حدیث نمبر: 14013
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي تِلْكَ الْعُمْرَةِ دَخَلَهَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهْ ... إِنِّي شَهِيدٌ أَنَّهُ رَسُولُهْ
خَلُّوا فَكُلُّ الْخَيْرِ فِي رَسُولِهْ ... يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهْ
أَعْرِفُ حَقَّ اللهِ فِي قَبُولِهْ ... نَحْنُ قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهْ
كَمَا قَتَلْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهْ ... ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهْ
وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهْ "
ترجمہ

عبداللہ بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اس عمرے میں مکہ میں داخل ہوئے تو عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے یہ رجز کہہ رہے تھے: ”اے کافروں کی اولاد! راستہ چھوڑ دو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ راستہ چھوڑ دو، ساری بھلائی اسی کے رسول میں ہے، اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں اسے قبول کرنے میں اللہ کا حق پہچانتا ہوں، ہم نے (پہلے) تمہیں اس کی تنزیل (کے انکار) پر قتل کیا تھا اور اب اس کی تاویل (میں اختلاف) پر بھی قتل کریں گے، ایسی ضرب لگا کر جو سروں کو ان کی جگہ سے جدا کر دے، اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14013
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 173، حدیث 416