَا جُمُوعٌ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ، وَالرُّومِ، وَبِهَا تَنُوخُ، وَبَهْرَامُ، فَأَغْلَقَ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ دُونَ الْمُسْلِمِينَ الْحِصْنَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ خَرَجُوا فَالْتَقَوْا عَلَى زَرْعٍ أَخْضَرَ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهُ جَعْفَرٌ فَقُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهُ ابْنُ رَوَاحَةَ فَقُتِلَ، ثُمَّ اصْطَلَحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ أُمَرَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَهَزَمَ اللهُ الْعَدُوَّ، وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ، وَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمَادَى الْأُولَى»
ترجمہ
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب ان کے امیر ہوں گے، اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ان کے امیر ہوں گے۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ مؤتہ میں ابن ابی سبرہ غسانی سے جا ملے، وہاں عیسائی عربوں اور رومیوں کی جماعتیں تھیں، اور وہاں تنوخ اور بہراء (قبائل بھی) تھے۔ ابن ابی سبرہ نے مسلمانوں کے مقابلے میں تین دن قلعہ بند رہ کر دروازے بند کر لیے، پھر وہ (دشمن) نکلے اور ایک ہری کھیتی کے میدان میں مقابلہ ہوا، سخت لڑائی ہوئی۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا تو شہید ہو گئے، پھر جعفر نے سنبھالا تو شہید ہو گئے، پھر ابن رواحہ نے سنبھالا تو شہید ہو گئے۔ پھر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ امراء کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (کو امیر بنانے) پر متفق ہو گئے، چنانچہ اللہ نے دشمن کو شکست دی اور مسلمانوں کو غالب کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جمادی الاول میں بھیجا تھا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ الْحِمْصِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: " إِنَّ أَخَاكُمْ كَانَ يَقُولُ شِعْرًا أَوْ قَوْلًا لَيْسَ مِنَ الرَّفَثِ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
[البحر الطويل]
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهُ ... إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا ... بِهِ مُوقِنَاتٌ إِنَّمَا ذَاكَ وَاقِعٌ
يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ ... إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ "
[البحر الطويل]
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهُ ... إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا ... بِهِ مُوقِنَاتٌ إِنَّمَا ذَاكَ وَاقِعٌ
يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ ... إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ "
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قصے بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے: تمہارا بھائی (یعنی عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ) ایسا شعر یا کلام کہتے تھے جو فحش گوئی میں سے نہ تھا، وہ کہتے تھے: ”ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اپنی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، جب فجر کی روشنی صاف چمکتی ہوئی پھوٹتی ہے۔ انہوں نے ہمیں اندھے پن کے بعد ہدایت دکھائی، سو ہمارے دل اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہی حق ہے، ہونے والا ہے۔ وہ (رات کو) اپنا پہلو بستر سے جدا رکھتے ہیں، جب کافروں کے بستر (سستی سے) بھاری ہو چکے ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، وَسُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ أَخًا لَكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ، يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، وَقَالَ:
[البحر الطويل]
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهُ ... إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَتَى بِالْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا ... بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ "
[البحر الطويل]
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهُ ... إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَتَى بِالْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا ... بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ "
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: تمہارا ایک بھائی فحش گوئی نہیں کرتا تھا، یعنی عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، انہوں نے کہا: ”ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اپنی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، جب فجر کی روشنی صاف چمکتی ہوئی پھوٹتی ہے۔ وہ ہمارے پاس اندھے پن کے بعد ہدایت لے کر آئے، سو ہمارے دل اس پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ سچ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ، وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ، يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ:
[البحر الطويل]
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهُ ... إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا ... بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ
يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ ... إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ "
[البحر الطويل]
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهُ ... إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا ... بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ
يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ ... إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ "
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قصے بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کر رہے تھے، فرمایا: تمہارا بھائی فحش گوئی نہیں کرتا تھا، یعنی عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، (وہ کہتے تھے): ”ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اپنی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، جب فجر کی روشنی صاف چمکتی ہوئی پھوٹتی ہے۔ انہوں نے ہمیں اندھے پن کے بعد ہدایت دکھائی، سو ہمارے دل اس پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ سچ ہے۔ وہ (رات کو) اپنا پہلو بستر سے جدا رکھتے ہیں، جب کافروں کے بستر (سستی سے) بھاری ہو چکے ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ الْمَعْمَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: " إِنَّ أَخَاكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ، يَعْنِي: عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ "
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قصے بیان کرتے ہوئے فرماتے: تمہارا بھائی فحش گوئی نہیں کرتا تھا، یعنی عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ۔